کیا نچلے طبقہ کے لوگ سرکاری اسکیموں پر حق نہ رکھتے؟؟

پیر اظہر۔

کیا شیخ پاری کرالہ گنڈ، کپواڑہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہ اٹھا پائے۔
کپواڑہ کے تحصیل کرالہ گنڈ میں تحصیل ہیڈ کوارٹر سے ایک کلو میٹر کی مسافت پہ شیخ پارئ محلہ آباد ہے۔ اس بستی کو یہ نام یہاں کے رہنے والے نچلی ذات شیخ سے ملا ہے۔ 10 چولہے پر مشتمل یہ بستی دور جدید میں بھی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ۔مزکورہ بستی میں رہنے والے افراد کواچھوت سمجھکر جہاں آس پاس کی بستی ان سے کوئی وابستگی نہ رکھا ہے۔ وہیں سرکار نے تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہے۔ نچلے طبقہ سے وابسطہ دس گھر چالیس سال سے یہاں سکونت پذیر ہیں راقم جب یہاں پہنچا تو یہاں پر مرد وزن اپنی جھونپڑیوں سے باہر آکر راقم کے ار گرد جمع ہوگے اور پر نم آنکھوں سے انتظامیہ کی بے حسی اور اپنی زبوں حالی کی داستان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ بستی کی لوگوں کو اس ریاست میں کسی طرح کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ تمام تر سہولیات سے محروم ہیں اور مکمل طورپر بد حالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں محلہ شیخ پاری کے لوگ شاخسازی کا کام کر کے زندگی بسر گر رہے ہیں تاہم سرکار کی طرف سے ان لوگوں کو ابھی تک نہ ہی پردھان منتری آواز یوجنا کے تحت گھر تعمیر کرنے کیلئے کو پیسا دیا گیا ہے اور نہ ہی رفع حاجت پوری کرنے کیلئے ان کو سوچھ بھارت ابھیان کے تحت بیت الخلاء تعمیر کیے گئے ہیں بلکہ رفع حاجت کیلئے یہ غریب لوگ دوسرے لوگوں کے باغات میں جاتے ہیں جہاں پر انکو اکثر اوقات رفع پوری کرنے پر باغ مالکان کے تشدد کا شکار ہونا پڑتا ہے جبکہ مزکورہ محلے کے لوگوں کو اجولا اسکیم کے تحت گیس کنکشن بھی نہیں دے گے ہیں جبکہ مزکورہ محلے کے لوگوں کو محکمہ امورصارفین اور عوامی تقسیم کاری کی طرف سے APLراشن کاڈ دے گے ہیں جس کی وجہ سے مزکورہ غریب کمبوں کو گیس کنکشن نہی مل پاے جبکہ مزکورہ چاول صاف کرنے کیلئے چھج بناکر اور بیک مانک کر زندگی کے ایام گز بسر کرہے ہیں مزکورہ محلہ میں محکمہ بجلی نے آٹھ سال قبل ترسلی لاین اکھاڈ کر واپس لی ہے تاہم بجلی کی کوئ سہولیت میسر نہ ہونے کے باوجود بھی مزکورہ کمبوں سے آٹھ سال سے بھاری پیمانے پر فیس کی بلیں ڈالی جاتی ہیں اور ان غریب ومفلس لوگوں سے فیس وصول کیا جاتا ہے اور ابھی تک سوبھاگیا اسکیم کے تحت تر سیلی لائین نہیں بچھائی حالانکہ وزیر اعظم نے حال ہی میں ایک علان کیا تھا کہ ہندوستان کے ہر گھر تک بجلی پہنچائی گئی ہے۔
مزکورہ محلہ میں پینے کے پانی کی بھی کوئی سہولیت میسر نہیں ہے اور نہ ہی آج تک محکمہ آب رسانی نے مزکورہ محلے کو واٹر سپلائی اسکیم کے دایرے میں لایا ہے اور مزکورہ کنمبے دور دراز کا سفر کر کے ندی نالوں سے بارش کا پانی لاکر گزارہ کرتے ہیں جبکہ مزکورہ محلہ کے سبھی لوگ نا خواندہ ہیں تاہم مزکورہ محلے کے چند بچے کسی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں جہاں پر بقول انکے انکی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے بلکہ استاد انکے بچوں کو گندے اور غریب جان کر کچھ نہیں پڑھاتے ہیں جسکی وجہ سے اب انکے بچے بھی مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہوجاتے ہیں اس دوران انہوں نےکہا کہ آج تک کسی بھی فرد نے انکی طرف توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے وہ آج تک بھی تمام تر سہولیات سے محروم رہے ۔تاہم انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ از راہ انسانیت گورنر صاحب انکی طرف اپنا توجہ مبذول کر کے انکوبھی زند رہنے کا فراہم کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest