ممتاز تعلیمی ادارہ انجمن اسلام کی ڈیڑھ صدی مکمل

ہونے پربانیوں کی قومی ، تعلیمی اور سماجی خدمات کو یادکیا جائیگا:ڈاکٹر ظہیرقاضی

ممبئی:عروس البلاد ممبئی اور قلب میں واقع ملک کے مشہورتعلیمی ،ثقافتی اور سماجی ادارے انجمن اسلام کی تاریخی یادگار عمارت نے تقریباً 145سال مکمل کرلیے ہیں اور اس موقع پر ادارہ کے عہدیداران نے ڈیڑھ صدی قبل ملت کے نوجوانوں کی تعلیم پرتوجہ دیتے ہوئے اس شاندار عمارت کی بنیاد رکھنے والے بانیوں کو یاد کرنے اور جشن منانے کا فیصلہ کیا ہے ،جوکہ اس ماہ کے آواخر میں تاریخی عمارت کے احاطہ میں منایا جائیگا۔
جہاں ایسی شخصیتوں نے تعلیم حاصل کی ہے جنہوںنے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی شہرت حاصل کی اور انجمن اسلام کا نام روشن کیا اور آج بھی ادارہ کے تقریباًسواداروںاور شعبوں میںتعلیم مکمل کرلینے کے بعد دنیا بھر میں خدمات ا نجام دے رہے ہیں۔ان میں تمام مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں کیونکہ انجمن کے بانیوں نے ادارے کو ہمیشہ قومی اور سیکولراصولوںپر قائم رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور آج بھی ان اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔انجمن اسلام میں تعلیم حاصل کرنے والی شخصیات کی فہرست کافی طویل ہے ،جن میں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار،مہاراشٹرکے سابق وزیراعلیٰ اور مرکزی وزیربیرسٹرعبدالرحمن انتولے ،حال میں انتقال کرگئے اداکار،مصنف قادرخان،ہالی ووڈ کے مشہور زمانہ فلمسازاور ہدایت کاراسماعیل مرچنٹ ،کرکٹر سلیم درانی ،غلام پرکاراور وسیم جعفر،ایڈوکیٹ مجید میمن ،مرحوم صحافی اور سابق مدیرانقلاب ہارون رشید ،ممبئی اردونیوز کے مدیر شکیل رشید،روزنامہ سہارا ممبئی کے سابق مدیر سعید حمید ،جاویدجمال الدین ،ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر،ڈاکٹر اے آراندرے ،سمیت ہزاروں طلباءاپنے اپنے شعبوں اور میدانوںمیں کارفرما ہیں جبکہ انجمن اسلام صابوصدیق پالی ٹیکنک اور اے حافظکا کالج برائے ہوٹل منیجمنٹ سے فارغ بے شمار طلبہ اور طالبات ملک اور بیرون ملک کے ہوٹل کے شعبہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
قلب شہر میں واقع انجمن اسلام کے جشن قیام کے موقع پر اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے ،فروری 1874کو محض تین استاداور 120طلباءکے ساتھ دومقامات بابلا ٹینک ،دھوبی تالاب اور ڈونگری میں قائم کیا گیا اور اس ڈیڑھ صدی کے دوران انجمن اسلام کے ذمہ داروںکی مدداور تعاون کی بنیاد پر 97ادارے سے تجاوز کرچکے ہیں اور طلباءکی تعداد بھی ایک لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔جن اصولوں اور ضوابظ کے تحت ادارہ کی بنیاد رکھی گئی ،اس پر آج بھی ادارہ قائم ہے۔
انجمن اسلام کے صدراور ملک کے مشہور ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ انجمن سالام کی بنیاد رکھنے والی قدآورشخصیتوں اور بانیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیکولر اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اچھی اور خالص تعلیم ،ڈسپلن اور قوم کی خدمت کے جذبہ کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن کیا جارہا ہے۔انجمن اسلام کی شاندار عمارت آج بھی فن تعمیر کا ایک بہترین نمونہ کہی جاسکتی ہے۔
انجمن اسلام صدرڈاکٹر ظہیرقاضی اس عظیم تعلیمی ادارہ کی قیام اور کی ترقی اورکامرانی کے سلسلہ میں اکابرین کی قربانیوںاوران کی خدمات کی داستان بہترین انداز میںپیش کرتے ہیں ،ان کے مطابق انجمن اسلام کی ترقی کی کہانی انتہائی حوصلہ افزاءہے اور اس سے سبق لیا جاسکتا ہے ،1874میں بمبئی ہائی کورٹ کے پہلے ہندوستانی جج اور انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے صدربدرالدین طیب جی اور ان کے بڑے بھائی ایڈوکیٹ قمرالدین طیب جی اور فلاسفراور عوامی خدمتگار ناخدا محمد علی روگھے ،سماجی کارکن منشی غلام محمد اور شہر کے دوسرے رہنماؤںاور قوم کے دردمند شہریوںنے مسلمانوں کی تعلیمی ،معاشی اور اقتصادی بہتری کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے بدرالدین طیب جی کے دولت کدہ طیب جی ہاؤس میں ملاقات کی اور1857کے بعد ہندوستان اورممبئی میں پیدا ہونے والے حالات کا جائزہ لیا اور یہ فیصلہ لیا گیا کہ پہلے عروس البلاد ممبئی میں ایک اسکول کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ مسلمانوں کی تعلیمی حالت کو بہتر بنایا جاسکے ۔اس تعلق سے منشی غلام محمد کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ شمالی ہندوستان کا دورہ کریں اور مختلف شہروں جیسے لاہور،دہلی ،لکھنو ¿ وغیرہ مسلمانوںکی تعلیم ترقی کے لیے قیام کیے جانے والے اداروںکا جائزہ لیں اور تفصیلات معلوم کریں۔اس کے بعد ممبئی میں ایک اسکول کی تشکیل کا فیصلہ لیا گیا اور اسے انجمن اسلام کے نام سے منسوب کردیا گیا ۔اس موقع پر اہم شخصیات نے عطیات سے نوازا ،ان میں محمد علی روگھے نے 10ہزارروپے اور خودجسٹس طیب جی نے ساڑھے سات ہزارروپے جیسی خطیر رقم عنایت کی ،تقریباً ڈیرھ سوسال قبل اس کی کافی اہمیت سمجھی جاتی تھی۔ابتادئی دورمیں لڑکوں کے لیے اسکول کا قیام عمل میں آیا ،لیکن پھر کچھ عرصہ کے بعد لڑکیوں کا اسکول قیام کیا گیا ،اور طلباءکی تعداد 628سے تجاوز کرگئی جس کے نتیجہ میں ایک مستقل عمارت کی تعمیر کا بانیوں نے فیصلہ کیا اور 31مئی 1890کو بامبے صوبہ کے گورنر لارڈ رے نے موجودہ تاریخی عمارت کی بنیاد رکھی ،مذکورہ عمارت کی تعمیر میں تقریباً تین سال کا عرصہ لگ گیا اور اس کا افتتاح 27فروری 1893کو گورنر جارج ہیریش کے دست مبارک سے عمل میں آیاتھا ،انجمن کے صدردروازے پر انگریزی اور فارسی میں تفیصلی کتبے نصب ہیں۔
ڈاکٹر ظہیر قاضی کے مطابق اسلامی جڑوں اور تعلیمات پر عمل پیرا رہتے ہوءاورانہیں برقراررکھتے ہوئے انجمن اسلام نے سیکولرکردار کو بھی بحال رکھا ہے ۔اس کی تفیصل ظہیر قاضی یوں بتاتے ہیں کہ قلب ممبئی جب 1936میں سیف طیب جی کے نام سے لڑکیوں کا اسکول کھولا گیا تواس مسلم اسکول کی پرنسپل ایک یہودی خاتون مس سیمسن تھیں ،جبکہ اس کی وائس پرسنپل مسز بھروچہ اور صدرمدرس ایک ہندومسز پارولیکر مقررکی گئیں۔جنہوںنے اسکول کی ترقی میں اپنی محنت ولگن سے چارچاند لگادیئے تھے۔اسی طرح مضافاتی علاقہ باندرہ میں طالبات کے لیے اسکول کھولے جانے پر ایک عیسائی خاتون مسز میتھائی نے پرنسپل کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے غیرجانبداری سے اداکیا تھا، فی الحال باندرہ کا اسکول انجمن اسلام ڈاکٹر محمد اسحق جمخانہ والا سے منسوب کیا گیا ہے ،اور جونیئر کالج تک کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوںنے کہا کہ انجمن اسلام کے متعددصدورسیاسی ،سماجی اور ثقافتی میدانوں سے وابستہ رہیں ہیں،جن میں مرحوم معین الدین حارث ایک مجاہدآزادی تھے اور اپنی سادگی اور گاندھیائی اصولوںپر کاربندرہے ،برسٹراکبر پیربھائی،ایک معروف وکیل تھے،جنہوںنے ادارہ کی ترقی کے لیے بڑے بڑے عھیات دیئے جبکہ ان کی اہلیہ ہومائی پیربھائی آخری عمرتک انجمن اسلام سے وابںتہ رہیں ،جبکہ ڈاکٹر محمداسحق جمخانہ والا طب اور سیاسی میدان میں ہمیشہ سرگرم رہے اور متعددمرتبہ مہاراشٹر کے وزیر رہے۔ان کے 25سالہ دورمیں انجمن اسلام نے تیزی سے ترقی کی اور ملکی اور عالمی سطح پر اس کا نام روشن ہوا ،واضح رہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسی نہج پر ڈاکٹر ظہیر قاضی عمل پیرا ہیں اور پنویل کا کالسیکرٹیکنیکل کمپلکس اور بیرسٹراے آرانتولے لاءکالج اس کی بہترین علامت کہی جاسکتی ہے۔اپنے دس سالہ دورمیں ڈاکٹرظہیرقاصی نے انجمن اسلام کی ترقی وکامرانی کے لیے رات دن ایک کردیاہے اور بہتر نتائج کے لیے ان کی کوشش ہے کہ سبھی شانہ بشانہ چلیں۔پنویل ٹیکنیکل کو انجمن اسلام کے تاج میں ہیرے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔جس نے بین الاقوامی سطح پر اس کا نام روشن کردیا ہے۔
Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD
Contact :9867647741.
02224167741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram