مسلمانوں سے امتیازی سلوک ،پولیس اور انتظامیہ کی فطرت

 

 

 

 

 

 

 

 

جاویدجمال الدین
ہندوستان کے مختلف علاقوں میں حال کے دنوں میں کئی ایسے واقعات اور وارادتیں ظہورپذیر ہوئی ہیں ،جن کے دوران مشتعل افراد کے ذریعہ قانون ہاتھوں میں لینے کے باوجود امن وامان نافذ کرنے والی پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گولیاں چھوڑیں ،لاٹھیاں بھی نہیں برسائیں بلکہ ان تشددپر اترے لوگوں کو دوڑانے کے لیے صرف زمین پر لاٹھیاں ماری گئیں ،اترپردیش،راجستھان ،بہار اور جھاڑکھنڈوغیرہ میں پولیس ہجومی تشدد کے دوران تماشائی بنی نظرآئی جبکہ یوپی کے بلند شہر میں ایک پولیس افسر ہی ان کے تشدد کا شکار بن گیا اور شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔لیکن ان سے سنگین واقعات مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن اور راجستھان میں گُوجر ریزرویشن کے دوران تشدد کے باوجود حکومت ،انتظامیہ اور پولیس ہاتھ پر ہاتھ دہرے بیٹھے رہے۔
گوجر وں نے تو یہ فیشن بنالیا ہے کہ ممبئی ۔دہلی ریل روٹ کو بند کردیا جاتا ہے ،جس سے کروڑوں۔اربوں کا نقصان ہوتاہے اور لاکھوں مسافر وں کی پریشانی وبدحالی کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے ،انہیں ریل پٹریوں سے ہٹانے اور کھدیڑنے کے بجائے سرکاری افسران ان کی خدمت میں لگے رہتے ہیں ،ایک گولی کیا ،لاٹھی تک نہیں چلائی جاتی ہے۔لیکن اگر ان کی جگہ اقلیتوں اور دلتوں خصوصاًمسلمانوں کا احتجاج ہوتو پھر لاء اینڈآرڈرقائم کرنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ چاق وچوبند ہوجاتی ہے ،خدان خواستہ اقلیتی فرقہ کے احتجاجی تشددپر اتر آئے تو پھر دیکھنا اندھادھند گولیاں داغی جاتی ہیں اور انہیں کمرکے اوپر اور سینے میں پیوست کرنے کے لیے مقابلہ آرائی ہوتی ہیں ،لاشوں کے گرنے کے بعد حکومت ،انتظامیہ اور پولیس ان احتجاجیوں کو چور،لٹیرے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے غنڈے قراردینے کے لیے کمر کس لیتی ہے اور پھر ذرائع ابلاغ کا تو باوا آدم بھی نرالا ہوتا ہے۔
آزادی کے بعدملک بھر میں ہونے والے ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ،ممبئی ،بھیونڈی ،گجرات ،بھاگل پور،مظفرنگر میں جو کچھ ہوا ،اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے ،لیکن مجھے یہاں ممبئی میں تیس سال قبل پیش آنے والے ایک قتل عام کا ذکر کرنا ہے جس میں گیارہ نہتے مسلمانوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا ،جن میں حج بیت اللہ جانے والے دوعازمین حج اور ایک نابالغ لڑکا بھی شامل تھااور انہیں انصاف دینے کے بجائے پولیس نے انہیں شرپسند قراردینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ،جنوبی ممبئی کے جے جے اسپتال کے کیزوالٹی وارڈ میں اسٹریچر وںپر پڑی ان لاشوں کو بھلانہیں سکتا ہوں،ویسے تو ملک میں سیکڑوں واقعات میں بے قصوروں کو انصاف نہیں مل سکا ہے ،لیکن 24فروری1989کو جنوبی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقہ محمد علی روڈاور کرافورڈ مارکیٹ پر ہونے والی پولیس کی بے دریغ فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے ان بے قصوروں کوتین دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی انصاف نہیں مل سکا ہے،بلکہ دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی منہ موڑلیا ،حکومت سے تو کوئی امید نہیں کی جاسکتی ہے ،کیونکہ انہوں نے فائرنگ کرانے والے اعلیٰ افسرشنگارے کو پروموشن دے دیا اور بالآخر ملازمت کے آخری دورمیں ممبئی کا پولیس کمشنر مقررکیا جس نے کہا تھا کہ ’’میں نے اقلیتی فرقے کی کمر توڑدی ہے ۔اور یہ کبھی سڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔‘‘یہ تین دہائیاں گواہ ہیں کہ اس کے بعدمسلمان ڈروخوف کے سبب بڑی تعدادمیں احتجاج کرنے سڑکوں پر نہیں اترے ہیں۔ہاں صرف بابری مسجد کی شہادت کے بعدانہیں سڑکوں پرغم وصدمہ میں دیکھا گیا تھا۔
میں ذکرکررہا تھا کہ 24فروری 1989کو قلب ممبئی میں مسلمانوں پر اندھادھند گولیاں برسانے گا اور گیارہ افراد لقمہ اجل بن گئے ،دراصل بدنام زمانہ ہندنژاد سلمان رشدی کی کتاب ’’ شیطانک ورسیس‘‘( Satanic Verses)میں رسول ؐاللہ اور ازواجہ مطہراتؓ کی شان میں گستاخی کے خلاف ایران کے آیت اللہ خمینی کے موت کے فتوے کے بعد ممبئی کے مسلمانوں کی کئی تنظیموں نے احتجاج کا فیصلہ کیا ،میں ان دنوں کالج میں زیرتعلیم ہونے کے ساتھ ہی روزنامہ اردوٹائمز سے وابستہ ہوچکا تھا ،لیکن یہ غالباً میری پہلی رپورٹنگ تھی ،جسمیں خون خرابہ سے واسطہ پڑاتھا،اُس روزبعد نماز جمعہ میں بھی مستان تالاب پہنچ گیا ،جہاں بڑی تعداد میں مسلمان جمع ہونے لگے تھے اور انہیں مسلح پولیس نے گھیر رکھا تھا ،یہیں کھڑے رہ کرایک اعلیٰ پولیس افسر شنگارے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے نظرآئے ۔مستان تالاب میدان مسلم گنجان آبادی میں واقع ہے ،مسلمان کئی تنظیموں کے پرچم تلے دوتین کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع برطانوی ہائی کمیشن کے دفتر پر جانے کا من بنا چکے تھے ،لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے منتظمین کو پولیس نے پہلے ہی حراست میں لے لیا ہے ۔پولیس نے دانستہ طورپر ان مسلمانوں کو آگے بڑھنے دیا اور تقریباًڈیرھ دو کلومیٹرکے فاصلہ پرمحمدعلی روڈ اور کرافورڈ مارکیٹ کے جنکشن پر انہیں گولیوں کا نشانہ بنادیاگیا ،حالانکہ محکمہ پولیس کے افسران بعدمیں بیان دیتے رہے کہ دفعہ144نافذ تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کی گئی ،اگر ایسا تھا تو اتنی بڑی تعداد میں جلوس کی شکل میں ان افراد کو ڈیڑھ سے دوکلومیٹر کا فاصلہ کیوں طے کرنے دیا گیا ۔اس درمیان جب پولیس ان مظاہرین پربلااشتعال فائرنگ کررہی تھی ،صرف مرحوم مولانا عبدالقدوس کشمیری مردمجاہد کی طرح کھڑے رہے اور نوجوانوں کو مشتعل ہونے سے روکتے رہے۔مولانا کشمیر ی پولیس کے افسران کے رابطہ میں بھی رہے اور یہی وجہ تھی کہ اموات کی تعدا دکم رہی۔پھر بھی گیارہ بے قصوروںکو گولیوں سے بھون دیا گیا ۔اور پولیس نے ذرائع ابلاغ کی مددسے ان افراد کو خون خوار شرپسند لٹیرے اورڈاکوئوںثابت کرنے میں کوئی کسرنہیں رکھی ،جوکہ قریبی واقع جوہری بازار اور کپڑامارکیٹ لوٹنے آئے تھے،حالانکہ مستان تالاب میدان سے جلوس شروع ہونے سے قبل شنگارے جیسا اعلی ٰپولیس افسراور پولیس اہلکاروں کے تیورواضح اشارہ دے رہے تھے کہ ان کا منشا ء ٹھیک نہیں ہے ،المیہ یہ تھا کہ مسلمان اسے بھانپ نہیں سکے ،کیونکہ کوئی اہم لیڈر نہیں تھا ،جبکہ مسلمان بھی احتجاج کے حامی اور مخالفین میں تقسیم ہوچکے تھے۔مولانا عبدالقدوس کشمیری نے کئی نوجوانوں کو پولیس کی گولی اور چنگل سے بچانے میں کامیابی بھی حاصل تھی۔ایک عرصہ تک ان گیارہ افراد کی موت کا واقعہ مسلمانوں کے سینہ پر آگ لگاتا رہا اور ان کے زخموں کو بھرنے میں وقت لگ گیا ،اس وقت شردپوار مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ اور آنجہانی ولاس سامنت وزیرداخلہ کے عہدہ پر فائز تھے ،جنہیں مسلم دوست کہا جاتا رہا ،لیکن ان کے دورمیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔اس تشددکا ایک سبب مسلمانوں کا آپسی خلفشار بھی بتایا جاتا ہے ۔
سلمان رشدی کی متنازعہ کتاب غالباً1988میں منظرعام پر آئی اور اس گستاخ رسولؐ کی کتاب پر ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر مسلم ممالک نے پابندی عائد کردی تھی ،ایران کے روحانی قائد آیت اللہ خمینی نے بھی گستاخ رسول ؐ اور ازواجہ مطہرات کے لیے موت کا فتویٰ جاری کردیا ،وزیراعظم راجیو گاندھی بھی ملک میں اکتوبر 1988کو پابندی کا اعلان کرچکے تھے ،جس کے بعد مسلمانوں کا غصہ مزید بڑھ گیا ،کیونکہ آزادی اظہار کے نام پر اس کتاب کا دفاع کیا جاتا رہا اور برطانوی حکمراں بیان بازی کرتے رہے ، آخر کار 24فروری 1989کو ان کا غصہ ابل پڑا ،اور ان مسلم نوجوانوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔اور اب کوئی ان کی یاد بھی نہیں مناتا ہے ،حالانکہ یہ لوگ گستاخ رسولؐ کو پناہ دینے والی برطانوی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔لیکن ہاتھ ممبئی پولیس نے کردیا ،ممبئی عالمی سطح پر ایک بڑے شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔جہاں ان کے ساتھ امتیازی اور نارواسلوک کے سیکڑوںقصے مشہورہیں۔
اس واقعہ کو یادوں کے جھروکے سے باہر نکالنے کامیرا مقصد صرف یہ ہے کہ ہندوستان کے ارباب اقتدار اور ہمارے وقتی ملی رہنماء کتنا بھی دعوی کریں اورہمیں نصیحتیں کرتے رہیں ،لیکن اس حقیقت کو انہیں تسلیم کرنا ہی ہوگاکہ ملک کی آزادی کے بعد سے کئی دہائیاں گزرجانے کے بعدبھی ہمارے ساتھ امتیازی سلوک اور جانبداری کا سلسلہ جاری ہے اور ہمیں ابھرنے اور پنپنے نہیں دیا جاتا ہے ،اگرمیں فرقہ وارانہ فسادات کا ذکرکروں تو یہ داستان کافی طویل ہوجائے گی ،میں نے ابتداء میں کئی ایسے ہی پرتشددواقعات کوگوش گزار کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتانا چاہاکہ راجستھان میں گُجروں کا پُرتشدد احتجاج ہویا مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کی تشددسے بھری تحریک ۔اس دوران کوئی گولی نہیں چلتی ہے بلکہ لاٹھی کا استعمال کرنے سے بھی احتراز کیا جاتا ہے،لیکن اگر مسلمان نوجوان ذرا سا مشتعل ہوجائیں تو انہیں بخشا نہیں جاتا ہے اور انہیں نشانہ بنانے کے لیے سینہ تلاش کیا جاتا ہے ،تاکہ دوسرا سان نہ لے سکے۔یہ بھی ہم سے جڑاایک سنگین مسئلہ ہے ،کیونکہ دستوراور آئین نے ہمیں جوجمہوری حقوق دیئے ہیں انہیں حاصل کرنے کے لیے سڑکوںپر احتجاج بھی ایک جمہوری طریقہ کار ہے ،لیکن ممبئی میں 2013میں آزادمیدان میں پرتشدداوقعہ کے بعد اقلیتی فرقہ کو کسی بھی طرح کے احتجاج اور دھرنے کے لیے اجازت دینے کا سلسلہ بندسا ہے اوراگر اجازت مل بھی جاتی ہے تو شرائط کی لمبی فہرست پیش کردی جاتی ہے، اس طرح ان کے جمہوری حق کا گلاگھونٹنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور وقت رہتے اس سمت میں توجہ نہیں دی گئی ہے تو مستقبل میں کئی دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram