( شہرۂ آفاق شاعرہ پروین شاکر کی نذر ( نظم

بجھی ناوقت شمعِ زندگی پروین شاکر کی
مگر باقی ہے اب تک روشنی پروین شاکر کی

غزلخواں ہے عروسِ فکر و فن اشعار میں اُس کے
نہایت دلنشیں ہے شاعری پروین شاکر کی

غزل بن کر دھڑکتی ہے دلوں میں اہل دل کے وہ
نہ کم ہوگی کبھی بھی دلکشی پروین شاکر کی

بنالیتی ہے اپنے فکر و فن کا سب کو گرویدہ
غزل میں ہے جو عصری آگہی پروین شاکر کی

ترو تازہ ہیں گلہائے مضامیں آج بھی اُس کے
یونہی قایم رہے گی تازگی پروین شاکر کی

علمبردار تھی وہ جذبۂ احساسِ نسواں کی
نمایاں ہے کتابِ زندگی پروین شاکر کی

دلوں پر نقش ہیں برقیؔ نقوشِ جاوداں اُس کے
ہے عصری معنویت آج بھی پروین شاکر کی

(احمد علی برقیؔ اعظمی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest