نئے پرانے چراغ کا سلسلہ جاری

افتتاحی اجلاس کے بعد کامیاب مشاعرے کا انعقاد،سامعین ہوئے محظوظ

نئی دہلی:اردواکادمی،دہلی کے زیراہتمام بزرگ وجوان قلم کاروں کے سالانہ پروگرام نئے پرانے چراغ کے افتتاحی اجلاس کے بعد قمررئیس سلورجبلی ہال میںمشاعرے کا انعقاد ہوا،جس کی صدارت معروف شاعروناقداورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق استاذپروفیسر خالدمحمودنے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹررحمان مصورنے انجام دیے۔نئے پرانے چراغ کے پہلے مشاعرے میں تقریباساٹھ شعرانے اپنے کلام پیش کیے۔اس موقع پر ہال میں موجودسامعین،جامعات کے اساتذہ اورطلبا وطالبات مشاعرے سے محظوظ ہوئے۔مشاعرے کے منتخب اشعار پیش ہیں:
کوہِ گراں کے سامنے تیشے کی کیا بساط
عہدِ جنوں میں ساری شرارت لہو کی تھی
(پروفیسر خالد محمود)
یہیں گم ہوا تھا کئی بار میں
یہ رستہ ہے سب میرا دیکھا ہوا
(پروفیسر احمد محفوظ)
اے دیدہ ورو تم نے اسے دیکھا نہیں ہے
دیکھو گے تو لگ جائے گی اس بت کو نظر بھی
(متین امروہوی)
جن کی ظلمتیں روشن جگنوئوں سے ہوجائیں
کہکشاں کوئی ان کو قاسمیؔ نہیں ملتی!
(ڈاکٹر ایم۔ آر۔ قاسمی)
میں سونے چاندی سے غربت کو سجا ڈالوںگا
وہ ایک بار اگر دستکار کردے مجھے
(خالد اعظمی)
عجیب مٹی سے ہم بنے ہیں، خمیر ہی میں رمق نہیں ہے
ہر ایک لمحہ میں ٹوٹتا ہوں، ہر ایک لمحہ زوال میں ہیں
(ڈاکٹر احمد امتیاز)
ہوگی نہ جانے جیت میسر کسے خمار
میری ضرورتوں سے کمائی کی جنگ ہے
(خمار دہلوی)
میں اپنے پیکرِ خاکی سے مطمئن ہی نہیں
مرے خدا مجھے بارِ دگر بنایا جائے
(ڈاکٹرخالد مبشر)
سزائے موت دے دیتے کبھی ہم غم نہیں کرتے
خوشی سے جان دے دیتے یہ آنکھیں نم نہیں کرتے
(سنجے جین)
زمیں خوابوں کی کتنی کھردری ہے
نظر کے پائوں تک چھلنے لگے ہیں
(حسن فتح پوری)
موت تو آہی نہیں سکتی مجھے
میرا جب تک آب و دانا ہے میاں
(ثمر بگراسوی)
عشق کا بھوت ترے سر سے اتر جائے گا
بے نقاب اس کو اگر دیکھ لے ڈر جائے گا
(عمران دھامپوری)
تمام عمر جو کرتا رہا ہے کام غلط
بنے گا کیسے نہ اس کا تو پھر مقام غلط
(نورالدین ثانی)
عشق کرنے کی تو ہمت میرے دیوانے میں ہے
کل ضمانت ہوکے آئی آج پھر تھانے میں ہے
(شاہد گڑبڑ)
ابن اپنی زندگی سے وہ سارے عمل گئے
جن کے طفیل ہم کبھی پانی پے چل گئے
(پرواز ہیم پوری)
محبت میں نئی چالیں بھی چلتے ہم نے دیکھا ہے
زمانے کی نگاہوں کو بدلتے ہم نے دیکھا ہے
(عابدہ خانم)
ہندوستانی بھید بھائو کو کیا جانے
اس مٹی کے سب شیدائی ایک سے ہیں
(جگر نوگانوی)
اتنی تاریکیوں میں الجھا ہوں
اک زمانہ ہوا دِیا دیکھے
(سلمان سعید)
ایک منظر میں سمٹے ہم دونوں
تان کر انتساب کی چادر
(محمد شاہ رخ عبیر)
چل کر زمیں سے چاند بھی ہم چھوکے آگئے
کوئی بھی کام آج کل مشکل نہیں رہا
(نزاکت امروہوی)
سورج چڑھا ہے سر پہ مگر شام کے لیے
آغاز یوں چمکتا ہے انجام کے لیے
(رئیس مظفر نگری)
نفرتیں بانٹ گیا کوئی محبت کے عوض
شہر کا شہر بنا بیٹھا ہے پتھر مجھ میں
(آفتاب آذر)
مانا کہ ہے اس راہ میں آپ اپنی ہی تذلیل
لیکن تری ایک دید کا نشہ بھی بہت تھا
(خبیب جامی)
بے چہرگی کا حسن ذرا اور بڑھ گیا
کچھ بھی نہیں ملا مجھے آئینہ توڑ کے
(سیف ازہر)
درد ایسا کہ دل تڑپ اٹھے
ضبط اتنا کہ آنکھ تر بھی نہیں
(محبوب امین)
دینے والا سبھی کو دیتا ہے
تو ہمارا خیال رہنے دے
(شہلا نواب)
یوں تو ہر پھول ہی دلکش تھا چمن میں لیکن
جس کے کانٹوں میں تھی نرمی وہ گلاب اور ہی تھا
(خصال مہدی)
مرا اسلوب ہے مردہ ضمیروں کی مسیحائی
میں کچھ نابینا چہروں کو بھی آئینہ دکھاتا ہوں
(آصف نظر)
ہمارے گائوں میں ایسے غریب ہیں جن کا
امیرِ شہر کو اکرام کرنا پڑتا ہے
(سلمان ابن نظر)
میری راہبر ہے ہندی میری رہنما ہے اردو
میں انھیں کے نقش پا پر یہاں چل سکی ہوں اب تک
(کرشنا شرما دامنی)
خوبصورت نہیں کوئی تم سا
اتنا کہنے میں کیا برائی ہے
(جاوید عباسی)
ایک چہرہ نہ گلفام میں آجاتا ہے
پینے بیٹھوں تو نظر جام میں آجاتا ہے
(سکندر مرزا)
گلشن میں فاطمہ کے پیدا ہوئے دو پھول
لخت جگر علی تھے اور نواسۂ رسول
(شمیم دہلوی)
جسم کی خیر منائیں بھی تو کیا حاصل ہے
ایسے منظر ہیں کہ جو روح بھی زخمی کردے
(وحید عازم)
ہمیں جو غیر کہہ دیتا ہے اکثر
کبھی تو دیکھ لے شجہرہ ہمارا
(سندیپ شجر)

تصویر میں شمع مشاعرہ روشن کرتے ہوئے صدر مشاعرہ پروفیسر خالد محمود، پروفیسر شہپپر رسول اور دیگر شعرائے کرام۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest