کھیلنا ہے تو پاکستان جائو۔ یہ ہے آج کا ہندوستان

’’اس مکان کے لیے میں نے لوگوں سے قرض لیا مگر اب میں اس میں رہنا نہیں چاہتا‘‘ یہ الفاظ ہیں گروگرام میں اس گھر کے فیملی سربراہ محمدساجد کے جس کو بے دردی سے مارا پیٹا گیا جس کے بچوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے ڈنڈوں بھالوں سے زدوکوب کیاگیا۔ دیکھئے نفرت کی اس سیاست کو کہ ہولی جیسے تیوہار جس کو ہر مذہب کے لوگ مل کر مناتے ہیں جو صلح و آشتی کا تیوہار ہے۔ وہاں ایک کنبے کے افراد کو اس لیے مارا پیٹا گیا کہ وہ تیوہار کے دن سب چھٹی کا مزہ لے رہے تھے اور گھر کے باہر کرکٹ کھیل رہے تھے۔ تبھی دو بائیک پر سوار نوجوان آئے اور ایک لڑکے سے بولے ملّے یہاں کیوں کھیل رہا ہے، پاکستان جاکر کھیل۔ ان لوگوں نے ڈر کر کھیل چھوڑ دیا ، بیٹ اوربال ان کو دے دی اتنے میں بچوں کے چچا جن کا گھر تھاساجد وہاں آگئے ۔ انھوں نے معاملہ پوچھا اور اسی میں ایک بائیک سوار نے ان کو تھپڑ مار دیا اور واپس چلے گئے پھر وہ تیس، چالیس کے گروپ میں واپس آئے اور گھر میں گھس کر مار پیٹ شروع کردی اور تب تک مارتے رہے جب تک ان میں سے ایک بے ہوش نہیں ہوگیا۔ وہ تو اس گھر میں ہولی کھیلنے آئی اکیس سالہ لڑکی دانستہ کو جانے کیسے عقل آئی اور اس نے ویڈیو بنالی۔ اس نے ہی بتایا کہ اس کے ہاتھ میں فون تھا میں نے جب ویڈیو بنانی شروع کی تو انھوں نے چلا کر کہا اس لڑکی کو فون کے ساتھ پھینک دو۔
روح لرز رہی ہے اس منظر کو دیکھ کر اور یہ سوچ کر کہ اگر وہ تیس ، چالیس افراد اس معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا شکار بنالیتے تو کیا ہوتا جیسا کہ ان حالات میں ہوتا ہے۔ وہ تو شکر ہوا کہ وہ دروازہ نہیں توڑ سکے۔
اچھا یہ بتائیے آخر کبھی آپ نے پولیس کو وقت پر آتے دیکھا ہے کیا۔؟ کبھی پولیس نے انصاف دلانے میں مظلوموں کی مدد کی ہے؟ نہیں نا؟ یہاں بھی وہی کھیل ہوا ، گروگرام کے پولیس آفیسر منوج یادو نے وہی بچانے کی ڈپلومیسی شروع کردی کیونکہ ظالم اکثریتی فرقے سے تھے اس لیے وہ جناب اس پورے معاملے کو نظم و نسق کا معاملہ کہہ کر ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک بات اور گھر والے کہہ رہے ہیں یہ منصوبہ بند تھا اور جناب منوج یادو پولیس آفیسر کہہ رہے ہیں، یہ اچانک ہوا ایک نے کرکٹ کھیلنے پر دھمکایاتو لڑکے کے چچا نے ان کو تھپڑ مار دیا اس وجہ سے بات بڑھی۔ جناب ہم جانتے ہیں وہاں قتل عام بھی ہوجاتا تو آپ یہی کہتے۔ اب جب ویڈیو وائرل ہوئی ہے اور چاروں طرف سے لے دے مچی  ہےتو پولیس گھبرائی ہے ورنہ کسی کو بھی یہ احساس نہیں تھا۔ دبانے کی ہی کوشش  ہوتی رہی۔
راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے اس لیے مذمت کی کیونکہ الیکشن میں اپنے نمبر بڑھانے تھے۔ ہاں راجدیپ سردیسائی نے ضرور اس واقعہ پر کہا کہ سرشرم سے جھکا لینا چاہیے نفرت کی سیاست اور اس کے پروپیگنڈا میں مشین ایسا ہی کرتی ہے ہم سب شرمندہ ہیں۔
ہم سب بھی شرمندہ ہیں راجدیپ سر، حیرت یہ ہے کہ یہ اختیار کسی کو کس نے دیا کہ وہ کہیں کہ پاکستان جائو۔ اور یہ  ایک جگہ پر نہیں ہر جگہ ہورہا ہے۔مسلمان بچوں کو اسکولوں میں، کالجوں میں، اکیڈمیوں میں یہی جھیلنا پڑرہا ہے۔ ان پانچ سالوں میں ہندوستان پوری طرح فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس گیا ہے۔ الیکشن تک دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ مسلم طبقہ پوری طرح ڈرا ہوا ہے۔  اور اب تو الیکشن میں اس کے ووٹ کی بھی ضرورت نہیں ، کیونکہ آر ایس ایس نے پوری طرح ہندو ووٹ پولرائز کرکے مسلمانوں کے لیے اتنی نفرت بھردی ہے کہ اب شاید یہ خلیج پاٹنابھی اگلے 100سالوں میں مشکل نظرآتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest