جذ بۂ الفت

احسان جب سے ہسپتال میں ایڈمیٹ ہوا تھا۔ نرس اس کے برابر والے بیڈ کے قریب میز کی وسط میں گلدان میں روز باغیچے کے تازہ پھولوں کو اپنے ہا تھوں سے سجاکر رکھتی، لیکن نرس کے جانے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھتی اورگلدان کے سارے پھولوں کو نکال کر کھڑکی کے باہر پھینک دیتی اور گلدان میں پھولوں کی جگہ کانٹے رکھ دیتی اور واپس بیڈ پر آکر بیٹھ جاتی۔ کانٹوں کو دیکھ کر ایک تلخ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کے کنارے پر رینگنے لگتی ۔
اس کی حرکت کو دیکھ کر احسان کو کافی ذہنی الجھن ہورہی تھی۔آخر وہ ایساکیوں کرتی ہے؟ اس عمر میں پھولوں سے نفرت اور کانٹوں سے رغبت۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔۔؟ آخرکیوں۔۔۔۔۔؟ اس کے ذہن میں کئی طرح کے سوال امنڈ رہے تھے۔تبھی نرس اسے دو دینے آگئی۔ نرس نے اس کو خاموش دیکھا تو اسے دوا دیتے ہوئے بولی۔
’’احسان کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ ؟آج تم اتنے خاموش کیوں ہو؟‘‘
’’نہیں ۔۔۔۔۔ بس یونہی ۔‘‘اس نے دوالیتے ہوئے کہا۔
نرس دوا دیتے ہوئے تعجب خیز نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ کسی گہری سوچ کے ہجوم میں تھا،کیونکہ آج اس نے ہسپتال کے اسٹاف کی خیریت نہیں پوچھی تھی۔جب سے وہ ہسپتال میں ایڈمیٹ ہوا تھا۔ تمام اسٹاف کی خیریت بڑے خلوص سے پوچھتا تھا۔ ا س کی کیفیت دیکھ کر نرس کو تشویش ہوئی ۔ اس نے احسان سے دوبارہ مخاطب ہو کر پوچھا۔
’’احسان ! تمہاری تم ٹھیک ہو۔‘‘
’’نرس !آپ روز اس کے میز کی وسط میں گلدان میں پھول اپنے ہاتھوں سے سجا کر رکھتی ہیں،لیکن آپ کے جانے کے بعد وہ تمام پھولوں کو نکال کر پھینک دیتی ہے اور پھولوں کی جگہ گلدان میں کانٹے رکھ دیتی ہے ۔یہاں تک کہ دوا بھی نہیں لیتی ہے ۔‘‘ اس نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔‘‘
’’اچھا ۔۔۔۔۔ توتمہاری پریشانی کی وجہ یہ ہے ۔ میں جانتی ہوںکہ وہ دوانہیں لیتی ہے اور میرے جانے کے بعد تمام پھولوںکو نکال کر پھینک دیتی ہے۔‘‘ نرس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ یہ جانتے ہوئے۔۔۔۔۔ آپ اس کے لئے گلدان میں پھول سجاتی ہیں۔وہ آپ کی کون لگتی ہے۔ ‘‘ اس نے سوالیاں نظروں سے نرس کی طر ف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اس ہسپتال میں سبھی مریض میرے دل کے بہت قریب ہیں۔ان کے ساتھ ہمارا رشتہ انسانیت کا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن اس ہسپتال کے سبھی مریضوں میں مینا میرے دل کے بہت قریب ہے۔‘‘
’’ اس کا نام مینا ہے ۔‘‘احسان نے چونکتے ہوئے کہا۔
’’ اس کا نام مینا اس ہسپتال کے ڈاکڑ س اور نرس نے رکھا ہے ۔یہاں کے سبھی اسٹاف اسے بہت چاہتے ہیں۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ ایک دن اسے ان پھولوں سے پیار ہو جائے۔‘‘
’’نرس اس کا نام مینا نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ مس کڑک ہونا چاہئے تھا۔اس کے گھر والے اسے کیسے برداشت کرتے ہوں گے۔ ‘‘ اس نے مصنوعی غصہ سے کہا۔
’’مینا کو ان دنوں ڈپریشن کی شکایت ہو گئی ہے۔ ‘‘ نرس نے کہا
’’ہر وقت غصے میں رہے گی اور کسی سے بات نہیں کرے گی تو اسے ڈپریشن یقیناہوگا ۔ نرس اس کا ہر وقت چپ رہنا ۔۔۔۔۔کسی سے بات نہیں کرنا ۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کسی نے اسے ۔۔۔۔۔ پیار میں دھوکہ دیا ہوگا۔ ‘‘ احسان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اور بھی غم ہیں ۔۔۔۔۔ زمانے میں محبت کے سوا۔ ‘‘نرس نے آہستہ سے کہا۔
’’میں نہیں مانتا نرس ۔۔۔۔۔ کہ اسے محبت کے سوا کوئی اور بھی غم ہے۔‘‘
’’ اس کے رشتہ دار ۔۔۔۔۔ اسے ایڈمیٹ کراکر گئے تودوبارہ اس کا حال پوچھنے نہیں آئے۔ ‘‘
’’ کیوں۔۔۔۔۔؟‘‘احسان نے حیرت سے پوچھا۔
’’پتہ نہیں۔۔۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کرترس آتا ہے۔‘‘ نرس نے آہ بھرتے کہا۔
’’ اس کے اپنوں نے اس کے ساتھ اتنی ۔۔۔۔۔ زیادتی کی ہے؟‘‘ احسان نے نرس سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔۔۔اور اس کے خاموش رہنے کی وجہ یہی ہے ۔اس لئے ا سے ڈپریشن ہو گیاہے اور اس کو تمہاری طرح دل میں سراخ بھی ہے ۔اس لئے میں چاہتی ہوں کہ تم اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا ئو ۔۔۔۔۔ اس سے بات کرو گے تو وہ ڈپریشن سے باہر آ سکتی ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔۔!‘‘
’’ورنہ ۔۔۔۔۔کیا نرس۔۔۔۔۔؟‘‘ احسان نے فکر مند لہجہ میں کہا۔
’’اس کا ڈپریشن ۔۔۔۔۔ اس کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘نرس کی بات سن کر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔
ایک روز احسان کو دل میں شدید درد اٹھا۔اسی روز اسے بھی دل میں درد اٹھا۔ ڈاکڑ نے اسے انجکشن دیا۔جس سے کچھ دیر کے بعد وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس کو کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی ۔ اسے زور کی پیاس بھی لگی ہوئی تھی۔اس نے پانی کا گلاس لینے کے لئے میز پر ہاتھ بڑھایا ۔تبھی اس کی نظر مینا پر جا کر ٹھہر گئی۔ دل میں درد دونوں کو ایک ساتھ اٹھا تھا۔اسے ابھی بھی کمزوری محسوس ہو رہی تھی لیکن وہ بڑے اطمینان سے بیٹھی میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی۔تبھی اس کے ہاتھ سے گلاس میز سے ٹکرا کرفرش پر گر گیا۔ گلاس کی کرچیاں فرش پر بکھر گئی تووہ چونک پڑی اور نگاہ طیش سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔احسان جھک کرگلاس کی کرچیاںاٹھانے لگا۔
’’ان کرچیوں کو نہ اٹھائیں۔۔۔۔۔ آپ کے ہاتھ میںچبھ جائے گا۔ میں اٹھا کر پھینک دو گی ۔‘‘
ایک پیاری سی آواز اس کے سمت سے ٹکرائی۔اس نے سر اٹھا کر دیکھاتومینا گلاس کی کرچیوں کے پاس کھڑی تھی۔ اس نے آج پہلی بار اس کی آواز سنی تھی۔
’’یہ کرچیاں تمہیں نہیں چبھے گی ۔ ‘‘ احسان نے کرچیاں اٹھاتے ہوئے کہا۔
مینا نے بے خیالی کے عالم میں اس کے ہاتھ سے کر چیاں لی تو اس کی انگلی میں چبھ گئے۔جن سے خون نکلنے لگا۔اس کی انگلی سے خون نکلتا ہوا دیکھ کر احسان نے اس کی انگلی اپنے ہاتھ میں دبا لی تاکہ خون زیادہ نہ بہے لیکن اس نے فوراََ اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی۔خون اس کی انگلی سے اب بھی جاری تھا۔ احسان اس کے بیڈ کے قریب آکر بیٹھ گیا اور زخم پر پٹی باندھنے لگا۔ وہ سست نگاہوں سے ز خم پر بندھی پٹی کو دیکھتی رہی ۔
’’امی ابوکے بعد۔۔۔۔۔آج پہلی بار کسی نے میرے زخم پر پٹی باندھی ہے۔‘‘اس نے آہستہ سے کہا۔
’’تم اتنے بڑے زخم کیسے برداشت کر لیتی ہو۔‘‘ احسان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کی بات سن کر وہ مصنوعی مسکراہٹ اپنے لب پر لاتے ہوئے بولی۔
’’جب اپنوں کے دئے تمام درد کوبرداشت کر لیا تو۔۔۔۔۔پھر ۔۔۔۔۔یہ دل تو میرا اپنا ہے ۔ اس کے دھڑکنے سے میں زندہ رہوں گی ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ رک جانے سے مر جائوں گی، لیکن مرنے کے بعد بھی ۔۔۔۔۔ میرا دل ۔۔۔۔۔ میرے جسم سے الگ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ بلکہ میرے جسم کے ساتھ دفن ہوگا۔ ‘‘وہ نگاہ طیش سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے تلخ لہجے میں بولی۔
احسان نے دیکھا اس کی طیش نگاہوں اور تلخ لہجے کے بیچ اس کی آنکھوں میں کرب تھا۔
’’جانتے ہیں احسان مینا نے آہستہ سے کہا ۔۔۔۔۔ !‘‘
اس نے چونک کر مینا کی طرف دیکھا۔آج اس نے اسے نام سے مخاطب کیا تھا۔
’’تم میرا نام ۔۔۔۔۔جانتی ہو۔ ‘‘احسان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’میں خاموش ضرور رہتی ہو ں،لیکن بہری نہیں ہوں۔نرس سے کئی بار آپ کا نام سن چکی ہوں ۔‘‘
’’اچھا۔۔۔۔۔ !‘‘
احسان نے آہستہ سے لب کشائی کی۔
’’ احسان !یہ خونی رشتے بھائی بہن کے سب و قت کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ یہ رشتے بچپن میں ہی اچھے لگتے ہیں۔یہی رشتے بڑے ہونے کے بعد زخم بھی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ زخم غیروں سے ملتا ہے تو انسان سنبھل جاتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن زخم جب اپنوں سے ملتا ہے توانسان کا سنبھلنا مشکل ہو جاتا ہے۔جانتے ہیں احسان والدین کی آنکھ بند ہونے کے بعد یہی لوگ اپنے سے چھوٹے کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔جب چھوٹا کسی بیماری میں مبتلا ہو جاتاہے تواسے ہمیشہ کے لئے گھر سے نکال کر ہسپتال میں چھوڑ آتے ہیں۔کبھی پلٹ کر نہیں دیکھتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہے ۔۔۔۔۔۔ مر رہا ہے۔۔۔۔۔ یا جی رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجھے پھولوں سے نفرت۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔کانٹوں سے پیار ہے ۔۔۔۔۔کانٹے زخم ضرور دیتے ہیں،لیکن یہ پھولوں کی طرح مرجھاتے نہیںہیں۔ ‘‘
بولتے بولتے اس کی آنکھ بھیگ گئی اورآواز بھراگئی ضبط کے باوجود آنسو اس کی آنکھوں سے گرتے چلے گئے۔اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کراحسان کا دل بھی اندر سے رونے لگا اور فرط جذبات سے مغموم ہو کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
’’مینا!خود کو آنسو کبھی نہ بنائو ۔۔۔۔۔ بلکہ ایک مسکراہٹ بن کر جینا سیکھو۔۔۔۔۔اور آج کے بعدخود کو اکیلاکبھی نہ سمجھنا۔ میںتمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
احسان نے اس کے ہاتھ پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھتے ہوئے کہالیکن اس نے فورََا ہاتھ کھینچ لیا اور روکھے لہجہ میں بولی ۔
’’ مجھے کسی کی ہمدردی نہیںچاہئے ۔۔۔۔۔ آپ ہارٹ سرجری کے بعد اپنے گھر چلے جائیں گے ۔۔۔۔۔ اپنی نئی زندگی کا آغازکریںگے۔اس ہسپتال میں۔۔۔۔۔ اس بیڈ پر۔۔۔۔۔ میں اکیلے رہ جائوں گی۔ اس لئے مجھے کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔ اورنہ ہی میں کسی رشتے پر یقین کرتی ہوں ۔‘‘
’’مینا سبھی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔پیار کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا ہے۔ مرنے کے بعد بھی دنیا اسے ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔اس لئے۔۔۔۔۔ مینامیںچاہتا ہوں کہ ہم دونوں کے دل میں جو سراخ ہے۔ ایک دوسرے کے پیار سے بھرا جائے۔‘‘
’’پیار۔۔۔۔۔!‘‘
مینا نے فرط حیرت سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں مینا ! میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں۔ ‘‘
احسان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
لفظ ۔۔۔۔۔پیارسن کر میناکی آنکھیں غصہ سے لال ہو گئی اور ایک قہرآلود نگاہ اس پر ڈالی اور کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی اور آہستہ سے کہا ۔
’’ میرے ساتھ آپ دو قدم ساتھ چلیں گے تو صرف کانٹے ہی کانٹے ملیں گے۔‘‘
’’مینا ! میں ان تمام کانٹوں کو چن لوں گا ۔۔۔۔۔ ایک بار میری زندگی میں قدم رکھ دو۔ ‘‘ احسان نے اس کے مقابل کھڑے ہو کر کہا۔
ــ’’نہیں احسان۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔پلیز مجھے سبزباغ نہ دیکھائیں،میری زندگی ہسپتال سے شروع ہوئی ہے اور ایک دن ہسپتال میں ہی ختم ہو جائے گی۔میرا دل ریگستان ہو چکا ہے۔جہاں محبت کے پھول اب کبھی نہیں کھلیں گے۔ ‘‘ اور وہ اس وارڈ سے نکل کر دوسرے وارڈ میں شفٹ ہو گئی۔
’’مینا تم مجھ سے جتنی دور جائو گی ۔۔۔۔۔ تمہارے دل کے ریگستان میں میری محبت کے پھول ایک دن ضرور کھلیں گے۔۔۔۔۔ کیونکہ میری محبت تمہارے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھی ہے۔
احسان نے ڈاکڑ سے کہہ کر مینا کے ہارٹ کی سرجری کرائی۔اس کے بعد اپنے ہارٹ کی سرجری کرائی۔آج وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو رہا تھا۔اس کے جانے کی خبر سن کر مینا کا دل بے قرار ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ اور اس کا دل جذبۂ الفت کواپنے اندر جگہ دے رہا تھا۔احسا ن جانے سے پہلے اس کے وارڈ میں آیا۔
’’مینا۔۔۔۔۔ !‘‘ اس نے آہستہ سے پکارا۔
مینانے بھیگی پلکیں اٹھاکر ا س کی طر ف دیکھا اور نظر نیچی کر لی۔احسان نے دیکھا اس کے بیڈ کے پاس میز کی وسط میں گلدان میں آج کانٹے نہیںبلکہ رنگ برنگے خوبصورت تازے پھول رکھے ہوئے تھے۔یہ دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ دوڑ گئی۔اس نے اپنا ہاتھ جذبۂ الفت سے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’مینا !اب چلیں۔۔۔۔۔!!‘‘
مینانے پرنم آنکھو ں سے اس کی طرف دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔ احسان اس کا ہاتھ تھام کر وارڈ کے باہر آگیا۔جہاں ایک خوبصورت کار سجی ہوئی کھڑی تھی۔اس نے کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو مینا!مسرت وشادمانی کی پر کیف بہاریں تمہاری نئی زندگی کے سفر میں ساتھ چلنے کے لئے کھڑی ہے۔‘‘
مینا احسان کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ نئی زندگی کی طرف قدم بڑھا رہی تھی۔اس کے چاروں طرف گل مہر کے پھولوں کی بھینی بھینی میٹھی خوشبو فضا میں بکھری ہوئی تھی۔گل مہر کے پھولوں سے پوری فضا میں ایک نغمگی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ایسے میں اس نے سوچا کہ مینا کو اپنی بانہوں میں قید کر لے لیکن ہسپتال کے تمام اسٹاف دونوں کو بسٹ سی آف کرنے گیٹ پر کھڑے تھے اور ان پر پھولوں کی بارش کر رہے تھے ،ان کا لحاظ کر کے وہ رک گیا۔

رمانہ تبسم،پٹنہ سیٹی
رابطہ۔.9973889970

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest