نظم

آنکھیں اندر کو پچکی ہوئی
گول سیاہ بٹن کی طرح
ان آنکھوں میں تنہائی کی ایسی چمک تھی
جو گواہی دیتی تھیں
کہ وہ کس قدر تنہا ہے
وہ ایسے تھا
جیسے سیاہ آسمان کے پس منظر میں کوئی چمکتا ہوا ستارا
اس میں ایسی معصومیت
جس میں قطعی فریب و مکر نہیں
مگر پھر یوں ہوا
ایک تلخ حقیقت سامنے آئی
کہ یہ سب دھوکہ دینے کا آرٹ ہے
اس معصومیت کے پیچھے ایک دھوکے باز ہے
جو کہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے
حد سے گزر سکتا ہے
جس میں جھوٹ اور فریب بھرا ہوا ہے
اس کی حلیہ بازیاں فضول دلائل قائم کر کے
گناہ کو جائز قرار دیتی تھیں
وہ شاید اسی گمان میں ہے
کہ وہ صحیح راہ پر چل رہا ہے
صحیح کام کر رہا ہے
اس کی فریب کاریاں اور حلیہ بازیاں
گناہ کا لطف اٹھا رہی ہیں
اور وہ اسی پر اکتفا کرتا ہے
لیکن میں اور ہوں
مجھے فریب سے نفرت ہے
پھر بھی فریب کا شکار ہوئی
اس کے دھوکے کا شکار ہوئی

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی
قاہرہ ۔ مصر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram