ہمارا مقصدمسلم نوجوانوں کی ذہنی تربیت کرکےانہیں اعلی تعلیم کے لیے کامیابی دلاناہے

ممبئی میں ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلس(اے ایم پی) نے مسلم پسماندہ علاقوںمیں تعلیمی بیداری اور ملازمت کے سلسلہ میں مہم شروع کی ہے ،اس تعلق سے جنوب وسطی ممبئی کے وڈالا ایسٹ میں گریجویٹس فورم اور دیگر مقامی تنظیموں کی جانب سے دسویں گیارھویں اور بارھویں کے طالبہ کے لیے ایک کریئر گائڈنس پروگرام مدرسہ گلشن بغداد میں منعقد کیا گیا۔اس موقع مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے کہا کہ ہمارا مقصد نوجوانوں کی ذہنی تربیحت ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور کامیابی حاصل کرسکیں۔
مذکورہ پرو گرام میں ممبئی کے مشہور کریئر کاونسلر آفتاب صدیقی نے طلبہ کی کثیر تعداد سے مخاطب ہو تے ہوئے اپنے آپ کو کیسے پہچانیں، پڑھائی کیسے کریں اور کریئر کیسے منتخب کریں؟ اس پر سیر حاصل گفتگو کی۔ آفتاب صدیقی نے بڑی تفصیل کے ساتھ طلباءکے سامنے مختلف کریر آپشنس کے بارے میں معلومات پیش کی۔ انہوں نے طلبا کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے۔
ماہر تعلیم رحمان خان نے کہا کہ ہمیں دوران طالب علمی ہی میں فیصلہ کر لینا چاہیے کے ہم نے کس فیلڈ کو جوائن کرنا ہے۔ انسان جو کچھ بھی ہوتا ہے ماضی میں اپنے کیے ہوئے فیصلوں کی وجہ سے ہی ہوتاہے۔تعلیمی میدان میں فیصلے سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اندر پائی جانے والی خوبیوں کا اندازہ لگا کر تعلیمی شعبہ منتخب کریں۔ معروف جرنلسٹ جاوید جمالدین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحیح وقت میں کیریئر پلاننگ نہ ہونے کے باعث ہر شعبے اور معاشرے میں گمراہی اور بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارے اردگرد بہت سی ایسی مثالیں ملیں گی کہ انہوں نے تعلیم کیا حاصل کی اوربن کیا گئے۔
اے ایم پی کے صدر اور اس پروگرام کے مہمان خصوصی عامر ادریسی نے کہا کہ نوجوان اس ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو درست استعمال کرنے کی بجائے ضائع کیا جا رہاہے۔ اسی وجہ سے نوجوان حسرت ومایوسی کی تصویر بن گئے ہیں۔ درست کیریئر گائیڈنس کے فقدان سے نوجوان طلباءکے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور پھر یہ نوجوان برے کاموں اور جرائم کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔ عامر ادریسی نے مزید کہا کہ ہم وڈالا ایسٹ میں واقعی سنگم نگر، دین بندھو نگر، بھارتیہ کملا نگر اور اطراف کے تمام علاقوں کی تعلیمی پسماندگی کو محسوس کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کریں گے اس طرح کے مزید پروگرام منعقد کئے جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہم آنے والے دنوں میں والدین کی ذہن سازی کے بھی پروگرام منعقد کریں گے اور اسکولوں کے ساتھ مل کر لگاتار کریئر گائیڈنس کے پروگرام اور ٹیچرز ٹریننگ پروگرام منعقد کریں گے۔
پروگرام کے آغاز میں مولانا عرفان علیمی نے علم اور تعلیم کی اہمیت پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم الہی اہداف کے حصول کیلئے ہونی چاہیے۔ آج معاشرے کو نا صرف بہترین تعلیم یافتہ نوجوان چاہیے بلکہ اسلامی تعلیم کے ذریعہ تربیت یافتہ نوجوان چاہیے جو اس معاشرے کو اسلامی معاشرہ بناسکے۔ واضح ہو کہ پروگرام کی شروعات تلاوت کلام پاک سے ہوئی اور علاقے کے جواں سال ڈاکٹر ضیاءالحق نے پروگرام کی غرض وغایت بیان کی۔آخر میں مدرسہ گلشن بغداد کے صدر صابر خان صاحب نے کی رسم شکریہ پر پروگرام کا اختتام ہوا۔سیمینار میں مقامی علاقے کے سیکڑوں طلباطالبات نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں خاص طور پر ڈاکٹر ارشد، مطیعل خان، اشتیاق شیخ، ذوالفقار مقری، راج شیخ، جعفر بھائی، انیس منصوری اور اشفاق خان وغیرہ نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *