پلوامہ دہشت گردانہ حملہ: گالیاں مسئلے کا حل نہیں بات چیت ضروری: سدھو

نئی دہلی:جموں و کشمیر کے پلوامہ میں گزشتہ روز ایک بزدلانہ دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ یہ حملہ اُری حملے سے بھی بڑا تھا۔ اُری حملے میں جہاں ۱۹؍ جوان شہید ہوئے تھے تو وہیں پلوامہ حملے میں ۴۰؍ جوان شہید ہوئے۔ اس دہشت گردانہ حملے کے بعد سے پورے ملک میں دکھ اور اشتعال کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایسے میں لیدروں کے بیانات کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریسی لیڈر نوجوت سنگھ سدھو نے کہاکہ گالیوں سے اس کا حل نہیں نکلے گا۔نوجوت سنگھ سدھو نے پلوامہ حملے پر کہاکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے، ملک نہیں ہوتا ہے، ذات نہیں ہوتی ہے۔ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے، آگ آگ کو کاٹتی ہے۔ گالیاں دینے سے اس مسئلہ کا حل نہیں نکلے گا۔ دہشت گردی کا حل ڈھونڈنا ہی ہوگا۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کرچکے سدھو نے کہاکہ اس دہشت گردانہ حملے کے مجرموں کو سزا تو ملنی چاہیے لیکن ساتھ ہی ساتھ بات چیت، عالمی برادری کے دباؤ کا بھی استعمال کرکے حل نکالا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں گالیاں دینا ٹھیک نہیں۔سدھو نے یہ بھی کہاکہ ہر ملک میںاچھے برے ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پوری قوم کو چپیٹ میں لے لیں۔ اس معاملے کی گہرائی میں جاکر حل نکالا جانا چاہیے۔ جان لینا کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ہے۔ غور طلب ہے کہ سدھو ۲۰۱۸ء میں دو بار پاکستان جاچکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *