نعتیں

نعت1
لمحوں کی تازگی کا اثاثہ حضور ہیں
ہر صبح، شام، شب کا خلاصہ حضور ہیں

ہر اک زبان پیاسی ہے چشمہ حضور ہیں
ہر ایک لفظ ریت ہے، دریا حضور ہیں

تنویر دو جہان کا افشا حضور ہیں
ہر جلوہء وجود کا جلوہ حضور ہیں

قرآن پڑھتے پڑھتے مری آنکھ لگ گئی
پھر کیا کھلی جو آنکھ تو دیکھا حضور ہیں

رب، انبیا، فرشتے سب آپ پر فدا
ہر جستجوئے دل کی تمنا حضور ہیں

آدم، بہشت، حوّا، زمیں کا یہ سلسلہ
ہر ایک جسم و جاں کا خلاصہ حضور ہیں

وہ آفتاب ہو کہ ہو مہتاب کی ضیا
ہر شئے کی آبرو کا اثاثہ حضور ہیں

سورج، قمر، ستارے، دھنک اور آسماں
ہر ذرّہء وجود کا نسخہ حضور ہیں

ساقی ازل سے سب کے زباں پر ہے بس یہی
ارفع ہیں، بے مثال ہیں، یکتا حضور ہیں

نعت2
میرے آقا کے لبوں پر اک حسیں مسکان ہے
بس یہی مسکان ساری روشنی کی جان ہے

نعت خوانی ہو رہی ہے عرش تا فرشِ بریں
ایسا لگتا ہے دو عالم نعتیہ دیوان ہے

جو نہ بھیجے گا درودیں احمد مختار پر
بے ادب، کم بخت ہے اور دوزخی انسان ہے

آپ کا صبر و تحمل اور بڑھیا کا ستم
شیریں گفتار و بلند اطوار کی پہچان ہے

ذکرِ ربی ہے ادھورا نامِ احمد کے بنا
نامِ احمد منزلِ مقصود کا عنوان ہے

نعت گوئی کا شرف ہم کو ملا ہے ساقیہ
“سیدِ ابرار کا ہم پر بڑا احسان ہے”

از:امام قاسم ساقی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest