نااُمید نہ ہوں، اپنے گریباں میں بھی جھانک لیں

 

 

 

 

 

 

 

جاوید جمال الدین
جنت نشین ہندوستان ہمیشہ سے ایک ایسا گلدستہ رہا ہے ،میں ہرطرح کے پھول کھلے رہتے ہیںاور ان کی خوشبوسے سارا ملک معطر رہتا ہے ،یہ ایک ایسا گلستاں ہے کہ جس کی آبیاری ملک کے آباد سبھی ہندوستانی کرتے رہے ہیں جن میں ہندو، مسلمان، سکھ،عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں ۔اس کی ترقی وکامرانی کے لیے سب نے مل کرجدوجہد کی ہے ،بلکہ اس سے قبل بھی وطن عزیزکی جنگ آزادی اور پھراس کے نظام اور آئین کو تشکیل دیتے ہوئے انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیا تھااور یہی سبب ہے کہ تمام شہریوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا اور ان کے حقوق مہیاکرانا ہے ۔ان رہنماؤں اور عوامی نمائندوں نے جس میں سب کی نمائندگی پائی جاتی تھی ، جمہوریہ ہندوستان کے آئین کی ترتیب کے وقت مذہبی نظریہ کو پس پشت ڈال کر ،صرف ایک ترقی یافتہ ہندوستان کاتصوررکھاگیا تھا،لیکن سیاسی مفاد پرستوں اور نام نہاد سیکولرعناصر نے درپردہ ایسے عناصر کو پنپنے کا پورا پورا موقعہ دیا جوکہ ہندوستان جیسے عظیم ملک کی تاریخ اور روایت کو مٹا کر اپنی قلم کی گئی تاریخ پڑھانے اور پڑھنے کی کوشش کرنے لگے ،جس سے ملک کی قومی ہم آہنگی ،مساوات اور بھائی چارگی کو خطرہ پیدا ہوگیا اور چند سال کے دوران ایسے عناصر طاقتوربن گئے جن کا مقصدجمہوریت اور سیکولرزم سے ہٹ کرلگنے لگا بلکہ ایک دورسے وہ اسی منصوبہ بندی رہے کہ موقعہ مل کر اسی نظریہ کو نافذ کردیں ۔
فی الحال اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں کی زندگی تنگ کی جانے کی کوشش ہورہی ہے اور ملک میں نفرت کا بازار گرم نظرآتا ہے اور حال میں مذہب کے نام پرموب لانچنگ واقعات نے اقلیت اور دلت ہی نہیں بلکہ ر ذی ہوش کو جھنجھوڑکردکھ دیا ہے ،مسلمانوں کو طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون تشکیل دیئے جانے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دین اور شریعت پر متواتر حملے کیے جارہے ہیں ،لیکن وال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معاملہ کو اتنا دورتک آنے کیوں دیا گیا کہ معاملہ ہاتھوں سے نکل کرایوانوںمیں پہنچ گیا ، لیکن مسلمان قوم اور اس کے رہنما بے حسی کے آخری درجے میں پہنچ چکے ہیں اور مسلم مذہبی اور سیاسی رہنماو ¿ں کو شریعت کے تحفظ میں ہر گز دلچسپی نہیں ہے انہیں صرف اپنے نام و نمود کی فکر ہے ،اگر طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں وقت رہتے مسلم معاشرے میں بیداری پیدا کی جاتی تو یہ حالات پیدا ہی نہیں ہوتے تھے ،طلاق کے جس طریقہ کارکو ہم بدعت کہہ رہے ہیں اورگناہ بتا رہے ہیں ،تو پھر دوسرے مذاہب کے لوگوں کوکس طرح سمجھائیں گے ،سب کچھ جانتے ہوئے ہمارے رہنماو ¿ں نے عجیب روش اختیار کرلی تھی اور اتنے گروپوں میں تقسیم ہوچکے ہیں کہ ارباب اقتداراور منصوبہ بند عناصر نہ بالکل فائدہ اٹھا لیا ۔
آج مسلمانوں کا حال جوہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ،اس میں مادیت پرستی میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ہی اس کے لیے سب کچھ ہوچکی ہے ،یہی وجہ ہے کہ ایسے قدم اٹھاتا ہے کہ کوئی غیر مسلم بھی غیر مسلم پچاس باراس تعلق سے سوچے گا دنیا بھر برائی کے کاموں میں وہ سرفہرست نظرآتا ہے ،دھوکہ بازی،دغابازی اور جھوٹ کا دامن مسلمان نے تھام لیا ہے اور ایسا کرنے سے گھبراتابھی نہیں ہے ،حال میں ممبئی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے کہ سوچنا پڑرہا ہے کہ کیا ایسے لوگ بھی مسلمان ہیں ، جو حج کے نام پر سینکڑوںمسلمانوں کو بیوقوف بنانے کا کام کرتے ہیں ۔ایسے واقعات پر گراتے ہیں گزشتہ سال چند ٹوٹ ٹوٹ ملکہ نے اتنی بے ایمانی کی پولیس نے اس کے خلاف کیس لینا پڑا،حج مسلمانوں کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے جو صاحب حیثیت مسلمان پر فرض ہے ،ہر مسلمان کی تمنا ہوتی ہے کہ زندگی میں ایک بار حج کے لیے مکہ معظمہ جائے ،لیکن یہ بھی مسلمان ہیں ،جو اللہ اورنہ اس کے رسول سے ڈرے،اور مسلمان اپنے ہی ایمانی بھائی سے دھوکہ دہی کرے۔
ملکی سطح پر ارباب اقتدار نے جو انداز اپنا یا ہوا ہے اورحال میں طلاق ثلاثہ اور دفعہ370 کو غیرموثر بنانے کے لیے جوکچھ کیا گیا ،ان فیصلوں سے حیران ہونے کی کوئی بات نہیںہے،بلکہ برسراقتدار بی جے پی اسکے لئے قابل تعریف ہے کہ اسے جو کچھ کرنا ہے،وہ بلا جھجھک کرلیتی ہے ۔اس بات پر بھی ہمیں حیرت نہیں ہونا چاہئے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس کے قدآور لیڈران ایک ایک کرکے اس کی جموں وکشمیر پالیسی کی حمایت کرنے میں ذرابھی شرم محسوس نہیں کررہے ہیں،یہ وہی کانگریس ہے جس نے 70سال کے دوران ہزاروںفسادات کا ناسوردیا اور اجودھیا میں تالا لگانے سے تالہ کھلنے اوربابری مسجد انہدام کے واقعات تک کانگریس ہی اقتدار پر براجمان رہی ہے ۔اور اس نے مسلمانوں کو ایک طرح کے ڈر وخوف میں مبتلا رکھ کر کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہی اور من مانی کرتی رہی ہے ۔سیکولرزم کی دہائی دینے والی پارٹیوں کی پارلیمنٹ میں قلعی کھل چکی ہے اور وہ وقت نزدیک ہے جب انہیں دودھ کی مکھی کی طرح پھینک دیا جائے گا۔بی جے پی کا ایجنڈا سبھی کو پتہ ہے اجودھیا میں جو کچھ ہونے والا ہے ،وہ بھی دھندلا دھندلا نظرآنے لگا ہے ،ہاں یہ سچ ہے کہ وہا ں مسجد کی تعمیر اب ممکن نہیں ہے ۔اور جو کچھ ہوگا ،وہ جمہوریت اور سیکولرز م کے راستے سے ہی ہوگا۔
مستقبل میں این آرسی اور دیگر امور کو بھی چھیڑا جائے گا،اترپردیش میں پہلے ہی مدرسوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ یوگی حکومت میں جاری ہے اور اسے ملک بھر میں آزمانے میںجلدیا بدیر کوئی جھجھک محسوس نہیں کی جائے گی ۔مسلمانوں میں ایک نئی بیداری پیدا کرنے کی خاصی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے ،کیونکہ نوجوان نسل اپنے معاملات میں مگن ہے اور جو ہوش میں ہیں ،وہ فکر مند نظرنہیں آرہے ہیں ،اب جبکہ واضح ہوچکا ہے کہ سیکولر پارٹیوں خود کو سنبھالنے میں ناکام ہوچکی ہیںاور یہ بھروسہ کے لائق نہیں رہی ہیں اوران پارٹیوں میں ملک بھر ماب لنچنگ جیسے واقعات شرعی امور میں مداخلت کا راستہ بند کرنے میں سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا ساتھ دینے میں ناکام ہوچکی ہیں۔
حال میں اس بات کا زیادہ احساس ہوتا ہے اور اگر آپ یوٹویب پر دینی چینلوںکا جائزہ لیں تو یہ محسوس ہوگا کہ ہم اپنے گریبان میں جھانک نہیں رہے بلکہ ہم وطنوں سے زیادہ خود مسلمانوں کے مختلف مسالک اور فرقوں کو نیچا دکھانے اور ذلیل ورسوا کرنے میں بازی ماررہے ہیں ۔اتحاد واتفاق کی باتیں قصہ پارنیہ بن چکی ہیں ۔ بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہورہا ہے ،شریعت میں چھیڑ چھاڑ کی اجازت دینے والے آپ ہیں کون؟سب کھچ بمبیا زبان میں ”بن داس ‘ بلا روک ٹوک ہورہا ہے اور ،مسلمان اپنی صفوں کو درست کرنے کے بجائے دیڑھ اینٹ کی مسجد میں بنانے میں لگے ہیں ۔کسمپرسی کے حالات کے باوجود ناامید نہ ہوتے ،اپنے اندراعتماد پیدا کریں اور صدق دل سے خود کے گریبان میں بھی جھانک لینا ضروری ہے۔

javedjamaluddin@gmail.com
Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD

Contact :9867647741.
02224167741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram