غزل

ناز خان

مقدر کے ٹوٹے ستارے ہوئے ہیں
ازل سے غموں کے جو مارے ہوئے ہیں
جنہیں خون دل کا پلایا ہمیشہ
کہاں وہ بھی مخلص ہمارے ہوئے ہیں
یہ قسمت نے ہم سے عجب کھیل کھیلا
تمہیں جیت کر بھی جو ہارے ہوئے ہیں
عروج و زوال اپنا کیسے بتائیں
فلک سے زمیں پر اُتارے ہوئے ہیں
وہ اپنے جنہیں ہم نے سمجھا تھا اپنا
بہت دور سارے کے سارے ہوئے ہیں
تمہیں نازؔ اس کا تو احساس ہوگا
محبت میں جو بھی خسارے ہوئے ہیں

ناز خان: مانچسٹر (انگلینڈ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram