مسلمان،شوبھا یاترا اور گنگا جمنی تہذیب

مکرمی:یہ بات دعوے سے کہی جا سکتی ہیکہ پوری قوم نہیں چند فرقہ پرست ہی سماج کے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑتے ہیں۔ملک میں اس طرح کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالیں موجود ہیں۔9جولائ 2019میں پرانی دہلی کے حوض قاضی پر واقع درگا مندر کے اطراف میں ایک دوسری کمیونٹی کی جانب سے بھنڈارے کا نظم کیا گیا اور حوض قاضی،نئ سڑک،فتح پوریپوری اور لال کنواں سے گزرنے والے جلوس کا استقبال کیا گیا اور ان پر پھول برسائے گئے۔واضح رہے کہ پرانی دہلی کے درگامندر میں فرقہ وارانہ فساد میں کچھ مورتیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئ تھی۔اس کے ہفتے بعد علاقے کے ہندو اور مسلمانوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ مورتیوں کو دوبارہ نصب کیا جائے،اس کیلئے جلوس اور بھنڈارے کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر مسلمانوں نے جلوس میں شامل ہندو افراد کو ٹھنڈا پانی اور کھانا پیش کیا۔عبدالباقی اور محمد احمد نامی دو مقامی افراد میں ان کاموں میں فعال کردار ادا کیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنانے کیلئے بہت محنت اور کوششیں کیں۔اس طرح کی مثالیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط کرتی ہیں جو ہندوستان کی پرانی روایت رہی ہے۔
محمد رضوان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *