امت کی بیٹیوں کو حضور کی گھر کی خواتین کی راہ اپنانی چاہئے ۔آل محمد

تعلیم ہی پرانی دہلی کی لڑکیوں کا مستقبل بدل سکتی ہے ۔ڈاکٹر وسیم راشد
ل

 

ا
نیو راحت ویلفئیر فائونڈیشن کا سالانہ جلسہ گاندھی مارکیٹ پارک میں منعقد ہوا ۔نیو راحت ویلفئر فائونڈیشن پرانی دہلی ترکمان گیٹ سے شروع ہوئی یہ ایک نیشنل این جی او ہے ۔جو خاص طور پر پرانی دہلی کی لڑکیوں کو تعلیم اور ہنر سے جوڑنے کا کام کرتی ہے ۔پرانی دہلی کی لڑکیوں کو پردے میں رہکر سلائی کڑھائی، انگریزی بولنے اور تعلیم کی طرف راغب کرنے کا کام کرتی ہے ۔ان لڑکیوں کو امتحان میں بیٹھنے کے لئے کاونسلنگ کرتی ہے اور مستقبل میں بہتر کیرئر کے لئے پوری طرح گائڈ کرتی ہے اس کے علاوہ پورے ملک میں امن و سلامتی کے لئے ،کوئی قدرتی آفت جیسے سیلاب آنا سوکھا پڑنا وغیرہ میں یہ فائونڈیشن گھر گھر جاکر کام کرتی ہے ۔یہ فائونڈیشن فروری 2018 سے شرو ع ہوئی ہے اور اب راجھستان ،گجرات اور کرناٹک میں بھی کام کر رہی ہے ۔اس فائونڈیشن کے بانی اور صدرفارو ق خان ہیں جو ٹونک راجھستان سے ہیںاور جے پور میں ڈاکٹر کین مودی یو نیورسٹی میں ایچ او ڈی سول کی اپنی بہترین نوکری چھوڑ کر یہ کام شروع کیا ہے ملک اور سماج کے لئے اور خاص طور پر مسلم لڑکیوں کے لئے ان کا جذبہ بے مثال ہے ۔ڈاکٹر فاروق بنا کسی کی مدد سے اتنا بڑا کام کر رہے ہیں ۔ان کا جذبہ ان کا کام قابل قدر ہے
نیو راحت ویلفئر فائونڈیشن کا یہ جلسہ ان لڑکیوں کو سرٹفکٹ اور انعا مات دینے کے لئے تھا جو اس فائونڈیشن سے پڑھ کر سیکھ کر اپنا کورس پورا کرکے فارغ ہوئی ہیں ۔اس جلسے کی نظامت فائونڈیشن کی نیشنل جنرل سیکریٹری رخسار خان کر رہی تھیں اور اس پورے جلسے کے روح رواں اور ناظم فاروق صاحب تھے ۔فاروق صاحب نے فا ئونڈیشن کے مقاصد سے آگاہ کیا اور اپنی فائونڈیشن کا تعارف بھی کرایا ۔جلسے کے مہمان اعزازی طہ نسیم صاحب تھے جو خود بھی صحافی ۔ادیب اور نامور پبلشر ہیں تاریخ پر ان کی گہری نظر ہے خاص طور پر پرانی دہلی کے ایک ایک گلی کوچے کی تاریخ ان کو ازبر ہے انھوں نے اس پر بہت ہی کام کیا ہے ۔اس پروگرام کی دوسری مہمان اعزازی سابق کائونسلر منٹو روڈ انیتا شرما جی تھیں اور اس پروگرام میں ایک نوجوان بچی زاہرہ راشد بھی مہمان اعزازی کی حیثیت سے موجود تھیں طہ صاحب نے فاروق صاحب کی کوششوں کی سراہنا کی اور مستقبل میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرئی ۔زاہرا راشد نے پرانی دہلی کے گھرمیں جنم لیا اور اپنی تعلیم ڈی پی ایس سے کی جہاں وہ آرٹس میں سی بی ایس سی سے 97 فیصد نمبر لیکر کامیاب ہوئیں اس کے بعد انھوں نے ہندو کالج سے ہسٹری آنرس کیا ۔وہ ّ اپنی تعلیم سوشل ورک میں کرنا چاہتی ہیں اس بار اپنے گیپ سال میںانھوں نے ائر ہوسٹس کا انٹرویو دیا اور ان کا سیلکشن وستارا جیسی بڑی ائر لائن میں ہوگیا ۔انھون نے لڑکیوں کو بہت ہی محبت سے اپنے ماں باپ کے بھروسے کو جیت کر آگے بڑھنے کی درخواست کی انیتا شرما صاحبہ نے بہت ہی محبت سے مسلم بچیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر ممکن فاروق صاحب کی مدد کرینگی۔پروگرام کے مہہمان خصوصی آل محمد تھے جو اس علاقے کے کنوینر ہیں اور دوسری مہمان خصوصی ڈاکٹر وسیم راشد تھیں جو کہ بہترین استاد بھی رہیں خود ان کا تعلق پرانی دہلی سے ہے اور وہ ہندوستان کی اردو اخبار کی پہلی ایڈیٹر رہیں چوتھی دنیا اردو کی ۔اب صدا ٹوڈے نیوز پورٹل کی چیف ایڈیٹر ہیں ۔آل محمد نے فاروق صاحب کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان کو منٹو روڈ کے پاس ہی این جی او کے لئے زمین دینگے انھوں نے مسلم بچیوں سے گزارش کی کہ وہ شریعت کے حساب سے چلیں مان باپ کی عزت کریں اور حضور کے گھر کی خواتین کو اپنا رول ماڈل بنائیں ۔انھوں نے لڑکیوں سے تعلیم کی طرف توجہ دینے کی درخواست کی ۔ڈاکٹر وسیم راشد نے اپنے تعلیمی اور علمی سفر کے بارے مٰں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کو بھی پرانی دہلی میں رہتے ہوئے بہت سی پریشانیاں در پیش رہیں لیکن انھوں نے اپنا ٹارگٹ صرف اور صرف تعلیم کو رکھا اور ایک زبان پر عبور ھاصل کیا ۔انھوں نے پرانی دہلی کی لڑکیوں سے تلفظ درست رکھنے اور ووکیشنل کورسوں میں جانے کے لئے کہا ۔ایسے کورس جسمیں روزگار مل سکے ۔ڈاکٹر صاحبہ نے بہت ہی دردمندانہ لہجے میں ان لڑکیون سے درخواست کی کہ صرف تعلیم کی طرف دھیان دیں فیشن کی طرف نہیں
پروگرام کے آخر میں لڑکیوں کو سرٹفکٹ تقسیم کئے گئے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram