نظمیں:بشری سعید

نظم ۱۔ مرتد
تجریدی زندگی کے تابوت میں
گھٹی سانسوں کی حجت پر
اس نے اپنے بشری جوہر خرد کو بیدار کیا
اور یقین کی وہ ساری کیلیں
جنہیں دعاؤں کی ہتھوڑی سے
ایمان کے تختوں پر
آنکھیں بند کر کے ٹھوکا تھا
انکار کے لیور سے
ایک ساتھ اکھاڑ پھینکا
اب وہ دل جلا
آتشیں نفس
بے خوف آزاد تھا
پالنے والے اس لازوال خدا کی طرح
جو کسی کا جوابدہ نہیں
اسے اجداد کی معرفت
اور ہجومِ بے کراں کی بدبو سےدور
انہماک کو مشاہدے سے ملا کر رستہ بناناتھا
ناعاقبت اندیشی کی جرآت سے
ہنگام ِکائنات کے ابدی اسرار کا سراغ لگاناتھا
مظاہر ِفطرت کی معراج پر
محبت کا حقیقی انکشاف پانا تھا
اس کی مٹی کہاں جمتی ہے کھوجنا تھا
وہ انائیت و ناانصافی کا حکم صادر کرتے
بہشت کے رازداروں پر
اپنی بےتوقیر موت کے لئے
کوئی رسم ِمرگ متعین نا کر سکا
اس کی انکھوں کے جل میں دکھ نہایا تو
جیون میں جوگ اترا……
جرمِ تکفیر کی قیمت پر
وہ خود کو بیچ آیا
چھوٹی زمین پربڑے قدم اٹھاتے ہوئے
اس نے ہنسی میں موت کو دفنایا
اپنا سفر تکیے کے نیچے چھپایا
مگر
رنگین اماموں سے
آفاقی تسکین کشید کرنے والوں کو
بد اماں و بد بخت روح کے
کفن پوش عقیدے پر
………. کوئی رنگ دیکھنا تھا
اس کی زندگی کی دستاویز پر
نادیدہ صداقت کے تحفظ کا
دستخط کروانا تھا
لہذا………
ان عیش کوش سجدہ فروشوں نے
آخری سانس کی مہلت
تقسیم کرتے خدا کی زمین سے
ابنِ نحوست کو پاک کرنے کا عزم ٹھانہ
قبل اس کے
وہ عبدِضلا لت
ملحد ومرتد
کسی اندھے فیصلے کی اطاعت میں
دیس بدر کیا جاتا
جسم کی بارگاہ سے نکالا گیا!!

نظم ۲ ۔ مزدور

ایک مزدور
کہ جس کے بدن نے
کئی دنوں کی ان تھک ریاضت
سیمنٹ،ریت اور بجری کے بیچ کاٹی تھی
ایک پیالی چائے کی طلب
بیلچے کی مٹی کے ساتھ اچھالی تھی
فکرِعیال کو
لوہے کی ریڑھی پہ
اینٹوں کے ساتھ دھکیلا تھا
چند لمحے
سستانے کی خواہش کو
صبر کے ہتھوڑے سے کوٹ ڈالا تھا
تب جاکر کہیں
آخر کار
آج اپنی دعوت منانی تھی
گھر میں مرغی پکانی تھی
مگر چمکتی کرولا کی
بیچ سڑک میں
جس کا شاپر پھٹا تھا
جو لاوارث لاش کی صورت پڑا تھا
آج اس نے
اپنی دعوت منانی تھی
گھر میں مرغی پکانی تھی
بشری سعید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram