اورینٹل اسٹڈیزتاشقند کا تعلیمی نظام اور علمی ماحول

.پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

تاشقند اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کی دعوت پر تاشقند جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات تھی کہ اس ادارے نے مہمان پروفیسر کے طور پر لیکچرز دینے کے لیے مدعو کیا۔ میں شکر گزار ہوں ڈاکٹر محیا عبد الرحمانوا کا کہ انھو ں نے میرے نام کی تجویز اپنی یونیورسٹی میں پیش کی اور جنوب ایشیائی زبانوں کے شعبے کی صدر پروفیسر الفت محب نے تما م کاروارئی مکمل کی ۔اس انسٹی ٹیوٹ میں بی۔ اے سے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم کا نظم ہے۔تاشقند جانے سے قبل اس شعبے کے بیشتر اساتذہ سے دہلی میں ملاقات تھی اور جن اساتذہ سے ملاقات نہیں تھی ان کے بارے میں دہلی میں تعلیم حاصل کر رہے تاشقند کے طالب علموں نے بتایا تھا اس لیے تاشقند جاتے ہوئے مجھے بالکل بھی اجنبیت کا احساس نہیں تھا کہ میں کسی غیر ملک میں جارہا ہوں۔ 24 اپریل کی رات جب تاشقند ائیر پورٹ پر اترا تو تاریخ بدل چکی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ ڈاکٹر محیا اور پرو فیسر الفت ائیر پورٹ کے باہر میرے لیے منتظر ہیں۔میں شرمندہ ہورہا تھا کہ رات آدھی گزر گئی ہے اور یہ دو محترم خواتین میرے لیے زحمت کر رہی ہیں۔ ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی سرد ہواؤں کی جھونکوں نے میرا استقبال کیا اور تاشقند کی مٹی کی سوندھی خوشبو نے مشام جاں کو معطر کر دیا۔ کچھ ہی دیر قبل بارش رکی تھی اس لیے موسم کافی خوشگوار تھا ، خنکی بڑھ چکی تھی لیکن ڈاکٹر محیا اور پرو فیسر الفت نے جس گرمجوشی سے میرا ستقبال کیا اس نے اس موسم کی سرد ہواؤں کو مات دے دی۔ ان کے ہمراہ انسٹی ٹیوٹ کے مہمان خانے پہنچا ، انھوں نے وہاں ضرورت کی تمام چیزوں کا پہلے سے انتظام کر رکھا تھا اس لیے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔رات کے دو بج چکے تھے اس لیے انھیں رخصت کرتے ہی بستر پر دراز ہوگیا دہلی کی گرمی سے آکر لحاف میں سونے کا لطف ہی کچھ اور تھا اس لیے بہت اچھی نیندآئی۔لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ اگر یہ چاہتے تو کسی طالب علم کو مجھے لینے کے لیے بھیج سکتے تھے مگر خود دونوں معزز خواتین اساتذہ نے ائیر پور ٹ آکر یہ تاثر دیا کہ ازبکستا ن کے لوگ مہمان نواز ہیں۔
دوسرے دن صبح ڈاکٹر محیا صاحبہ کے گھر ناشتہ کی دعوت تھی ، پر تکلف ازبکی ناشتے کا لطف لیا اور کچھ ضروری کام کے بعد ان کے ہمراہ انسٹی ٹیوٹ پہنچا ، بہت ہی والہانہ انداز میں شعبے کے اساتذہ نے مصافحہ کیا اور پرخلوص استقبال کیا۔ چونکہ اس دن مجھے کلاس نہیں لینی تھی اس لیے نصاب تعلیم پر گفتگو کی اور اپنی کلاسوں کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ تقریباً دو گھنٹے صدر شعبہ کے کمرے میں موجود رہا ، پروفیسر الفت صاحبہ مستقل دفتری کاموں میں مصروف رہیں لیکن جس لمحے انھیں فرصت ملتی میری خیریت دریافت کرلیتیں اور یہ کہتیں کہ مطمئن رہیں آپ کو یہاں کسی طرح کی تکلیف نہیں ہوگی ، ان کے ملنے جلنے کے انداز سے مجھے محسوس ہوچکا تھا کہ یہاں کا ماحول بڑا خوشگوار ہے۔ڈاکٹر محیا کو میری زیادہ فکر تھی کیونکہ انھیں کی تجویز سے میں تاشقند پہنچا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر لولا مکتوبہ سے ملاقات ہوئی ، مجھے لگاہی نہیں کہ ان سے پہلی مرتبہ ملاقات ہورہی ہے۔انھوں نے ہر ممکن تعاون پیش کیا اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔اس دوران کمرے میں طالب علموں کے آنے جانے کا سلسلہ چلتا رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ انھیں میرے آنے کی اطلاع تھی لہذا ہر آنے والے طلب علم نے مجھے قیاس سے پہچانا کہ یہی ہندستانی استاد ہیں ، سب نے بڑے احترام اور تشویق سے سلام کیا۔کمرے میں داخل ہونے والے طلبہ وطالبات سے اساتذہ جس خلوص اور اپنائیت سے باتیں کر رہے تھے یہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور دل میں سوچا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں اساتذہ اور طالب علوں کے درمیان ایسا سلوک یقیناً تعلیمی ماحول میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔
جس دن میری پہلی کلاس تھی ڈاکٹر محیا میرے ساتھ کلاس روم میں موجود تھیں، انھوں نے میرا تعارف ازبکی زبان میں کرایا زبان سمجھنا تو مشکل تھا مگرطلبہ و طالبات کے چہرے اوربشرے سے خوشی کے تاثرات نمایاں تھے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں ایک کلاس اسی(۸۰) منٹ کا ہوتاہے اور مجھے مسلسل دو کلاسیں لینی تھیں۔ میں نے ان کا عندیہ معلوم کیا کہ وہ کیا پڑھنا چاہتے ہیں ، ڈاکٹر محیا اور تمام طلبہ و طالبات نے اردو گرامر پڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے بھی اس انسٹی ٹیوٹ کے نصاب کے مطابق پاؤر پوائنٹ کے ذریعے اسباق تیار کر رکھے تھے۔ کلاس شروع ہوئی تو طالب علموں کے نے جس اشتیاق سے درس میں حصہ لیا وہ میرے لیے باعث مسرت تھا کیونکہ یہ پہلی جماعت کی کلاس تھی یعنی بی۔ اے سال اول جس میں اردو ہندی دونوں زبانوں کے طالب علم ایک ساتھ موجود تھے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اردو سمجھ پائیں گے لیکن وہ جس طرح میری باتوں کو سمجھ رہے تھے اس سے مجھے انداز ہ ہوا کہ اساتذہ نے ان پر خوب محنت کی ہے ورنہ چھ ساتھ مہینوں میں کسی دوسری زبان پر ایسی مہارت ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کے نصاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ تمام اردو والوں کو ہندی ایک سبجیکٹ کے طور پر اور ہندی والوں کو اردو ایک سبجیکٹ کے طور پر لازماً پڑھنا ہوتاہے۔ اسی منٹ کا وقت کب ختم ہوا معلوم نہیں ہوا۔ کچھ وقفے کے بعد یہی کلاس دوبارہ شروع ہوئی۔ اتنی دیر میں تمام طالب علم مجھ سے مانوس ہوچکے تھے جو تھوڑی بہت اجنبیت کا احساس تھا وہ بالکل ختم ہوچکا تھا۔
ہر روز گیارہ بجے، آدھے گھنٹے کا وقفہ ہوتا، یہ وقفہ یاد گار رہا کیونکہ اس وقت اسٹاف روم میں تمام اساتذہ ایک ساتھ بیٹھ کر چائے ناشتہ کرتے ، ہر استاد اپنے گھر سے کچھ لے کر آتے اور ساتھ مل کر چائے اور ناشتے کے ساتھ خوش گپی کرتے۔ تمام اساتذہ نے میراخاص خیال رکھا اور ہر روز نئے ازبکی کھانے کا لطف ملا۔ محترمہ خمارہ صاحبہ بڑے خلوص سے چائے تیار کرتیں اور سب کو پیش کرتیں۔یہ ماحول دیکھ کر میں بے انتہا خوش تھا۔
دو تین اہم باتیں جس کو میں نے ستائش کی نظروں سے دیکھا وہ یہ کہ کلاسیں صبح کے ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوتی تھیں اس لیے اساتذ ہ اور طالب علم سب وقت سے پہلے کلاس میں موجود ہوتے۔مین گیٹ پر ہر روز کچھ آفیسران موجود ہوتے جو یہ دیکھتے کہ طلبہ و طالبات صحیح لباس میں آرہے ہیں یا نہیں۔ کلاس شروع ہوتے ہی ہر کلاس روم میں یہ آفیسران رجسٹر لے کر پہنچتے ، مجھے معلوم نہیں ہوا کہ کونسا رجسٹر ہے لیکن اتنا اندازہ ہو ا کہ ٹائم ٹیبل میں جو کلاس درج ہے وہ ہوری ہے یا نہیں ، استاد موجود ہیں یا نہیں اور طالب علموں کی اتنی تعداد موجود ہے یا نہیں۔ یہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ تعلیم کے معاملے میں انسٹی ٹیوٹ کا نظام سخت ہے۔ ایک طالب علم نے مجھے بتایا کہ اگر ورکنگ ڈے میں ہم طالب علم شہر یا شہر کے باہر جانا چاہیں تو ممکن نہیں کیونکہ پولیس دریافت کر لیتی ہے کہ پڑھائی چھوڑ کر کہاں سیر وتفریح ہورہی ہے۔ یہ بات بہت اچھی لگی اور اندازہ ہوا کہ اس ملک میں تعلیم کا گراف کیوں اتنا اوپر ہے۔اپنی تینوں جماعت کی کلاسوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ پائی اور لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں تعلیم میں زیادہ سنجیدہ نظر آئیں۔میں اپنے علمی اسفار میں اس سفر کو بھی بہ نظر تحسین دیکھتا ہوں کہ تاشقند جیسے عالمی شہرت یافتہ شہر میں اردو کی شمع روشن کرنے والے موجودہیں ، ان سب سے ملاقات میرے لیے ایک نعمت سے کم نہیں البتہ انسٹی ٹیوٹ کے ریکٹر صاحب سے ان کی مصروفیات کے سبب ملاقات نہیں ہوسکی جس کا قلق ہے لیکن اس کمی کو نائب ریکٹر جنابن نادر وعبد اللہ صاحب نے پوری کی ، ان سے خوشگوار ملاقات رہی۔
اس انسٹی ٹیوٹ نے اردو ہندی ممالک یعنی ہندستان، پاکستان سے اپنا رشتہ ہموار رکھا ہے، ہر سال طلبہ وطالبات زیادہ تر ہندستانی اور کچھ پاکستانی وظیفے پر ان ممالک میں اعلی ٰ تعلیم کے لیے جاتے ہیں۔ حکومت ہند کی جانب سے اس انسٹی ٹیوٹ میں مہاتما گاندھی کے نام سے ایک ہا ل تیار کیا ہے جسے ’’ ہندستانی سینٹر کہا جاتا ہے اور پاکستان نے بھی ایک ہال بنوایا ہے جو اس سے قدرے چھوٹا ہے اسے ’’ پاکستانی کورنر ‘‘ کہا جاتا ہے۔لال بہادر شاستری سینٹر فار انڈین کلچر کی جانب سے بھی ان کی مستقل حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔مگر اس رشتے اور آمدو رفت کے سلسلے کو مزید بڑھاوا دینے کی ضرورت ہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ وطالبات کو اہل زبان کے ساتھ رہنے اور ان کی تہذب کو سمجھنے میں آسانی ہو۔مرکزی ایشیا میں چونکہ ازبکستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، اس لیے اس ملک کو ہندستان جیسے عظیم ملک کے ساتھ مزید تعلیمی معاہدے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان ممالک کے لیے زبان اور اقتصاد کی سمت میں مزید ترقی کے امکانات روشن ہو سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest