میرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جُو بہ جُو

.سہیل انجم

علامہ اقبال نے اپنی ایک چھوٹی سی مگر معرکہ آرا نظم میں جبریل اور ابلیس کے مابین مکالمہ نظم کیا ہے۔ جبریل سوال کرتے ہیں اور ابلیس جواب دیتا ہے۔ سوالات بے حد مختصر مگر جامع ہیں اور جوابات ان سے بھی جامع ہیں۔ مثال کے طور پر پہلے مصرعے میں جبریل پوچھتے ہیں:
ہمدمِ دیرینہ کیسا ہے جہانِ رنگ و بو؟
تو ابلیس جواب دیتا ہے:
سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو!
اقبال کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اس ایک مصرعے میں چھ چھوٹے چھوٹے لفظوں کے توسط سے پوری کائنات سمو دی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ابلیس کہتا ہے:
خضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پا
میرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جو بہ جو
یعنی خضر اور الیاس (علیہما السلام) بے بس ہیں، بے دست و پا ہیں۔ مگر میرا طوفان ہر جگہ ہے۔ سمندر ہو ، دریا ہو یا کوئی نہر ہو ہر جگہ میرا طوفان ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ جانے کیوں اس آخری مصرعے میں مجھے حالیہ کچھ دنوں سے نریندر مودی کا عکس نظر آنے لگا ہے۔ حالانکہ جب سے وہ ہندوستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں، انھیں کے چرچے ہیں اور انھیں کی ذات کی جلوہ نمائی ہے۔ لیکن جب سے موجودہ انتخابات کا آغاز ہوا ہے بلکہ اس کے کچھ پہلے سے ہی ان کی سرگرمیاں اور زیادہ بڑھ گئی ہیں اور ان کی باتیں زیادہ ہنگامہ خیز ہو گئی ہیں۔ لہٰذا ملک بھر میں اگر کسی سیاست داں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے تو انھیں کے بارے میں ہو رہی ہے۔ انھوں نے ہندستان میں جس قسم کی سیاست کو رواج دیا ہے اور ان کا جو طرز حکومت ہے وہ اس کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتا کہ ان کے علاوہ کسی اور کی بات ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے کسی وزیر کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی کسی عہدے دار یا افسر کی۔ خواہ وزیر ان کے مقابلے میں کتنا ہی سینئر اور تجربہ کار کیوں نہ ہو یا افسر کتنے ہی بڑے منصب پر کیوں نہ فائز ہو۔
اگر ہم غور کریں تو پائیں گے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے ہی مودی نے اپنی کاریگری دکھانی شروع کر دی تھی۔ جب انھوں نے پارلیمنٹ کے دروازے پر ماتھا ٹیکا تھا تو وہ ان کا پہلا آئٹم تھا۔ اس کے بعد تو وہ آئٹم پر آئٹم دکھاتے جا رہے ہیں اور اپنے بھکتوں کی تعداد بڑھاتے جا رہے ہیں۔ یوں تو ان کی ذات کے مختلف پہلو ہیں لیکن یہ پہلو انتہائی تشویش ناک ہے کہ انھوں نے ایسے افراد کی ایک فوج کھڑی کر دی ہے جو ان کی ایسی عقیدت مند ہے کہ ان کی ہر بات پر آنکھ بند کرکے ایمان لے آتی ہے۔ ناخواندہ تو ناخواندہ خواندہ افراد کی بھی بڑی تعداد اس فوج کی سپاہی بن گئی ہے۔ وہ عقل و شعور کے دائرے میں نہ آنے والی کوئی بھی بات کہہ دیں تب بھی یہ فوج اس بات پر ایسے ہی ایمان لے آتی ہے جیسے خلق کسی اوتار پر ایمان لے آئے۔ یہ فوج انھیں اوتار تو اوتار بھگوان بھی ماننے لگی ہے۔ وہ بھگوان کے خلاف کوئی بات تو گوارہ کر لیتی ہے لیکن ان کے خلاف کوئی بھی بات اسے برداشت نہیں ہے۔ نائب صدر ایم وینکیا نائڈو تک یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ نریندر مودی ہندوستان کے لیے بھگوان کا وردان ہیں۔ خیر وہ تو اسی دانش گاہ کے تعلیم یافتہ ہیں جہاں کے مودی ہیں ان کو تو یہ کہنا ہی چاہیے، لیکن ایسے لوگ بھی کچھ اسی قسم کے خیالات رکھتے ہیں جن کا اس دانش گاہ سے کوئی تعلق نہیں۔
مودی کے نطق گہر بار سے ہمیشہ موتی جھڑتے رہتے ہیں۔ اس تسلسل میں وہ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن کو سن کر بڑے سے بڑے تعلیم یافتہ بھی حیران ہو جائیں کہ ارے مودی جی نے کیا بات کہہ دی یہ تو ہمیں بھی نہیں معلوم تھی۔ ہم نے کتنی کتابیں پڑھیں، کتنا مطالعہ کیا لیکن یہ بات ہمیں بھی نہیں معلوم تھی۔ مثال کے طور پر وہ یہ راز فاش کر چکے ہیں کہ پراچین بھارت میں پلاسٹک سرجری موجود تھی۔ اس کے ثبوت میں وہ بتاتے ہیں کہ اسی سرجری سے گنیش جی کی گردن پر ہاتھی کا سر آپریشن کرکے فٹ کیا گیا تھا۔ وہ اپنی قابلیت کے سہارے یہ بھی بتا چکے ہیں کہ سکندر دریائے گنگا کے پاس پہنچا تو اہل بہار نے اسے مار بھگایا۔ جبکہ وہ کبھی وہاں تک گیا ہی نہیں تھا۔ یہ راز بھی انھوں نے ہی فاش کیا کہ تکشلا بہار میں ہے۔ جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ وہ تو پاکستان میں موجود ہے اور تاریخ کے صفحات میں گم ہونے کے بجائے اب بھی اپنا زندہ وجود رکھتا ہے۔ خیر یہ سب تو جانے دیجیے، ابھی انھوں نے تازہ بہ تازہ جو بیانات دیے ہیں وہ تو کمال کے ہیں۔ انھوں نے ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ راز فاش کر دیا کہ راڈار بادلوں کے پار نہیں دیکھ پاتے۔ اسی لیے انھوں نے فضائیہ کو حکم دیا تھا کہ اگر موسم خراب ہے تو کیا ہوا، بارش ہو رہی ہے تو کیا ہوا، بادل چھائے ہیں تو کیا ہوا۔ بادل سے ہمیں یہ فائدہ ہے کہ ہمارے طیاروں کو پاکستانی راڈار پکڑ ہی نہیں پائیں گے۔ لہٰذا بالا کوٹ پر حملہ کر دو۔ ان کے اس بیان پر جس طرح پوری دنیا میں گفتگو ہو رہی ہے اور ان کی معلومات اور قابلیت و صلاحیت کو جس بڑے پیمانے پر داد دی جا رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ان کے اس بیان پر تو پوری دنیا میں ان کی بلّے بلّے ہو رہی ہے۔
اسی طرح انھوں نے پہلی بار یہ راز بھی کھولا کہ 1987-88 میں ان کے پاس ایک ڈجیٹل کیمرہ تھا جس سے انھوں نے ایل کے آڈوانی کی فوٹو کھینچی تھی اور اسے گجرات سے دہلی بذریعہ ای میل ٹرانسمٹ کیا تھا اور اگلے روز دہلی کے اخباروں میں اڈوانی کی رنگین تصویر چھپی تھی جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے تھے۔ اب لوگ خواہ مخواہ یہ بحث کر رہے ہیں کہ اس وقت تو ڈجیٹل کیمرہ تھا ہی نہیں۔ وہ تو 1990 میں آیا اور ای میل کی بھی سہولت نہیں تھی۔ عوامی ای میل کی سہولت 1995 میں آئی ہے۔ اب بحث کرنے والوں کو کوئی کیا بتائے کہ مودی تو عام آدمی نہیں ہیں نا۔ وہ تو بھگوان کے وردان ہیں یا اوتار ہیں اور اوتار تو جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ کوئی بھی شے حاصل کر سکتا ہے بلکہ کسی کو وردان میں کچھ بھی دے سکتا ہے۔ جب انھوں نے ’’اینٹائر پولیٹیکل سائنس‘‘ میں ایم اے کر لیا جو کہ کوئی سبجکٹ ہی نہیں ہے اور ان کی مارک شیٹ اس وقت بھی کمپیوٹر سے تیار ہوئی تھی جب کمپیوٹر آیا ہی نہیں تھا، تو پھر کیا وہ ڈجیٹل کیمرہ اور ای میل کی سہولت حاصل نہیں کر سکتے۔ لوگ احمق ہیں جو اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں، پائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیں۔
ہمارے ایک شناسا کہنے لگے کہ لوگ مودی کی ان باتوں کو بہ نظر حیرت کیوں دیکھتے ہیں اور یہ کیوں کہتے ہیں کہ مودی بہت لا علم آدمی ہیں۔ ارے وہ جو کچھ بھی ہوں وہ جان بوجھ کر ایسے بیانات دیتے ہیں تاکہ ان کی بات چلتی رہے۔ لوگ ان کے بارے میں خیال آرائی کرتے رہیں۔ وہ میڈیا اور عوامی حلقوں میں چھائے رہیں۔ لوگوں کو یہ کیوں نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ ایسی باتیں کرنے کے لیے بھی دماغ چاہیے، اعلیٰ قابلیت اور غیر معمولی صلاحیت چاہیے۔ یہ ساری خوبیاں ان کے اندر ہیں اسی لیے تو وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ کیا مودی کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ راڈار کیسے کام کرتا ہے یا ہندوستان میں ڈجیٹل کیمرہ اور ای میل کی آمد کب ہوئی۔ ذرا سوچیے اگر انھوں نے اس کے الٹ بات کی ہوتی تو کیا اس پر کوئی توجہ دیتا۔ اگر انھوں نے یہ کہا ہوتا کہ بادل تھا اس لیے میں نے ایئر اسٹرائیک کا پروگرام ملتوی کر دیا، یا پھر یہ کہا ہوتا کہ جب ہندوستان میں ڈجیٹل کیمرہ اور ای میل کی سہولت آگئی تو میں نے فلاں فلاں کام کیا تو کیا اس پر کوئی شخص توجہ دیتا۔ لوگ ادھر سنتے ادھر اڑا دیتے۔ یہ ان کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے کہ ایسی بات کہو کہ سننے والے دیر تک سر دھنتے رہیں۔
خیر ہم نے اقبال کی نظم سے اپنی بات شروع کی تھی اسی پر ختم بھی کرنا چاہتے ہیں۔ مذکورہ نظم میں ابلیس جبریل سے کہتا ہے:
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
قارئین کرام ذرا غور فرمائیں کہ گزشتہ پانچ برسوں سے ہندوستانی سیاست کے خاکے میں کس نے رنگ بھرے ہیں۔ آخر وہ کون سی شخصیت ہے جس کی عدیم المثال باتیں ہندوستانی سیاست کے بے رنگ نقشے کو رنگین بنا گئی ہیں۔
لیکن یہ سب یوں ہی نہیں ہو جاتا بلکہ چوبیس گھنٹے میں سے اکیس گھنٹے کام کرنے پڑتے ہیں تب جا کر ایسے گل کھلتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک ابلیس اسی لیے تو پسندیدہ ہے کہ وہ ہمیشہ متحرک رہتا ہے، کام ہی کام کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہفتے کی بھی چھٹی نہیں لیتا۔ ایسی ہی شخصیات کے لیے میر صاب بھی کہہ گئے ہیں:
’’مت سہل ہمیں جانو…‘‘
sanjumdelhi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram