وہ دیکھو ! مانگ سُونی ہو گئی الہڑ سُہاگن کی

 

نیاز ؔ جیراجپوری

سُنو اے نَوجوانو ! آج ہم تُم سے مُخاطب ہیں
چلو تصویر ہم تُمکو دِکھائیں اپنی دِلّی کی
بہت مُمکِن ہے ذمّہ داری کا احساس ہو تُمکو
بہت مُمکِن ہے تُمکو فِکر ہو کُچھ بِکھری دِلّی کی
وہ دیکھو ! سُرخ کالی آندھیوں کی زد میں وہ بستی
وہ دیکھو ! پِھر اُدھر طوفان نفرت کا اُٹھا دیکھو
وہ دیکھو ! ہاتھ میں خنجر لئے کوئی نِکل آیا
وہ دیکھو ! موت کی آغوش میں کوئی گِرا دیکھو
وہ دیکھو ! اِک بہن تکتی ہے رستہ اپنے بھائی کا
وہ دیکھو ! ایک بُوڑھے باپ کی لاٹھی کے ٹُکڑے ہیں
وہ دیکھو ! ڈھیر میں لاشوں کے بُوڑھی ماں کے بیٹے ہیں
وہ دیکھو ! آج سے پہلے وہاں اِک کارخانہ تھا
وہ دیکھو ! اُس طرف مَلبے ہیں کِتنی ہی مکانوں کے
وہ دیکھو ! کل ضرورت کی وہاں ہر چیز مِلتی تھی
وہ دیکھو ! ڈھیر میں ہیں راکھ کے ساماں دُکانوں کے
تمیں کیا کیا دِکھائیں ہم سمجھ میں کُچھ نہیں آتا
نہ جانے کون ہے نفرت یہاں جو بونے والا ہے
مُسلسل ذہن و دِل میں چُبھتے رہتے ہیں سوال ایسے
خُدا جانے ہمارے دیش کا کیا ہونے والا ہے
ہمیں کُچھ اور اب کہنا نہیں ہے ، بس یہ کہنا ہے
جو جنگل بستیوں میں دیش کی آباد کرتے ہیں
جو دُشمن دیش کے ہیں سامنے لے آؤ تم اُن کو
سزائیں دو اُنہیں جو دیش کو برباد کرتے ہیں
اُٹھو اے نوجوانو ! دیش کی کشتی بھنور میں ہے
چلو تم ایکتا کے گیت گاتے اے مِرے پیارو
کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈُوب جائے دیش کی کشتی
بڑھو ! اور بڑھ کے طُوفانوںکے رُخ تبدیل کر ڈالو
تمہیں سوگندھ گیتا کی ، قسم قُرآن کی تم کو
تمہیں اِس دیش کا رکھوالا بَن کے زِندہ رہنا ہے
تمہیں نام و نِشاں فِرقہ پرستی کا مِٹانا ہے
تمہیں سب پُھولوں کی اِک مالا بَن کے زِندہ رہنا ہے
٭٭٭
وہ دیکھو ! مانگ سُونی ہو گئی الہڑ سُہاگن کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *