یہ پرانی دہلی کی فضا خراب کرنے کی سازش ہے۔ ڈاکٹروسیم راشد

ڈاکٹر وسیم راشد

شر پسند عناصر سرگرم ہیں اپنی نسلوں کو ان سے بچائو
پرانی دہلی وہ گنجان علاقہ ہے جہاں ہندو مسلمان برسوں سے رہ رہے ہیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دیتے ہیں ایک دوسرے کے تیج تہوار ساتھ ملکر مناتے ہیں ہندو بہنیں مسلم بھائیوں کو راکھی باندھتی ہیں اور مسلم بھائی بھی اپنی بہنوں کے گھر راکھی والے دن خوب نہا دھوکر تحفے لیکر جاتے ہیں ۔لیکن کچھ دن سے شر پسندوں کو یہ سکون کا ماحول پسند نہیں آرہا اور کل بروز پیر ایک چھوٹی سی بات پر پورے دن پرانی دہلی کے سبھی علاقون میں افواہوں کا بازار گرم رہا ۔ہوا کیا تھا یہ کسی کو بھی پوری طرح نہیں معلوم آئیے ہم بتاتے ہیں وہاں کیا ہوا
دو آدمیوں میں صرف پارکنگ کو لیکر لڑائی ہوئی تھی لڑائی تھوڑی ہاتھا پائی تک پہنچتی ہے اور ایک آدمی کو معمولی سی چوٹ لگتی ہے لیکن اسی دوران یہ افواہ گردش کرنے لگتی ہے کہ لال کنویں پر موب لنچنگ ہوئی ہے آپ سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت پورے ملک میں تبریز انصاری کو لیکر برابر احتجاج ہورہا ہے ایسے میں اس طرح کی افواہیں آگ میں تیل کی طرح کام کرتی ہیں اور یہی پرانی دہلی میں ہوا ۔اس افواہ سے حوض قاضی پولیس اسٹیشن کے باہر لوگ جمع ہوکر نعرے بازی کرنے لگے ظاہر ہے یہ لوگ مسلم فرقے کے تھے اس دوران کسی نے ویڈیو واٹس ایپ پر ڈال دیا اور لوگوں نے اشتعال میں آکر پتھرائو شروع کردیا جس سے قریب کا وہ مندر جو ہم پرانی دہلی والے برسوں سے دیکھتے آرہے ہیں اس کے شیشے ٹوٹ گئے  اس تعلق سے بھی ایک ویڈیو آگئی جسے ا یک ہندو بھائی نےاس ویڈیوکو سب جگہ شئیر کردیا اور اپیل کی کہ ہمارے مندر توڑے گئے ہیں اس لئے ہم سب کو جمع ہونا ہے ۔ہندو بھائیوں کو یہ میسیج بھی جاتا ہے کہ ہمارے پنڈت کو مارا ہے جبکہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں ہماری وہاں کے کچھ لوگوں سے بات بھی ہوئی ہے مرہم فائونڈیشن کے بانی ارتضا قریشی کی ویڈیو اس ضمن میں ہم نے دیکھی ہے جسمیں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ صرف افواہوں کی وجہ سے ہی ماحول خراب ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ بھی بڑی افواہ پھیلی کہ فتح پوری مسجد میں کچھ بجرنگ دل کے لوگ گھس گئے لیکن وہ بھی صرف افواہ تھی خود مفتی مکرم نے اس ضمن میں ایک ویڈیو بناکر لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے ان کا کہنا ہے کہ مندر کے نام پر کچھ لوگ ماحول خراب کررہے ہیں اگر کوئی نقصان ہوا ہے تو علاقے کے مسلمانوں کو مندر کی دوبارہ مرمت کرانی چاہئے اور ۔شیشے لگوادینے چاہئیں۔ آج بھی پورا دن اسی طرح کی افواہوں کا بازار گرم رہا ۔جس لڑکے کو چوٹ لگی تھی وہ بھی ٹھیک ہے اور معمولی سی چوٹین ہی اس کو آئی ہیں
ہمیں یاد ہے ہمارے ہوش میں کئی بار پرانی دہلی میں فساد ہوا اور کرفیو بھی لگا لیکن خدا کا شکر ہے ہمارے بچوں نے ابھی تک کرفیو والا ماحول نہ دیکھا ہے نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ کرفیو کیا ہوتا ہے کیسے لگایا جاتا ہے ۔ہم نے اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں پر وحشیانہ حملے ہوتے سنے ہیں دیکھے نہیں لیکن اس وقت بھی پرانی دہلی کا ماحول خراب نہیں ہوا تھا ۔ہاں ایمرجنسی کا وقت اور ترکمان گیٹ پر جو بلڈوزرچلائے گئے اس وقت کا منظر آج بھی آنکھوں کو یاد ہے 1993 کے بعد سے پرانی دہلی میں ہمیشہ امن و سکون رہا ہے وہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی لوگ مثال دیتے ہیں ایسے میں علاقے کے لوگوں کی زمہ داری بڑھ جاتی ہے ان کو چاہئے کہ آپس مین ملکر بیٹھیں اورکھل کر بات کریں کیونکہ اس فرقہ پرستی سے کسی کا فائدہ نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوگاایک اور بات سوشل میڈیا اس وقت بہت خطرناک ہے اس پر جو بھی ویڈیو آئے اس پر فوری طور پر یقین نہ کریں ملک کا ماحول خراب کرنے اور نفرت پھیلانے میں اس کا بھی اہم کردار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram