رشتوں ناطوں کی خوشبو کا شاعرمنور راناؔ

 

 

 

 

 

 

 

 

اسلم چشتی پونے، انڈیا
چیئرمین ‘صدا ٹوڈے، اُردو نیوز ویب پورٹل
Sadatodaynewsportal@gmail.com
www.sadatoday.com
09422006327

منور رانا کا نام کسی تعار ف کا محتاج نہیں ، برسوں سے اُن کا نام اُرد ودُنیا کی وادیوں میں گونج رہا ہے ۔ یہ گونج دُور دُور تک سنائی دیتی ہے ۔ آل انڈیا مشاعروں اور عالمی مشاعروں میں اِن کا نام مشاعرے کی کامیابی کا ضامن سمجھا جاتاہے ۔ ادبی حلقوں میں بھی ان کی مقبولیت قابل رشک ہے ، کیوں نہ ہو ٗ یہ رشتوں ناطوں کی خوشبو پھیلانے والے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کو پسند کرنے والوں کی کمی نہیں۔ آج کے شعراء میں جتنی مقبولیت منور بھائی کی ہے اتنی شاید ہی کسی اور شاعر کی ہوگی۔ وہ اس لحاظ سے کہ ان کی شاعری خواص بھی پسند کرتے ہیں اور عوام کے بھی یہ پسندیدہ شاعر ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ بھی ان کو اچھا شاعر سمجھتے ہیں اور کم پڑھے لکھے لوگ بھی ان کی شاعری کے دلدادہ ہیں۔ مختلف ذات، برداری اور طبقوں کے لوگوں کی زندگیوں کی ترجمانی منور بھائی کے کلام کا خاصا ہے۔ مزدور کی زندگی پر ان کا ایک شعر تو بول چال کی اُردو زبان کا حصہ بن گیا ہے ؎

سوجاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھاکر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
ایسے سینکڑوں شعر ان کے مشہور ہیں۔ اتنے زیادہ شعر کسی ایک شاعر کے مشہور ہوجانا ٗشاعری کے شائقین کو یاد رہ جانا ٗاپنے آپ میں کمال بلکہ کرشمہ ہے۔ مجھے بھی منور بھائی کی شاعری بے حد پسند ہے۔ اخبارات و رسائل میں میں نے ان کو بہت پڑھا ہے۔ مشاعروں میں بھی خوب سنا ہے۔ اکثر خواہش جاگتی رہتی تھی کہ اُن سے بہ نفس نفیس ملاقات ہو اور ان سے گفتگو کا شرف حاصل ہوجائے آخر کار یہ خواہش اس وقت پوری ہوئی جب میں لکھنؤ میں معروف واستاد شاعر حضرت والیؔ عاصی صاحب کی دکان پر بیٹھا تھا کہ منور بھائی تشریف لائے۔ ملاقا ت ہوئی ٗباتیں ہوئیں ٗخوشی ہوئی جس کا سرور برسوں کے بعد اب بھی مجھ پر تازہ ہے۔ حالانکہ دوایک آل انڈیا مشاعرے میں نے اُن کے ساتھ پڑھے ہیں۔ ملاقات بھی ہوئی ہے وہ اپنے چاہنے والوں میں گھرے رہتے ہیں تو بات کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر خواہش نے سر اُبھاراہے اللہ نے چاہا تو پھر کبھی کہیں ویسی ہی ملاقات ہوگی جیسی کہ حضرت والیؔ عاصی صاحب کی دکان پر ہوئی تھی۔
منور بھائی کے مجموعے اُردو اور ہندی زبانوں میں چھپتے رہتے ہیں ۔ کچھ مجموعوں کے کئی ایڈیشن بھی نکل چکے ہیں۔ ہندوستان کے کئی پبلشر وں نے اُن کی کتابیں شائع کی ہیں۔ کئی مستند ادبی رسائل نے ان پرنمبر نکالے ہیں ۔ گوشے شایع کیے ہیں اورپاکستان میں بھی ان کی کتاب یںچھپی ہیں اور خوب بکی بھی ہیں۔ ان کی کتابوں کی قارئین میں پذیرائی قابل رشک ہے۔ ایک کتاب’’ماں ‘‘ نے تونئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ اُردو ہندی دونوں زبانوں میں کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور مانگ اب بھی ہے۔
کتاب’’ماں‘‘ جب میرے مطالعے میں آئی تو میں نے اسے بار بار پڑھا ، ہر بار اشعار کے معنیٰ نئے نئے انداز سے مجھ پر کھلے اس کتاب کی شروعات میں ’’اپنی بات‘‘ کے تحت منور بھائی نے دو صفحے تحریر کئے ہیں اس میں انہوں نے اس کتاب کے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔ ایک خاص اقتباس ملاحظہ کریں
’’ میں پوری ایمانداری سے اس بات کا تحریری اقرار کرتا ہوں کہ میں دُنیا کے سب سے مقدس اور عظیم رشتے کا پرچار صرف ا س لیے کرتا ہوں کہ اگر میرے شعر پڑھ کر کوئی بھی بیٹا اپنی ماں کا خیال کرنے لگے ، رشتوں کی نزاکت کا احترام کرنے لگے تو شاید اس کے اجر میں میرے کچھ گناہوں کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔ یہ کتاب بھی آپ کی خدمت تک صرف اس لیے پہنچانا چاہتا ہوں کہ آپ میری اس چھوٹی سی کوشش کے گواہ بن سکیں اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں شامل کرتے رہیں۔‘‘
اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر نے اس مقدس رشتے سے قارئین کو مضبوطی سے جوڑنا چاہا ہے اور پوری شدت اظہار سے’’ماں‘‘ کو موضوع بناکر شعر کہے ہیں اور اشعار میں ایسا تاثر بھر دیا ہے کہ ہر قاری کو نہ صرف اس کی ماں یاد آتی ہے بلکہ اُسے اُس کے اپنے دل کی بات محسوس ہوتی ہے ۔ کچھ اشعار ملاحظہ کریں۔
ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو پھر میرے خدا

مجھکو سجدے کی بھی جنت میں اجازت ہوتی

ذراسی بات ہے لیکن ہوا کو کون سمجھائے

دئیے سے میری ماں میرے لئے کاجل بناتی ہے

بلندیوں کا بڑے سے بڑا نشان چھوا

اُٹھایا گود میں ماں نے تب آسمان چھوا

چھوسکتی نہیں موت بھی آسانی سے اس کو

یہ بچہ اپنی ماں کی دُعا اوڑھے ہوئے ہے

تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک

مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

مجھے بس اس لئے اچھی بہار لگتی ہے

کہ یہ بھی ماں کی طرح خوشگوار لگتی ہے

اب بھی چلتی ہے جب آندھی کبھی غم کی راناؔ

ماں کی ممتا مجھے بانہوں میں چھپالیتی ہے
ماں کی محبت اور ماں سے عقیدت والے ایسے سینکڑوں اشعار منور بھائی کی شاعری کی زینت ہیں۔ یہ اشعار جب وہ جذباتی انداز سے اسٹیج پر تحت اللفظ میں سناتے ہیں تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے ایک سماں سا بن جاتا ہے اور مشاعرہ ’’واہ واہ‘‘ کے شور سے گونج اٹھتا ہے شعر میں بات تو ہوتی ہی ہے لیکن منور بھائی کی آواز اور لہجے کا سحر ماحول پر چھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ منور بھائی کے ’’ماں‘‘ کے موضوع پر کہے ہوئے اشعا رکی مقبولیت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ کتاب میں شامل کئی اشعار تو میری بھی یاد کا حصہ بن گئے ہیں اور وقت بہ وقت میں موقع محل کے لحاظ سے گھر اور باہر کے ماحول میں منور بھائی کا نام لے کر سناتا بھی رہتا ہوں ۔ ایساایک میں ہی نہیں اور بھی کئی ان کے چاہنے والے کرتے ہوں گے یہ ایک طرح سے منور بھائی کے اشعار کی تشہیر کرکے داد دے کر دُعا ہی تو کرتے ہیں۔ اس طرح منور بھائی اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔
کتاب’’ماں‘‘ میں ماں والے اشعار کے علاوہ اوربھی بہت کچھ ہے اس میں 35صفحات تو نثر پر مشتمل ہیں منور بھائی کی نثر پر اثر اور شفاف ہے۔ زبان کی روانی ایسی جیسے بہتا پانی، مواد ایسا کہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرلے میں نے ان کے کئی مضامین پڑھے ہیں۔ کتاب’’ماں‘‘ کی نثر اُن مضامین سے بالکل الگ ہے کیونکہ اس میں منور بھائی نے اپنے خاندان کے حالات لکھے ہیں اور اس ڈھنگ سے لکھے ہیں کہ ایسی نثر قلم یا کمپیوٹر نہیں لکھ سکتا۔ ایسی تحریروں کی زبان تو دل کی زبان ہوتی ہے جسے ڈبڈبائی آنکھیں ہی بیان کرسکتی ہیں ذاتی زندگی سے تعلق رکھنے والے یہ مضامین سچائی کی عظمتوں سے منور ہیں۔ بھائی منور کی ان تحریروں پر الگ سے لکھا جائے توہی تحریر کی خوبیاں سامنے آئیں گی۔میں فی الحال ان مضامین کے بارے میں یہ کہوں گا کہ ان مضامین کو پڑھ کر منور بھائی کی زندگی کے سر د و گرم حالات اور ان کے خاندان کے واقعات اور حادثات کا علم ہوا۔ اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس شخص کے ایسے حالات رہے ، جس نے زندگی کے دکھ سہے مفلسی اور لاچاری سے جس کا واسطہ رہا اس شخص کو اگر خدا نے لکھنے کی صلاحیت دی تو وہ زندگی کے رموز و نکات کو صفحۂ قرطاس پر موثر ڈھنگ سے پیش کرسکتا ہے اور متاثر کرسکتا ہے یہ بھائی منور راناؔ نے کیا ہے ان کے تحریری فن میں رشتوں کا درد اور رشتوں کی اہمیت اور اس درد اور اہمیت میں رشتوں کی خواہش عیاں ہے چنانچہ انہوں نے ماں کے علاوہ اور بھی رشتوں پر شعر کہے ہیں جیسے بزرگ، بہن ، بھائی ، بچّے ، بیٹی وغیرہ کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
بزرگ
سڑک سے جب گزرتے ہیں تو بچّے پیڑ گنتے ہیں

بڑے بوڑھے بھی گنتے ہیں وہ سوکھے پیڑ گنتے ہیں

ہمیں بزرگوں کی شفقت کبھی نہ مل پائی

نتیجہ یہ ہے کہ ہم لوفروں میں رہنے لگے
بہن
کسی بچے کی طرح پھوٹ کے روتی تھی بہت

اجنبی ہاتھ میں وہ اپنی کلائی دیتے

چاہتا ہوں کہ ترے ہاتھ بھی پیلے ہوجائیں

کیا کروں میں کوئی رشتہ ہی نہیں آتا
بھائی
دہلیز پہ آپہنچی ہے لگتا ہے قیامت

اک بھائی کو اک بھائی سے ڈر لگنے لگاہے

کانٹوں سے بچ گیا تھا مگر پھول چبھ گیا

میرے بدن میں بھائی کا ترشول چبھ گیا
بچّے
صرف بچوں کی محبت نے قدم روک لئے

ورنہ آسان تھا میرے لئے بے گھر ہونا

گھر کا بوجھ اُٹھانے والے بچّے کی تقدیر نہ پوچھ

بچپن گھر سے باہر نکلا اور کھلونا ٹوٹ گیا
بیٹی
تو پھر جاکر کہیں ماں باپ کو کچھ چین پڑتا ہے

کہ جب سسرال سے گھر آکے بیٹی مسکراتی ہے

غزل وہ صنف نازک ہے جسے اپنی رفاقت سے

وہ محبوبہ بنالیتا ہے، میں بیٹی بناتا ہوں
بھائی منور راناؔ کی شاعری میں رشتوں کی پاس داری اہمیت رکھتی ہے اور انسان دوستی، بھائی چارگی کو ملحوظ رکھ کر شاعری کرنا ایک طرح سے انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔یہ خدمت منوربھائی کے حصّے میں آئی ہے جسے وہ خوش اسلوبی سے نباہ رہے ہیں۔ اُنہیں کے ایک شعر پر میں اپنی بات ختم کرتاہوں
کون سمجھائے یہ تنقید کے شہزادوں کو

ماں پہ ہم شعر نہ کہتے تو یہ شہرت ہوتی

Aslam Chishti,
Shan Riviera Apart., Flat No. 404, Riviera Society, 45/2,
Near Jambholkar Garden Marriage Hall, Pune-411040
9422006327/9326232141
aslamchishti1@facebook.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest