آن لائن

سیدہ تبسم منظور ناڈکر ۔ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

آن لائن آن لائن آن لائن پوری دنیا میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہے اور مرض بھی کیسا کینسر سے بھی خطرناک۔۔۔اس کا کوئی علاج بھی نہیں۔۔۔۔اور اس بیماری کی لپٹ میں ہو رہا ہے سارے رشتوں کا خون!!!!
ايک معاشرہ مختلف افراد سے مل کر بنتا ہے۔ آپسی تعلقات اور ان کي نوعيت الگ الگ ہوتی ہے۔آج کے دور کو کميونيکيشن کا دور کہا جاتا ہے۔ اس میں رابطے کے جديد وسائل موجود ہیں۔ جس کی وجہ سے آپسی تعلقات اور سماجی رابطوں ميں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا سیمٹ کر مٹھی میں آگئی ہے۔ اور ميڈيا کے ماہرين ان رابطوں ميں اضافے کے لئے نئی نئی تجويز یا پالسی کہیںۓ لوگوں کے سامنے لاتے ہیں۔ جس میں فیس بک اور واٹسپ سب سے آگے ہیں۔ اور اس سے زيادہ آسانياں پيدا ہوگئی ہے۔ انسانوں کے باہمی فاصلوں کو تقريبا ختم کر ديا پے۔جن خبروں کو پہنچنے میں گھنٹوں لگتے تھے۔اب منٹوں میں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔
فیس بک اور واٹسپ ایک ایسی سوشل سائٹ بن گئی ہے جو کہ کوئی بھی آسانی سے استعمال کر سکتا ہے۔ بچے ہو جوان ہو یا بوڑھے ہر کوئی اس کا استعمال کر رہا ہے اور یہ رجحان دن با دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جہاں اس کے بہت سے فائدے ہیں اس کے نقصانات بھی ہیں۔ نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد اور نوجوان ہی کیوں بلکہ ہر کوئی فیس بک اور واٹسپ استعمال کر رہا ہے۔ جس سے وہ اپنا قیمتی وقت فیس بک اور واٹسپ کی نظر کرنے میں لگے ہیں۔ فیس بک اور واٹسپ کی وجہ سے نوجوان سستی اور کاہلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس سے بچے، نوجوانوں اور بڑے بزرگ غلط فہمیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
واٹسپ اور فیس بک ہماری زندگی میں اس طرح داخل ہوچکا ہے کہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے۔جیسے کہ یہ ایک طلسمات کا شہر ہو اس کے اندر تو جا سکتے ہیں مگر باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔
فیس بک اور واٹسپ کا نشہ کچھ ایسا چڑھا ہے کہ چھوٹا ہو یا بڑا بوڑھا ہو یا جوان ہر کوئی اس میں مبتلا نظر آتا یے۔
لیکن ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب لوگ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے سب سے پہلے ایک یہی کام کرتے نظر آتے ہیں فیس بک واٹسپ آج کل کے نوجوان بڑی خوشی کے ساتھ اپنا قیمتی وقت آن لائن رہ کر ضائع کر رہے ہیں۔ معاشرے میں پیش آنے والے ہر مسئلے کا ذمہ دار سوشل میڈیا کو ٹھہرانا بھی غلط ہے کیونکہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں مثبت اور منفی اب فیس بک اور واٹسپ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائے ہے یا پھر اپنے لئے نقصان کو دعوت دیتے ہیں ۔
یہ بات افسوس ناک ہے کہ فیس بک اور واٹسپ کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ اپنا ذیادہ تر وقت آن لائن گزارتے ہیں جس کی وجہ سے رشتوں میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے جو کہ بہت خطرناک صورت حال ہے۔ آج کل فیس بک اور واٹسپ کی دوستیوں نے اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں سے دور کردیا ہے۔ لوگ اپنا زیادہ تر وقت دوسروں کی پوسٹ اور اسٹیٹس پڑھنے اور اپنا اسٹیٹس اپلوڈ کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ہر وقت آن لائن رہنے کے اس نشے نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں سے غافل کر دیا ہے۔ رات گئے تک آن لائن رہتے ہیں۔ مرد حضرات جو باہر ممالک میں رہتے ہیں اپنی نوکری، روزی روٹی کی خاطر، وہاں کے وقت اور یہاں کے وقت میں فرق ہے۔۔۔۔وہ وہاں ہر وقت آن لائن ہوتے ہیں، یہاں ان کی بیوی بہن بیٹی آن لائن ہوتی ہے۔ رات گئے تک بس ٹائم پاس کرنا ہے۔اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔کیونکہ فیس بک اور واٹسپ پر دوستی کرکے غلط راہ پر نکل پڑتے ہیں۔ اسی کے سبب رشتوں میں دوری، حسد اور دشمنی کے جذبات کو جگا رہے ہیں۔ شوہر بیوی میں جھگڑے گھریلو تنازعات فیس بک اور واٹسپ پر ہر وقت آن لائن رہنے کی ہی دین ہے۔۔۔کئی طلاق تو اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ مرد شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی عورت سے چکر چلاتے یا ساری رات کسی شادی شدہ عورت یا کسی لڑکی سے فیس بک یا واٹسیپ پر باتیں کرنے کا شوق دل میں ہو تو رات گئے تک چیٹنگ کرتے ہیں۔ اور اس میں دونوں قصوروار ہوتے ہیں۔ کئی طلاق تو اسی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ فیس بک اور واٹسپ کا ہی تحفہ ہے۔ کئی مرد اگر کسی عورت کو فیس بک یا واٹسیپ پر آن لائن دیکھتے ہیں تو فورأ میسنجر پر میسج بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔ کئی لوگ تو یہاں وہاں سے فون نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔ اور پھر میسج کر کر کے پریشان کیا جاتا ہے۔یا میسنجر پر کال آتے ہیں۔ نہیں ریپلے ہوا تو پھر اسے مغرور یا گھمنڈی کے خطاب سے نوازہ جاتاہے۔ فیس بک کے ذریعے بہت سارے لوگ دھوکے میں آتے ہیں۔ اور نقصان اٹھاتے ہیں۔
فیس بک اور واٹسپ ایک سہولت ہے اسے اچھے مقصد کیلئے استعمال کرنا چائیے نہ کہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کیلئے کیونکہ اگر ہم اس کو صحیح طرح سے استعمال کریں گے تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ فیس بک ضرورت کے تحت استعمال کرنی چائیے تاکہ اس سے فائدہ ہو اور لوگ غلط فہمیوں کا شکار نہ ہوں۔
فیس بک اور واٹسپ کا استعمال اعتدال کے ساتھ اور ایک حد کے اندر رہ کر کریں۔ آن لائن ہونے کا ایک وقت مقرر کر لیں اسکے بعد اپنا موبائل سائٹ میں رکھ دیں فیس بک اور واٹسپ اکاؤنٹ پر ہر وقت آن لائن نہ رہیں۔ بلکہ یہ وقت اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر اور انکے ساتھ ہنستے بولتے ہوئے گزاریں۔ ہمیں جو سہولیات فراہم ہوئی ہیں اس کا فائدہ اچھے کاموں کے لیے اور ضرورت کے حساب سے کریں۔ اور اپنی دل لگی کے لیے اوروں کو پریشان نا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram