پندرہ روزہ قومی ورکشاپ بہ عنوان’’تحقیق : فن اور طریق کار‘‘ کا اختتام

تحقیق کا موضوع سماج کے مسائل سے متعلق ہونا چاہیے۔ پروفیسرآر۔پی۔پاٹھک
ہمارے عہد میں الفاظ و خیال ہی نہیں مذہب و عقیدہ بھی خریدا جارہا ہے:پروفیسرعتیق اللہ

شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام پندرہ روزہ قومی ورکشاپ بہ عنوان’’ تحقیق : فن اور طریق کار‘‘ کے اختتامی اجلاس میں مہمان خصوصی اردو کے ممتاز نقاد پروفیسرعتیق اللہ نے کہا کہ دنیا کی ترقی اور کامرانی میں تحقیق کا اہم رول رہا ہے ۔ تہذیبیں جب تک اپنی جڑوں سے وابستہ نہ ہوں پائیدار نہیں ہوسکتیں۔ شہر کی اپنی کوئی مخصوص تہذیب نہیں ہوتی بلکہ وہ ملٹی کلچر ہوتا ہے۔بازار، صارفیت اور بازار کی بدلتی صورت حال کو سمجھے بغیر کوئی بھی تحقیق بامعنی نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ شعبۂ اردو، بنارس ہند یونیورسٹی نے جس موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا ہے ، اس جانب عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اس موقع پرسیاسیات کے ممتاز عالم اور دانشور پروفیسر آر۔پی۔پاٹھک نے اپنی صدارتی تقریر میں تحقیق کے مسائل اور موضوعات اور یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ انھوں نے شعبۂ اردو کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے نے گذشتہ دو برسوں میں جن موضوعات پر قومی اور بین الاقوامی سیمینار مذاکرے اور مباحثے کا انعقاد کیا ہے وہ تحقیق و تنقید کی دنیا کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ورکشاپ مختلف زبانوں اور سماجی علوم کو ایک دوسرے سے قریب کرنے اور استفادے کی راہ ہموار کر نے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ اپنے استقبالیہ کلمات میں صدر شعبۂ اردو پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے مہمانوں اور شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے پندرہ روزہ ورک شاپ کی روداد اور کارگزاریوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ورک شاپ ہمارے طلبا اور اساتذہ کی کردار سازی اور تحقیق میں ان کی دلچسپیوں کو جلا بخشے گی۔پروفیسراشفاق احمد صدر شعبۂ عربی نے جامعات میں تحقیق کی صورت حال اور منصوبہ سازی وتحقیقی خا کہ تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بندی کے بغیر کوئی بھی اہم کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔ پروفیسرمنظرحسین صدرشعبۂ اردو رانچی یونیورسٹی نے تحقیق اور تنقید کے رشتوں پر گفتگو کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج ہمارا کلچربازار اور گھر میں رہنے والی صارفیت کے نرغے میں ہے ۔ورک شاپ کے شرکا نے بھی اورک شاپ کے تعلق سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر مشرف علی نے ، جب کہ اظہار تشکر کی رسم محترمہ رقیہ بانو نے ادا کی۔ اس جلسہ میں عربی، فاری، انگریزی، ہندی ، سماجی علوم اور سائنس کے اساتذہ ، ریسرچ اسکالر ، اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔آخر میں تمام شرکا کے درمیان اسناد تقسیم کی گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram