چندرابابو نائیڈو کی بھوک ہڑتال اپوزیشن متحد، سیاسی لیڈران نے شرکت کی

نئی دہلی: نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے خلاف جدوجہد کی کوشش کے طور پر آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ و تیلگودیشم پارٹی کے سربراہ این چندرابابونائیڈو نے قومی دارالحکومت میں احتجاج اور ایک روزہ بھوک ہڑتال کی۔ مسٹرنائیڈو جو آندھراپردیش کو خصوصی درجہ دینے کے مطالبہ کو مرکز کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعد مودی کے ساتھ لڑائی کے موڈ میں ہیں‘ این ڈی اے حکومت کے خلاف دہلی کے آندھرابھون میں احتجاج کا آغازکیا۔ اس ایک روزہ احتجاج کو انصاف کے لئے احتجاج کا نام دیا گیا ہے۔ مسٹرچندرابابو نائیڈو صبح راج گھاٹ پہنچے اور وہاں خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد آندھراپردیش بھون گئے ،جہاں انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکرکے مجسمہ پر پھول نچھاور کئے اور اس احتجاج کا آغاز کردیا۔چندرابابونائیڈو اے پی سے ناانصافی کے خلاف بطور احتجاج سیاہ شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ اس احتجاجی مقام پر گاندھی جی ، امبیڈکر اور تلگودیشم پارٹی کے بانی این ٹی راماراو کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ آندھراپردیش کے وزراء‘ ارکان پارلیمنٹ‘ ارکان اسمبلی‘ ارکان کونسل‘ ملازمین کی تنظیموں‘ طلبہ تنظیموں سے وابستہ افرادبھی اس ایک روزہ احتجاج میں نائیڈو کے ساتھ ہیں۔ چندرابابو نے کہا کہ وہ ان سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب دس سال کے لئے اے پی کو خصوصی درجہ کامطالبہ کیا گیا تو موجودہ حکومت اس وعدہ کو کیوں پورا نہیں کر رہی ہے۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اے پی سے کئے گئے وعدوں بالخصوص اے پی تنظیم نو قانون میں کئے گئے وعدوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔مسٹر منموہن سنگھ، اے پی کو خصوصی درجہ اور اے پی سے انصاف کے مطالبہ پر وزیراعلی این چندرابابونائیڈو کی جانب سے دہلی کے اے پی بھون میں کی گئی ایک روزہ بھوک ہڑتال اور احتجاج سے یگانگت کااظہار کیا۔اس کے علاوہ صدر کانگریس راہل گاندھی ، عام آدمی پارٹی رہنما و دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال،جے ڈی یو کے سابق لیڈر شرد یادو ، سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو، سابق وزیراعلیٰ منموہن سنگھ نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest