انتخابات کے نتائج قومی پارٹیوں کیلئے آزمائش کی گھڑی

 

 

 

 

 

 

 

 

جاوید جمال الدین
ملک میں لوک سبھا کے لیے عام انتخابات 2019کے آغاز میں طے ہیں ،لیکن حال میں شمالی ہندوستان کی تین اہم ترین ریاستوں ،جنوب اور شمال مشرق کی ایک ایک ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات قومی پارٹیوں کیلئے آزمائش کی گھڑی ہے اور حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج 2019کے لوک سبھا الیکشن کے بارے میں واضح اشارے دے دیں گے۔جوبھی نتائج سامنے آئیں ،حقیقت یہ ہے کہ برسراقتدار پارٹی بی جے پی ،اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس اوردیگر علاقائی سیکولرلیڈرشپ نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا ہے ۔یہ تو 11دسمبر کو ان ریاستوں کے نتائج سے ہی پتہ چلے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا،جن میں بی جے پی اقتدار والی ریاست مدھیہ پردیش ،راجستھان،چھتیس گڑھ کے ساتھ ساتھ تلنگانہ اور میزورم شامل ہیں ،حالانکہ شمال مشرقی ریاست کو عام طورپر زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے ،لیکن تلنگانہ میں بی جے پی نے فرقہ وارایت کا کارڈ کھیل دیا ہے۔
ملک کی ان اہم ترین ریاستوں میں وزیراعظم نریندرمودی آخری مرحلے تک انتخابی مہم میں ڈٹے رہے اور مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کے چہرے ان انتخابات میں نمایاں طورپر پیش کیے ہیں۔یہی حال کانگریس کا بھی رہا ،جہاں کانگریس صدر راہل گاندھی نے ان سبھی ریاستوںمیں انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ناقص کارکردگی کو اجاگر کرنے میں زمین آسمان ایک کردیا ۔ پولنگ کے بعد جو پیش گوئیاں کی جائیں گی ،وہ اپنے اپنے مقاصد سے پُرہوںگی ،لیکن ایک بات واضح ہوچکی ہے کہ کانگریس صدرراہل گاندھی کے حملوں اور دلائل سے بی جے پی میں بوکھلاہٹ پائی جارہی ہے،جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ ان ریاستوںمیں انتخابی مہم کے دوران رام مندر کا مسئلہ ہمنوا تنظیموں کے ذریعے اٹھایا گیا اور آخری پولنگ کے بعد ممکن ہے کہ یہ معاملہ ٹھنڈا پڑجائے۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بی جی پی نے ایک منصوبہ کے تحت بڑی ہوشیاری سے ہمنوا تنظیموں اور چھٹ بھیالیڈروں کو سرگرم کردیاکہ وہ اجودھیا میں رام مندر تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے اٹھائی منعقد کریں اور مندر -مسجد کار استعمال کیا جائے تاکہ اس مہم کا ان اسمبلی انتخابات کاپورا پورا فائدہ اٹھایا جاسکے. اس موقع پر بی جے پی صدر امت شاہ نے ان انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لئے ایڑھی چوٹی زور لگایامودی نے سابقہ انتخابی مہم میں زبان کو سنبھالنے نے کوشش کی لیکن کہیں نہ کہیں زبان پھسل ضرور گئیجس میں انہوں کرتار پور کامعاملہ اٹھاتےہوئے ملک کی تقسیم اور پاکستان کو مسلمانوں کی پسند قراردیا.
مذکورہ اسمبلی انتخابات کو 2019 کے عام انتخابات کا سیمی فائنل کہا جارہا ہے. جن کے لئے صرف چار مہینے باقی ہیں.کچھ بھی ہو یہ بی جے پی کے لئے سخت آزمائش کا موقعہ ہےجبکہان تینوں ریاستوں میں کانگریس کو بھی چیلنج کاسامنا ہے. کیونکہ ان انتخابات کے نتائج آئندہ لوک سبھا کا آئینہ کہے جاسکتے ہیں.بی جے پی حالیہ ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد کوئی رشک نہیں لینا چاہتی ہےکیونکہ ان ضمنی الیکشن میں اپوزیش اتحاد نے اسے دھول چٹادی تھی جبکہ راہل گاندھی کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ایک حد کانگریس انتخابی میدان کو اپنی کامیابی اور جیت میں تبدیل کرسکتی ہے.
بی جے پی نے ابتدائی دور میں اپنی فلاحی اسکیموں اور پالیسیوں کو عوام کے روبرو پیش کرنے کی کوشش کی پھر حالات سے دوچار اور رائے دہندگان کے منفی رُخ کو دیکھتے ہوئے ہندوتوا کے کار کو استعمال کرنے میں ہی عافیت سمجھی لیکن یہ وقت ہی بتائے گا کہ اس کو اپنے اس رویہ سے کتنی کامیابی ملی ہے. خصوصی طور پر بی جے پی نے تلنگانہ میں فرقہ وارنہ پالیسی اختیار کیاور یہی انداز آخری مرحلہ میں راجستھان میں بھی انہیں اختیار کرناپڑاجوکہ انتہائی خطرناک رجحان ہےجس میں آخری لمحہ میں ووٹرس اپنا ذہن بدل لیتا ہے. کانگریس نے کچھ ہی توقعات وابستہ کرلی ہیں لیکن کانگریس نے نرم ہندوتوا اور دیہی علاقوں کو حکومت کے ذریعہ نظرانداز کیے جانے کے سبب اپنی جگہ بنانے کا دعوی کرنا شروع کردیا ہے جوکہ اس کی خوش فہمی قرار دی جاسکتی .لیکن یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ ساتھ دیگر پارٹیوں نے بھی موجودہ اسمبلی الیکشن کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات کومدنظر رکھ کرلڑے ہیں اب جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest