مسلمانوں کے مسائل اور ترجیحات طے ہوں
جاوید جمال الدین
ملک کو درپیش مسائل اور مسلمانوں کے مسائل ایک جیسے ہیں اور ان میں کوئی نمایاں کمی واقع نہیں ہوئی ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کے پہلے پانچ سال اور پھر 2019میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک بھر میں جوحالات پیدا کیے گئے ،اس سے ڈروخوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔منصوبہ بند طریقہ سے ان کے دلوں میں دہشت پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے ،دونوں دورمیںشمالی ہند کی ریاستوںمیں موب لانچنگ کے واقعات اور پھر مودی حکومت کے دوسرے دورمیں سرحدی خطہ میں این آرسی اور پھر جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370ہٹائے جانے اورتقریباً دومہینے سے عائد پابندیوں سے ہندوستان کا ہر ایک ذی ہوش تشویش میں مبتلا ہے ،البتہ مسلمانوں کی فکر مندی میں اضافہ ہوچکا ہے۔
ملک کے موجودہ حالات کے سبب مسلمانوں میں اور خصوصی طورمسلمان نوجوانوں میں اس بات کا احساس پیدا ہو چکا ہے کہ انہیں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے خود اقدامات کرنے ہوں گے اور راہ ہموار کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔یہ بھی اتفاق ہے کہ ان کے درمیان چند عناصر کی کوشش ہے کہ مسلمانوں میں ڈرو جنگ کے ماحول کو برقرار رکھا جائے تاکہ اس کے حوالے سے وہ اپنا قداونچا کیا جاسکے اوران کے مسائل کو لیکر ارباب اقتدار سے رجوع کیا جائے اور حال میں ایسی کوشش کی جاچکی ہے ۔فی الحال آپسی گفتگو اور بات چیت کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوا ہے اورنہ نتیجہ سامنے آیاہے۔دراصل ان عناصر کا منشا ءصرف یہ ہے کہ مسلمانوں میں ان کی بالا دستی قائم رہے اور دوسروں کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ مسلمانوں کے اصل نمائندے وہی ہیں۔ایک ایسی لیڈرشپ کے لیے راہ نکالنا ہے ،جو ان عناصر کے بھرم کو ختم کرے ،جوبدگمانی اور گمراہ کرنے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں
مرکز میں2014میں نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت نے ابتداءمیں ہی ”سب کا ساتھ ،سب کا وکاس“کانعرہ دیا جو کہ ایک حد تک کارگرثابت ہوا کیونکہ اس کے ذریعہ مودی حکومت نے اپنی پالیسی واضح کردی تھی ،لیکن دوسرے دورمیں بی جے پی کی قیادت میں لوک سبھا الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں این ڈی اے کے کامیاب ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے خصوصی طورپر اقلیتوںاور سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کا ذکرکیا ،انہیں ’اعتماد ‘ میں لینے کی بات کہی ،لیکن یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ اس کا اثر ان کی پارٹی کی ہمنوا نظیموں کے شرپسند عناصر اور فرقہ پرستوں پر کچھ نہیں ہوا ہے۔بلکہ موب لانچنگ اور اقلیتی فرقے کے خلاف اشتعال انگیز ی کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں ہوا ہے۔ہندوستان کے تمام فرقے کے مسائل ایک جیسے ضرور ہیں ،لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں اقلیتی فرقے میں محرومی کا احساس پنپ رہا ہے اور ملک کے چھوٹے شہروںاور دیہی علاقوںمیں مقیم مسلمان زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ 2014میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے اور دوبارہ 2019میں شاندار کامیابی میں اس کی ہم خیال تنظیموں اور رہنماو ¿ں کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں ،عام لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرا جارہا ہے۔حالانکہ صدیوں سے ایک ساتھ ایک محلے اور شہر میں رہنے والے ایک دوسرے کو بہتر طورپر جانتے ہیں اور وہ ایسے عناصر کو منہ نہیں لگاتے ہیں ۔ویسے شرپسندی کرنے والوں کو درپردہ حمایت حکومت کی کتنی مدداور حمایت حاصل ہے،اس کے بارے میں یقینی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ،لیکن اتنا ضرور ہے کہ انتظامیہ ،پولیس تھانے اور ناسمجھ لوگوں کا دماغ تبدیل ہوچکا ہے۔اس درمیان کئی معاملات میں حکومت کو رسوائی ہوئی ہے ،مگر اعلیٰ لیڈرشپ مون بنی ہوئی ہے اور خاموش تماشائی بنا رہنا زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے ۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اقلیت کے معاملات میں ایک حد تک چپ سادھ رکھی ہے اور جب بھی کوئی اس جانب توجہ دلاتا ہے تومودی کا فرمان ہوتا ہے کہ ”سب کا ساتھ سب کا وکاس “کی سرکاری پالیسی سے سبھی کو بلاامتیاز مذہب وملت فائدہ پہنچ رہا ہے۔اس کے بعد سفارش کرنے والا لاجواب ہوجاتا ہے ۔جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے ،اس کا ہمیشہ سے دیگر پارٹیوں پر الزام رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتی رہی ہے،لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس کی پالیسی بھی اسی طرزکی ہے ۔وہ اکثریتی فرقے کی منہ بھرائی کررہی ہے ،وکاس کا جو نعرہ لگایا جاتا رہا ،وزیرداخلہ امت شاہ کے ساتھ ساتھ اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور ہریانہ کے ان کے ہم منصب مٹی پلیڈ کررہے ہیں اور روزانہ ایے فیصلے کیے جارہے ہیں جوکہ اقلیت مخالف نظرآرتے ہیں ،جیسے فی الحال این آرسی کی شکل میں انہیں کھلونا مل گیا ہے اور بتایا جاتاہے کہ یوگی جی اور کھٹر جی نے غیر ملکیوں کے خلاف مہم چلانے کی اجازت دے دی اور امت شاہ بنگال میں فرقہ پرستی کو بڑھانے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑرہے ہیں ،اتنی جلدی ہے کہ انہیں اپنے عہدہ اور منصب کا ذرا سا بھی خیال نہیں رہا ہے۔
ملک سنگین حالات سے گزررہا ہے ،یہ ایسا موقعہ ہے کہ مسلمانوں کو تنظیم نو کا جائزہ لینا چاہیے اور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اب تک کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا، مسلمانوں کے خودساختہ رہنماءصحیح رہنمائی اور مسلمانوں کو اعتماد میں لینے بجائے اس کوشش میں لگے ہیں کہ ارباب اقتدار سے ان کا مبینہ طورپرسودا کرلیں ،یہی وجہ ہے کہ چچا سنگھ پریوار کے سربراہ سے ملاقات کرتے ہیں تو بھتیجہ وزیرداخلہ کے درپر ”درپردہ “ پہنچ جاتے ہیں ،آخر کیا بات ہے اور کس تشویش کا شکار ہیں ،اگر عام مسلمانوںکو اعتماد میں نہیں لیا تو مسلم تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہوںپر صورتحال پر تبادلہ خیال کرلینا تھا۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی عارنہیں ہے کہ مسلمانوں نے اپنی ترجیحات پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ،ہم اپنی بات پہلے اور پھر اس بار بھی حکومت تک مکمل طورپر پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ،انہیں اپنے بارے میں بتانے میں ناکام رہے ہیں،انہیں قومی دھارے کا جوطعنہ دیا جاتا رہا ہے ،اس میں تووہ ایک عرصہ پہلے ہی شامل ہوچکے ہیں اور سچائی سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے کہ 1947میں کروڑوں مسلمانوں نے یہاں رہنے کا جوفیصلہ کیا تھا ،تب ہی انہوںنے جمہوریت اور سیکولرزم کو گلے لگا کرقومی دھارے میں غوطہ لگا لیا تھا۔
ہم نے ابھی دوچار روز قبل بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ منائی ہے اورمہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی تعلیمات اور اصولوں پر چلنے کا عہد کیا بلکہ ہمارے رہنماﺅں نے جن میںکووند سے لیکرمودی اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی تک شامل ہیں ،لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ وزیراعظم مودی اپنے بیانات میں گاندھی کے آدرشوںکی جو باتیں کررہے ہیں ،ان ہمنوا اور شیدائی ان کی باتوں پر عمل کرنے سے صاف انکار کرتے نظرآرہے ہیں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوتملک کو ہندوراشٹرقراردے رہے ،تو ہندومہاسبھا کرنسی پر سے گاندھی جی کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کررہی ہے تو کہیں گوڈسے کے مجسمے نصب کیے جارہے ہیں اور گاندھی جی کے پتلے کو گولی مارکر اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ملک کو نفرت کی سیاست میں ڈھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے حال میں خود امت شاہ نے بنگال پہنچ کر تہاور کے موقعہ پر مذہبی منافرت کے بیج بونے کی کوشش کی ہے ،این آرسی پر ان کا بیان قابل اعتراض سمجھا جارہا ہے۔
ملک میں ایک طرح سے جو حالات پیدا کیے جارہے ہیں اور اس کے درمیان امن وامان پایا جارہا ،وہ دراصل مسلمانوں کے صبروتحمل کا نتیجہ ہے ، ان کے صبر نے ملک کو انتشار کی نذر ہونے سے روک رکھا ہے۔اس لیے ان کا امتحان لینے اور آزمائش میں ڈالنے کی بجائے ارباب اقتدار کو ہوش کے ناخن لینا ہوگا ۔ورنہ ملک میں افراتفری اور طواف المکی کو روکنا ممکن نہیں ہوگاموجودہ حکومت اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے لیڈر ہر لمحہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے اور انہیں دیوار سے لگا دینے کے تعلق سے زہریلے بیان سے ملک کی فضا میں نفرت اور تعصب کو بڑھاوا دے رہے ہیں نیز اس سے مسلمانوں اور ہندوﺅں کے درمیان خلیج کو وسیع کررہے ہیں۔جہاں تک سیکولرپارٹیوں اور ان کے سیکولرلیڈروں کا سوال ہے ،حمام میں سبھی ننگے ہیں،کہ مترادف ہیں ،کیونکہ حال میں مہاراشٹر اور ملک کی کئی ریاستوں میں کانگریس اور این سی پی کے سنیئرلیڈروں ںے اقتدار اور اولاد کی محبت میں بی جے پی کا رُخ کیا ہے ،اس سے ان کی ذہنیت کا صاف پتہ چل رہا ہے۔اس لیے یہ ایسا وقت جب مسلمانوں کو اپنے مسائل اورمعاملات کو حکومت تک پہنچانے کے لیے ترجیحات طے کرنا ہوںگی ،ورنہ مستقبل میں حالات مزید ابتر ہونے کا آثارواضح نظرآرہے ہیں۔

javedjamaluddin@gmail.com

Contact :9867647741.
02224167741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram