مائی نیم از شنکر بٹ آئی ایم ناٹ ٹیررسٹ

رقص خامہ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سیف ازہر
.جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی فیکلٹی آف ایجوکیشن

سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر پر بہت باتیں ہوچکیں ۔۔۔ چیزیں سب کھل کے سامنے آچکی ہیں ۔۔۔ بہت کچھ کہا جا چکا ہے مگر یہی وہ وقت ہے جب کچھ باتیں سوچنے کی ہیں ۔۔۔ کچھ سمجھنے کی ہیں اور کچھ سمجھانے کی ہیں۔۔
سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے پیچھے ایک آئیڈیالوجی ہے ۔۔۔ وہ آئیڈیا لوجی کس کی ہے ۔۔۔ اس کے خدو خال کس نے طے کیے ہیں ۔۔۔ وہ آئیڈیالوجی اتنی مضبوط کیسے ہوئی کہ آئین کوبھی چپیٹ میں لے لیا ۔۔۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آزادی سے ڈینینشن سینٹر تک کیسے پہنچ گیے۔
یہ آئیڈیا لوجی ساورکر کی ہے ۔۔۔ وہی ساورکر جس نے یہودیوں پرہٹلر کے مظالم کو جسٹیفائی کیا تھا ۔۔۔ اسی آئیڈیالوجی کے لوگ ہیں جو سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس آئیڈیالوجی کی بنیاد کیا ہے ۔۔۔ اس آئیڈیالوجی کا ماخذ کیا ہے ۔۔۔ اس کا منبع کہاں ہے ۔۔۔ اس کا سرچشمہ کون ہے ۔
غور سے دیکھیے ۔۔۔ یہ آئیڈیالوجی اس آئیڈیا آف انڈیا کے خلاف ہے جو محبت ، اخوت ، بھائی چارگی اور انصاف و برابری پر مبنی ہے ۔۔۔ یہ آئیڈیا لوجی نفرت کی آئیڈیا لوجی ہے ۔۔۔ وہ نفرت جو اپنے علاوہ کسی کو دیکھنا نہیں چاہتی ۔۔۔ وہ نفرت جو اپنے علاوہ کسی کو برداشت نہیں کرپاتی ۔۔۔ وہ نفرت جس کو اپنے علاوہ کوئی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا۔
نفرت کہیں بھی ہو ۔۔۔ کسی بھی جگہ ہو ۔۔۔ کسی بھی مذہب میں ہو ۔۔۔ کسی بھی صورت میں ہو ۔۔۔ نفرت صرف خون بہا سکتی ہے ۔۔۔ نفرت صرف گولی مروا سکتی ہے ۔
نہیں یقین آتا تو دیکھیے ۔۔۔ چاہے سرحد کے اس پار ہو ۔۔۔ چاہے اس پار ہو ۔۔۔ نفرت نے کیا کیا گل نہیں کھلایا ۔۔۔ افغانستان میں طالبان نے بودھ کی پرتما کو دھماکے سے اڑادیا ۔۔۔ وشو ہندو پریشد نے یہاں بابری مسجد گرا دی ۔۔۔ سرحد اس پار طالبان نے اگر بادشاہ خان یونیورسٹی پرحملہ کیا تواس پار لوگوں نے جامعہ ، جے این یو اور اے ایم یو پر حملہ کردیا ۔۔۔ اس طرف اگر ملالہ پر حملہ ہوا تو ادھر آئشی گھوش پر ہوا ۔۔۔ کیا کوئی کسی سے ایک بھی قدم پیچھے ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ تو سوچیے اگر بودھ کی پرتما اڑانے والے دہشت گرد تھے تو بابری مسجد گرانے والے کون ہیں ۔۔۔ اگر وہ دہشت گرد ہیں تو یہ کیوں نہیں۔
سوچیے اگر پاکستان میں بادشاہ خان یونیورسٹی اور آرمی اسکول پرحملہ کرنے والے طالبانی آتنکی تھے تو جامعہ ، جے این یو ، اے ایم یو پر حملہ کرنے والے کون ہیں۔۔۔؟
سوچیے اگر ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والے ٹیررسٹ تھے تو آئشی گھوش پر حملہ کرنے والے TERRORRISTٹیررسٹ کیوں نہیں۔
ہر طرف نفرت کے جمورے پھیلے ہوئے ہیں اگر کہیں طالبان ہے تو کہیں آر ایس ایس ہے ۔۔۔ کہیں القاعدہ ہے توکہیں بجرنگ دل ۔۔۔ کہیں جیش محمد ہے تو کہیں وی ایچ پی ہے ۔۔۔ کہیں کچھ ہے تو کہیں کچھ ہے ۔۔۔ سب کی سب نفرت کی دکانیں ہیں ۔۔۔ جو خون ، گولی ، دنگا ، فساد اور خونریزی کے بیوپاری ہیں۔
اگر ایک طرف طالبان کا سر براہ ایمن الظواہری ہے تو دوسری طرف آرایس ایس کا سربراہ موہن بھاگوت ہے ۔۔۔ ایک طرف بغدادی ہے تو دوسری اور ناتھو رام گوڈسے ہے ۔۔۔ ایک طرف مسعود اظہر ہے تو دوسری اور پروین توگڑیا ہے ۔۔۔ کیا فرق ہے ۔۔۔ یہ ایک دوسرے سے کیسے الگ ہیں ۔۔۔ سوچنے کی ضرورت ہے۔
سوچیے ، سمجھیے اور سمجھائیے ۔۔۔ کیونکہ یہی سوچنے سمجھنے اور سمجھانے کا وقت ہے ۔۔۔ اسے ہم سے زیادہ کون سمجھتا ہے ۔۔۔ اسے ہم سے زیادہ کون جانتا ہے ۔۔۔ طالبان اور اس جیسی تنظیموں نے داڑھی رکھ کر اپنے سارے غلط کام کیے ۔۔۔ آج ہمیں داڑھی رکھتے ہوئے خوف آتا ہے کیونکہ لوگ ہمیں طالبانی سمجھتے ہیں ۔۔۔ یہی بھگوا لباس پہن کر لوگ کر رہے ہیں ۔۔۔ کل تم بھی بھگوا پہنتے ہوئے ڈروگے کیونکہ لوگ بھگوا کوآتنکی لباس سمجھنے لگیں گے ۔۔۔ ایک دن آئے گا کہ تم جے شری رام کہنے کو ترسو گے جیسے ہم نعرہ تکبیر کہنے کےلئے ترستے ہیں ، کیونکہ طالبان اور اس جیسی تنظیموں نے نعرہ تکبیر لگا کر لوگوں پر حملہ کیا ایسے ہی جیسے آرایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیم کے لوگ جے شری رام کہہ کر کسی کی بھی لنچنگ کر دیتے ہیں۔
نفرت کی آئیڈیالوجی کے لوگ کسی دھرم اور مذہب کے نہیں ہوتے بلکہ اپنے مفاد کےلئے دھرم اور مذہب کا استعمال کرتے ہیں ۔۔۔
ہم بتاتے ہیں کہ طالبان اور سی جیسی تنظیموں نے ہمارے عقیدوں اور یقینوں کو ہائی جیک کیا ہے تم سوچو کہ آرایس ایس اور اس جیسی تنظیموں نے تمہارے عقیدوں اور یقینوں کو ہائی جیک کیا کہ نہیں ۔۔۔ اگر نہیں تو کیسے نہیں ۔۔۔ اگرہاں تو سوچیے ، سمجھیے اور سمجھائیے یہی وقت ہے ۔۔۔ اگر اب بھی نہیں سمجھے تو آنے والا وقت خود سمجھا دے گا ایسے ہی جیسے عاشق اور معشوق کو اس کے دوست اور سہیلیاں سمجھاتے ہیں مگر سمجھ میں نہیں آتا ۔۔۔ دوچار سال بعد انھیں خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے ۔۔۔ اگر یہی سب چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب تمہیں بھی کہنا پڑ جائیگا کہ My Name is Shankar but i am not terrorist ایسے ہی جیسے ہمیں کہنا پڑا My name is Khan but i am not terrorist۔

رقص خامہ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سیف ازہر
فیکلٹی آف ایجوکیشن
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

3 Attachments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram