نظم

میں کشمیر ہوں

وہ جو میرا محبوب تھا
میرا فخر
میرا غرور
میرا ناز و انداز
میرا حسن
میری وہ خوشی
میرا وہ سکون تھا
میری آبرو
میرا پندار تھا
جو میرا محافظ تھا
آرٹیکل 370
ستر سال تک جو میرا
سہاگ تھا
وہ سہاگ اب چھن گیا ہے
وہ سہاگ اب لٹ گیا ہے
میں اب ‘ایک
اجڑی ہوئی
بےبس بیوہ ماں ہوں
تہی دامن ہوں
بدحواس ہوں
ہوس پرستوں کی نگاہوں میں ہوں
میں کشمیر ہوں
سنسان سڑکوں ہر پھیلی ہوئی
اداس رات ہوں
غیروں کے رحم و کرم پر پڑی
ایک زندہ لاش ہوں
قید میں ہوں
نظر بند ہوں
میں کشمیر ہوں
میری روح زخمی ہے
میرا جسم بوجھل ہے
میرا سر ہے نہ دھڑ ہے
میرا وجود ٹکرے ٹکرے ہوکر
تاریکیوں میں بکھیرنے والا ہے
وقت کے پہیوں میں گھسیٹا جانے والا ہے
ہر طرف عجیب سناٹوں کا
راج ہے
چہل پہل کی وادی میں
خاموشیاں کا ناچ رہی ہیں
میرا رابطہ دنیا کے
ہر کونے سے ٹوٹ چکا ہے
میں زندہ ہوں
مجھے یقین نہیں ہے
بے موت مر جاؤں حوصلہ نہیں
میری آواز
فوج کے بھاری جوتوں تلے
دب گئی ہے
میری چیخیں بادود کے
دھواں میں تحلیل ہورہی ہیں
مجھے خود سے بچھڑ کر
زندہ رہنے کی سزا مل رہی ہے
میں کتاب جہاں سے الگ
کوئی صفحہ نہیں ہوں
میں کشمیر ہوں
میں کشمیر ہوں

رفعت آسیہ شاہین
وشاکھا پٹنم ۔آندھرا پردیش

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest