نظم- اک طرفہ محبت

اس دن جب پہلی بار تمہیں
بس ایک نظر ہی دیکھا تھا
 یونورسیٹی کے کیمپس میں
وہ ایک نظر ہوئی آفتِ جاں
اس ایک نظر میں دل اپنا
 کب تم کو میں دے  بیٹھی تھی
 کچھ یاد نہیں وہ پل مری جاں
اک طرفہ محبت کے قصے
دنیا میں سنتی آئی ہو ں
لیکن میں کتنی پاگل ہوں
 کہ برسوں بعد بھی اس پل کو
میں دل میں بسائے بیٹھی ہوں
صدیاں بیتیں اور سال گئے
 تم نے ایک وقت گزار دیا
میں اپنی ننھی دنیا میں
کچھ ایسے ہی مشغول رہی
ہاں میں نے تم کو چاہا ہے
 بس پیار تمھیں ہی کرتی ہوں
یہ پیار ہی میری پوجا ہے’ یہ پیار عبادت ہے سچی
یہ سچی عبادت ہے دل کی
 بس پیار تمہیں ہی کرتی ہوں
 میں صدیوں سے اور برسوں سے
 اک تنہائی کے عالم میں
 پل پل جیتی اور مرتی ہوں
بس پیار تمہارا دل میں ہے
اور پیار تمہارا ساتھ مرے
 میں تنہا اکیلی اک لڑکی
 اک طرفہ محبت کی خاطر
 دنیا اپنی برباد کئے
 بس پیار تمہارا دل میں لئے
 میں آج بھی تنہا بیٹھی ہوں
میں عمر کے اب اس دور میں ہوں
جب کوئی ساتھ نہیں ہوتا
اپنا یا اپنے جیسا ہی
اب کب مجھکو مل پائے گا
میں تنہا اکیلی تھی اب تک
میں تنہا  مرنے والی ہوں
بس پیار تمہارا دل میں لئے
یہ پیار ہی میرے ساتھ رہا
اک عمر سے اب اک عمر تلک
یہ پیار ہی میرا اپنا ہے
ورنہ مطلب کی دنیا میں
کب کوئی اپنا بنتا ہے
کب ساتھ کسی کا دیتا ہے
ہاں آج بھی میں اس حال میں ہوں
 جب کوئی اپنا ساتھ نہیں
لیکن تم پروا مت کرنا
تم زندگی اپنی جیتے تھے
تم زندگی اپنی جی لینا
خوشیاں جو تمہاری اپنی ہیں
اور کچھ رشتے بھی تو ہوں گے
تم ان میں ہی مشغول رہو
اپنی دنیا میں شاد رہو
میں مرتی ہوں تو مرنے دو
تم لوٹ کے مجھ تک مت آنا

شہناز رحمت

کولکتہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest