شام شہر یاراں ۔پروفیسرخواجہ محمد اکرام کی کتاب پرمذاکرہ

رزمیہ محض جنگ و جدل سے عبارت نہیں: پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی
غالب انسٹی ٹیوٹ میں ’شام شہر یاراں‘ کے تحت پروفیسرخواجہ محمد اکرام کی کتاب ’اردو، عربی اور فارسی میں رزمیہ ادب‘ پر مذاکرہ

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام شام شہر یاراں میں تقریباً ہر ماہ کسی نئی اور اہم کتاب پر مذاکرے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ خواجہ محمد اکرام الدین کی مرتبہ کتاب ’اردو، عربی اور فارسی میں رزمیہ ادب‘ پر مذاکرے کا انعقاد عمل میں آیا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا ’شام شہر یاراں‘ کوئی نیا پروگرام نہیں ہے ادبی حلقے سے وابستہ افراد اس سے بخوبی واقف ہیں، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ہم یہ محسوس کر رہے تھے کہ یہ مذاکرہ پر تکلف ہوتا جا رہا ہے ، اظہار خیال کرنے والے بہت نپے تلے اور محتاط انداز میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں لہٰذا اس مرتبہ یہ بزم کچھ اس طرح سجائی گئی ہے کہ اس گفتگو کے دوران آپ کے ذہن میںجو خیال جس وقت ابھرے آپ اس کا بر ملا اظہار کر سکتے ہیں۔ رزمیہ شاعری کے تعلق سے ایک غلط فہمی یہ ہے کہ وہ صرف جنگ و جدل سے عبارت ہے ۔ یہ غلط نہیں ہے لیکن پوری طرح سے درست بھی نہیں۔ رزمیہ عناصر ہمارے ادب میں جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں جن کو نشان زد کرنے اور ان پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضا حیدر نے کہا۔ شام شہر یاراں میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کسی سنجیدہ اور اہم کتاب پر مذاکرہ ہو، اس حوالے سے خواجہ محمد اکرام الدین صاحب کی یہ کتاب نہایت اہم ہے کیونکہ رزمیہ ادب پر باضابطہ کوئی کتاب شاید موجود نہیں ۔ دوسری بات جو اس کتاب کو اہم بناتی ہے، یہ ہے کہ اس میں جن مقالہ نگار حضرات کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں کچھ لوگ نہ صرف دوسری زبان کے ہیں بلکہ ان کا تعلق بھی غیر ملک سے ہے۔ اس طرح یہ کتاب یہ بھی بتاتی ہے کہ مختلف زبانوں اور مختلف خطوں کے لوگ رزمیہ کے بارے میں کس طرح سوچتے ہیں۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ مجھے خوشی ہے اس کتاب پر گفتگو کا آغاز اس عالمی شہرت یافتہ ادارے میں ہو رہا ہے۔ میں جب کلاس میں بچوں کو پڑھاتا تھا تو ایک سوال معمول کے طور پر بچوں کی طرف سے آتا تھا کہ سر اس موضوع پر کوئی کتاب بھی ہے؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔ اسی وقت میں نے فیصلہ کیا کہ اس موضوع پر ایک ایسا سمینار منعقد کروں گا جو رزمیہ کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرتا ہو میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی۔ پروفیسر مجیب الرحمٰن نے کہا کہ خواجہ صاحب نے جب مجھے اس سمینار کے منسوبے کے بارے میں بتایا تو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اس اہم ترین موضوع پر غالباً پہلا سمینار منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس سمینار اور اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے تینوں زبانوں کے اہل قلم کو قریب آنے کا موقع ملا اور ہم بیک وقت تینوں زبان کے رزمیہ ادب کو اس کتاب کے وسیلے سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ عربی ادب کے تعلق سے تمام ادبا کا متفق علیہ فیصلہ ہے کہ عربی میں غنائی شاعری کا وجود تو ہے لیکن رزمیہ شاعری کا نہیں ۔ اس سمینار کی برکت سے جب میں نے مطالعہ شروع کیا اور غور کیا تو محسوس ہوا کہ با ضابطہ نہ سہی لیکن ادب کی مختلف اصناف میں رزمیہ عناصر بکھرے پڑے ہیں اور اس سمت میں گفتگو کے ابھی بہت سے مواقع ہیں۔ ایک کامیاب سمینار یا کتاب کی یہی خصوصیت ہوتی ہے کہ اس کے ذریعے نئے امکانات روشن ہوتے ہیں ، اس لحاظ سے منعقدہ سمینار اور یہ کتاب ہمیشہ حوالے کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔ پروفیسر اختر حسین کاظمی نے کہا کہ عرب کے قبائلی لوگ جنھیں ہم بدو کہتے ہیں وہ صرف اپنے قصائد پر فخر کرتے تھے ان کو صحیح اندازہ نہیں تھا کہ ان کے پاس فخر کرنے کے لیے اس سے بھی زیادہ سرمایہ موجود ہے۔ لیکن ایران کا ممتاز ترین شاعر فردوسی جب اپنے فن کا اظہار چاہتا ہے تو وہ غزل رباعی وغیرہ کو اپنا وسیلہ نہیں بناتا بلکہ رزمیہ کو وسیلہ بناتا ہے اور یہی آج دنیا میں اس کی شہرت کا سبب ہے۔ خواجہ اکرام صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے تینوں زبانوں کے ادب کو ملا کر ایک بیش قیمت گلدستہ تیار کیا ہے۔ پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خواجہ اکرام صاحب علمی کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ اچھی کتاب کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ انھوں نے جس اچھوتے موضوع کا انتخاب کیا وہ اردو ہی نہیں ہر بڑے ادب میں امتیازی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کتاب میں ادب کی بیشتر اصناف کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن مثنوی اور داستان کے تعلق سے کچھ تشنگی کا احساس ہوتا ہے، امید ہے کہ آئندہ اس کمی کی بھی تلافی ہو جائے گی۔ پروفیسر علیم اشرف نے کہا کہ اس کتاب میں رزمیہ کے تعلق سے جو گفتگو ہوئی وہ بہت اہم ہے لیکن ہمیں ایک سوال کی طرف بھی غور کرنا چاہیے، کہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے اردو میں رزمیہ کی ویسی روایت قائم نہیں ہو سکی جیسی ایران میں موجود تھی۔ میرا خیال یہ ہے کہ اردو کی ترقی کا زمانہ اور ہماری سیاسی تنزلی کا زمانہ ایک ہے ۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے اردو کو رزمیہ کے لیے سازگار موقع ہی نہیں ملا۔ خواجہ محمد اکرام نے تینوں زبانوں کو ملا کر یہ کتاب مرتب کی ہے اس کی افادیت یہ ہے کہ رزمیہ پر کام کرنے والے لوگوں کے پیش نظر تینوں منظرنامے ہوں گے۔ پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ اردو میں رزمیہ کی روایت زیادہ مستحکم نہیں رہی اس کی کچھ تلافی مراثی سے ضرور ہو جاتی ہے لیکن باضابطہ روایت ہمارے یہاں نہیں تھی اور یہ کوئی قابل افسوس بات بھی نہیں کیونکہ رزم اپنے اثرات کے لحاظ سے کوئی قابل ستائش چیز نہیں۔ سمینار ہوتے رہتے ہیں اور کتابیں بھی شائع ہوتی ہیں لیکن ایسے موضوع کا انتخاب جو اچھوتا بھی ہے اور بامعنی بھی خواجہ صاحب کے حصے میں آیا اس کے لیے ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ڈاکٹر محمد کاظم نے کہا کہ خواجہ صاحب نے اس سمینار کے ذریعے مختلف خطوں اور زبانوں کے لوگوں کو جمع کر لیا ہے اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ الگ الگ زبانوں کے لوگ اس موضوع پر کس طرح سے سوچتے ہیں۔ دہلی کی تینوں یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرس کی نمائدگی بھی قابل تعریف فیصلہ تھا۔ ڈاکٹر شفیع ایوب نے نہایت خوش اسلوبی سے اس مذاکرے میں نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اپنی گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ یہ کتاب جس سمینار پر مشتمل ہے اس کا آغاز ہی بہت شاندار ہوا تھا۔ کلیدی خطبے سے اس موضوع کے نئے گوشے روشن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس کتاب کی جس خوبی نے مجھے بے حد متاثر کیا وہ یہ کہ اس میں کوئی گفتگو حرف آخر اور ادعائیت کے لہجے میں نہیں کی گئی بلکہ ایک ناتمامی کا احساس آخر تک قائم رہتا ہے اور اس موضوع پر مزید گفتگو کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس موقع پر اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد خاصی تعداد میں موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram