مسلمان،کانگریس اور سیکولرپارٹیاں کس دگڑ پر

 

 

 

 

 

 

 

 

جاویدجمال الدین
گزشتہ لوک سبھا انتخابات 2014کو پانچ سال کا عرصہ گزرچکا ہے ،اُن انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی کے موجودہ صدرراہل گاندھی نے ایک ملاقات کے دوران ملک کے متعدد اخبارات کے مدیران اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان الیکشن کا کانگریس کے حق میں جوبھی فیصلہ آئے ،لیکن 2019کے جنرل الیکشن میں صورتحال مختلف ہوگی اور سواصدی قدیم پارٹی ایک نئے رنگ وروپ میں سامنے آئے گی ،اب جبکہ 2019انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی انتخابی سرگرمیوں کے لیے بگل بجا دیاگیا ،کانگریس پارٹی میں ایسا کوئی جوش وخروش نظرنہیں آرہا ہے ،اس کے دشمن ہی نہیں بلکہ دوست بھی اسے نشانہ پر لیے ہوئے ہیں۔حال میں پارٹی لیڈر شپ کی ناک کے نیچے مہاراشٹر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدہ پر فائز وکھے پاٹل کے صاحبزداے نے بی جے پی کا ہاتھ تھام لیا ،کیونکہ ان کے آبائی شہر احمدنگر لوک سبھا حلقہ ٔ سے وہ الیکشن لڑنے کے خواہش مندتھے مگر یہ حلقہ ٔ اتحادی پارٹی این سی پی کی فہرست میں شامل ہے ،این سی پی میں بھی افراتفری کا عالم ہے بلکہ ملک بھرمیں دل بدلی کا سلسلہ جاری ہے اور سبھی اس کا مزہ لوٹ رہے ہیں ،بی جے پی جوکہ خود کو ایک الگ اور مختلف پارٹی قراردیتی رہی ہے ،اس نے بھی دل بدلی کے طریقہ کارکو اپنا رکھا ہے ۔کانگریس نے ہمیشہ اسی انداز کو اپنایا ہے ۔
حال میں وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروںسمیت ٹی وی نیوز چینلوں پر بحث میں حصہ لینے والے چھٹ بھیا لیڈروں نے ایک ہی ایک خاندان کی رٹ لگا رکھی ہے اور کانگریس لیڈر شپ دھڑلے سے اسی راہ پر گامزن ہے ،اگر غورکیا جائے تو نظرآئے گا کہ اترپردیش میں کانگریس نے ایک ہی خاندان کے دودوممبران کو لوک سبھاکی ٹکٹیں دینے کا فیصلہ کیاہے ،اس فہرست میں سونیا گاندھی اور ان کے صاحبزادے اور کانگریس قومی صدرراہل گاندھی بھی شامل ہیں۔اتفاق سے پرینکا گاندھی ودرا کو موقعہ دیا گیا تو ایک ہی خاندان سے تین تین امیدوار میدان میں نظرآئیں گے ،ہاں اس بار یہ ممکن ہوتا کہ مہاراشٹر میں این سی پی صدرشردپوار کی طرح سونیا گاندھی بھی انتخابات نہ لڑنے کا فیصلہ کرتیں اور کسی دوسرے لیڈر کو میدان میں اتاراجاتا ۔پوار نے اس مرتبہ اپنے خاندان کی تیسری پیڑھی کے امیدوار کے لیے جگہ چھوڑدی ہے اور انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔حالانکہ کئی سال قبل کانگریس نے ہی اس ایک خاندان میں ایک ہی شخص کو امیدوار بنانے کی پالیسی اختیار کی تھی اور کئی ریاستوںکے وزرائے اعلیٰ کے بیٹوں اور بھتیجوں کو امیدواری دینے سے انکار کردیا تھا ،یہی طریقہ ایک شخص ایک عہدہ کے تحت اپنایا گیا ،لیکن پھرآہستہ آہستہ اس پالیسی کو درکنارکردیا گیا اور اعلیٰ لیڈرشپ خود اس کی خلاف ورزی کرنے لگی ہے۔
مہاراشٹر اور گوا میں کانگریس کو اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا ہے ۔کئی اہم لیڈروں کے فرزند اور رشتہ داروںنے کھلے عام بغاوت کا بگل بجایا اور اھنے استھ پارٹی کے متعدد ممبران کو لیکر کانگریس کو زبردست نقصان پہنچاچکے ہیں۔حال میں اپوزیشن لیڈررادھا کرشن وکھے پاٹل کے بیٹے سجئے پاٹل نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے اور یہ ان کا خاندانی رواج ہے ،تین دہائی قبل ان کے دادابالاصاحب وکھے پاٹل نے شیوسینا کا دامن تھام لیا تھا اور احمد نگر سے لوک سبھامیں کامیابی کے بعد انہیں مرکزکی اٹل بہاری واجپئی کابینہ میں قلم دان دیا گیا تھا ۔اس بار پوتے نے بازی مارلی ہے۔اس کی وجہ سے احمد نگر اور آس پاس کے علاقے میں کانگریس کی ساکھ پر بُرا اثرپڑسکتا ہے۔حالانکہ بالاصاحب پاٹل نے 1999میں دوبارہ کانگریس کا رُخ کرلیا تھا کیونکہ پوار نے نئی پارٹی این سی پی تشکیل دی تھی۔این سی پی کے مقابلہ پر سنجئے پاٹل اترتے ہیں تو یہ راست مقابلہ ہوگا اور پوارکو کھلا چیلنج کیا جارہا ہے۔فی الحال رادھا کرشن وکھے پاٹل نے اپوزیشن لیڈرکا عہدہ نہیں چھوڑا ہے ۔ کانگریس اور این سی پی اتحاد پر اس کا کیا اثر پڑے گا ، فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے ،کیونکہ اس اٹھا پٹک کا سلسلہ ملک گیر پیمانے پر جاری ہے ۔اترپردیش اور بہارمیں اس کا اثرزیادہ نظرآرہا ہے ۔
جیسا کہ گزشتہ ہفتے لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں انتخابی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں اور 23مئی کو تقریباً دوماہ بعد نتائج سامنے آئیں گے اور اس پر پردہ ہٹے گا کہ کوئی نئی دہلی میں اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتا ہے ،2019لوک سبھا انتخابات کو کانگریس ،بی جے پی اور علاقائی پارٹیوں نے انا کا مسئلہ بنالیا ہے اور بیان بازی بلکہ کہا جائے کہ کچڑاچھالنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑا ہے ،جیسا کہ گزشتہ ہفتہ کے کالم میں راقم الحروف نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ مہاراشٹرمیں کانگریس کے ذریعہ درکنار کیے جانے کے بعد پرکاش امبیڈکر اور مجلس اتحاد مسلمین (اے ایم آئی ایم )اتحاد کی شکل میں ایک نئی پہل ضرور ہوئی ہے،لیکن اگر انتخابی میدان میں انہیں زائد سیکولرووٹ مل گئے تواس کی وجہ سے صرف کانگریس اور این سی پی اتحاد کو بپاری نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان کے ووٹ متاثر ہوںگے ۔دراصل کانگریس نے ان پانچ سال میں ناراض مسلمانوں کو منانے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے ،2014کے آخری دورمیں انہیں بھیک کی شکل میں پانچ فیصد ریزرویشن کا آرڈننس جاری کردیا ،اگر اپنے آخری پندرہ سالہ میں اس پر کام کیا جاتا تو مسلم ریزرویشن کے لیے قانون بنایا جاسکتا تھا ،لیکن ایسا نہ کرنا انتخابی چال بازی تھی۔سوحقیقت یہ ہے کہ اقلیتیں اور خصوصاً مسلمان ان سے پہلے بھی خفا رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔
کانگریس لیڈر شپ کی حرکتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہے ،شمالی ہند میں خصوصی طورپر اترپردیش اور بہارمیں پارٹی لیڈرشپ علاقائی پارٹیوں سے ذرا بھی قربت نہیں دکھا پائی ہے اور اسے دودھ میں مکھی کی طرح سے نکال پھینک دیا گیا ہے ، بی جے پی نے شمال ہند کی ان دونوں ریاستوں پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ،اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے اور پھر بی جے پی لیڈرشپ نے کمال ہوشیاری سے شمال مشرقی علاقے ،مغربی اور جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی گھس پیٹھ شروع کردی ہے۔غورکیا جائے تو بی جے پی نے پچھلی بار ان دونوں ریاستوں کی 120نشتسوں میں سے 105پرقبضہ کرلیا ہے اوراس مرتبہ بھی ان کا ’’ٹارگٹ ‘‘یہی یوپی اور بہار ہی ہیں اور 2019میں سیکولرووٹوں یعنی مسلمانوں کی تقسیم دوتین پارٹیوں میں ہوگی جبکہ بی جے پی اپنے 35فیصد ووٹ بڑی آسانی سے حاصل کرلے گی اور انہیں کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرلے گی ۔
مسلمانوں اور ان کے لیڈروں نے ہوش کے ناخن نہیں لیے اور ایک بار پھر بی جے پی برسراقتدارآگئی تو ان کا ہی نہیں بلکہ اس ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کوبچانا مشکل ہوگا ۔دستورنے جوحقوق دیئے ہیں ،وہ صرف ہاتھی کے دانت نظرآرہے ہیں ،حال کے عدلیہ کے ذریعہ سامنے آئے چند فیصلے بھی ذہن کو مفلوج کردیتے ہیں۔ کیونکہ گھر میں گھس کر کھانے پینے کی جانچ اور سب سے زیادہ حب الوطنی اور وفاداری کے ثبوت بھی ان پانچ سال میں روزانہ پیش کرنے پڑے ہیں اور اگر ان دونوں ریاستوںمیں مسلمانوں میں اپنے ووٹوں کو صحیح استعمال نہیں کیا اور حکمت عملی کے ساتھ جامع منصوبہ بندی نہیں کی توپھر مستقبل میں کٹھن اورمشکل دورکے لیے تیار رہنا ہوگا،کیونکہ کانگریس سے زیادہ امید نہیں کی جاسکتی ہے جوکہ خود ہی دشمنوں اور دوستوں کے نشانہ پر نظرآرہی ہے۔ہمیں اگر جمہوریت اور سیکولرزم کو بچا نا ہے توکمرکس لینا ہوگا۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram