بزم اظہارکا 32واں ماہانہ طرحی مشاعرہ منعقد

پٹنہ:بزم اظہار کا 32 واں ماہانہ طرحی آن لائن مشاعرہ آج منعقد کیا گیا جس کی صدارت کہنہ مشق اور استاد شاعر جناب مرغوب اثر فاطمی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض م سرور پنڈولوی نے انجام دئے۔اس مشاعرہ کے لئے مصرع طرح دیا گیاــ ؎اپنے اسلاف کی تاریخ اٹھا کر دیکھو۔جن شعراء نے اپنے کلام سے مشاعرہ کو کامیاب بنایا ان کے نام مع نمونۂ کلام اس طرح ہیں
مرغوب اثر فاطمی:جلتے بجھتے ہیں شب وروز چراغِ امید٭خانۂ دل کا یہ منظر کبھی آکر دیکھو
نیاز نذر فاطمی:تم سمجھتے ہو کہ سب کھیل ہے تقدیروں کا٭اپنی بانہوں پہ بھروسہ تو بنا کر دیکھو
نفیس دسنوی:تیز آندھی بھی تکے گی اسے حیراں ہوکر٭اک چراغ اپنے عزائم کا جلاکر دیکھو
پروفیسر ناظم قادری:ایک ہنگامۂ محشر سے بھلا کیا حاصل٭ یادِ شبیر میں دو اشک بہا کر دیکھو
ڈاکٹر اعجاز مانپوری:دل اگر جھکتا نہیں ہے تو عبادت کیسی٭رب کو پانا ہے تو دل اپنا جھکا کر دیکھو
شکیل سہسرامی:انگنت عیب نگاہوں کو دکھائی دیں گے٭آئینہ خود کو کبھی یار دکھاکر دیکھو
م سرور پنڈولوی:خود سمجھ جائے گا معلوم نہیں ہے انسر٭بس یہ کرنا ہے ذرا سر کو کھجا کردیکھو
رحمٰن آہی:کس طرف کرتے ہیں حالات اشارے سوچو! ٭ایک تصویر اشاروں کی بنا کر دیکھو
ڈاکٹر مقصود عالم رفعت:مسئلہ ایسا نہیں کوئی جو حل ہو نہ سکے٭یہ جو دیوار انا کی ہیگراکر دیکھو
رہبر گیاوی:ہے تقاضہ یہی این آر سی کی صورت میں٭اپنے اسلاف کی تاریخ اٹھا کر دیکھو
بشر رحیمی:سب کے سب آئے ہو ظالم کی طرفداری میں٭ہوسکے تو کبھی مظلوم کو جاکردیکھو
پردیسی کابری:راحت قلب بھی توقیر جہاں بھی ہوگی٭سر کو ماں باپ کے قدموں میں جھکا کر دیکھو
ڈاکٹر ممتاز منور:ہے تشدد کی لگی آگ وطن میں ہرسو٭ان لپیٹوں سے بھی دامن کو بچا کر دیکھو
ڈاکٹر نصر عالم نصر:کتنی معصوم تمنائیں مچل جائیں گی٭ریت پر گھر کوئی بچوں کا بنا کر دیکھو
اصغر شمیم:ایک بکھرائو سا آئے گا ہراک رشتے میں٭اپنے گھر میں کبھی دیوار اٹھا کر دیکھو
خورشید انجم :ہم سمجھتے ہیں تمہیں اپنا ہی بھائی لیکن٭تم یہ کہتے ہو کہ میدان میں آکر دیکھو
سبطین پروانہ:کوئی تعبیر نکل آئے عجب کیا اس میں٭خواب پلکوں میں وہی اپنی سجا کر دیکھو
خواہ مخواہ دلالپوری:کتنے دیوانوں کے دل خون ہوئے ہیں ہردن٭خواہ مخواہ اس کی گلی میں کبھی جا کر دیکھو
اظہر رسول:حوریں آجائیں گی لینے کے لئے جنت سے٭تم زمانے کے لئے خود کو مٹا کر دیکھو
نجم السحرثاقب:عہدِ غربت میں بھی ایمان کا سودا نہ کیا٭اپنے اسلاف کی تاریخ اٹھا کر دیکھو
اقبال اختر دل:تم جو الجھوگے الجھتے ہی چلے جائوگے٭بات بگڑی ہے اگر بات بنا کردیکھو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram