میانمار حکومت کےظالمانہ سلوک سے برمی کے لاکھوں لوگ خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور

نئی دہلی:میانمار حکومت کے ظالمانہ سلوک کے نتیجہ میں لاکھوں برمی لوگ خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور کچھ لوگ جان بچا کر ہندوستان میں رہ رہے ہیںجن کی خبر گیری کرنے وان کا ہرممکن تعاون کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔اسی کے تحت کھجوری کے راجیو نگر میں قیام پذیرروہنگیائی پناہ گزینوں سے مولانا عبدالسلام قاسمی مصباحی (نائب صدر جمعیۃ علما صوبہ دہلی، الف)، مولانا محمد غیور قاسمی، مولانا سعید احمد میرٹھی اور مقامی تنظیم کے ذمہ دار محمدیامین و دیگر سرکردہ لوگوں نے ملاقات کر کے ان کی ضروریات معلوم کی اور ان میں دال ،چاول ،آٹا ، تیل ، چینی ، صابن ،دودھ و دیگرخوردونی اشیاء تقسیم کی جس سے پناہ گزینوں نے راحت کی سانس لی۔مولانا عبدالسلام قاسمی کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی ضروریات و تقاضوں کو پورا کرنے میں صاحب ثروت لوگوں کو دل کھول کرمدد کرنی چاہئے اور خاص طور سے تیو ہار کے موقع پر۔انہوں نے مزید کہا کہ نامساعد حالات سے دوچا ر لوگوں کا تعاون کرنا بڑی خدمت اور عبادت ہے جس سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔معروف سماجی کارکن مولانا محمد غیور قاسمی نے ائمہ عظام اور صاحب خیر لوگوں سے اپیل کی کہ مہاجرین ان کے پڑوسی ہیں جن کی تمام ضروریات کو پورا کرنا وقت کا تقاضہ ہے اور عید الا ضحی کے مد نظرمزید خیال رکھنے سے مہاجرین بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی برمی مہاجرین کے ساتھ اپنی سابقہ روایت کے مطابق معاملہ کر کے جو سب سے بڑی انسانی خدمت ہوگی جبکہ مہمانوں کا اکرام ہندوستان کی ممتاز صفت ہے اور انسانیت کی بنیاد پر خدمت ہو چاہئے تعلق کسی بھی مذہب وطبقہ سے ہو اور اسی سے آپسی بھائی چارہ کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں جس سے امن و امان کی فضا میں خوشحال ملک تعمیرہوتاہے جو سبھی کے مفاد میں ہے۔ مقامی تنظیم ’نو جاگرتی وکاس صلاح کار سمیتی کے ذمہ دار محمد یامین(بجلی والے) کا کہنا ہے کہ ہم اپنی تنظیم کے تحت مہاجرین کا تعاون کرتے رہتے ہیں مگرعلما کرام کے توسط سے جس طرح مہاجرین کو فیض پہنچ رہا ہے اس سے صاحب ثروت لوگوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر بیشتر مہاجرین نے علما کرام کو بتایا کہ بچوں کو دینی و ودنیا وی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے اخراجات کا فقدان ہے اور کرایہ بھی ادا کرنے میں دقتوں کا سامنا ہے حالانکہ روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے میں علما کرام پیش پیش رہتے ہیں جن کی انسانی ہمدردی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest