نوحہ

جیوں ہی میدان میں شمشیر بکف آئےحسین،
بید لرزاں کی طرح کانپ اٹھے اعدائے حسین.
ہوگئیں آتے ہی باطل کی نگاہیں خیرہ،
ماہ کامل سے سوا تھا رخ زیبائے حسین.
اس میں پانی کی نہیں خون کی طغیانی ہے،
خشک ہو ہی نہیں سکتا کبھی دریائےحسین.
بوجھ سے ان کے کمر ان کی خمیدہ ہو جائے،
رکھ دئے جائیں پہاڑوں پہ جو غمہائے حسین.
وار کس نے کیا اور جسم کے کس حصے پر،
یہ تو محشر میں بتائیں گے خود اعضائے حسین.
مدعا کیا تھا اسے عقل بشر کیا سمجھے،
میرا مولیٰ ہی سمجھتاہے تمنائے حسین.
جذبہ شوق شہادت کی سدا میرے نوید
رہبری کرتے رہیں نقش کف پائے حسین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest