ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

کلیم الحفیظ
کنوینرانڈین مسلم انٹیلکچولس فورم
نئی دہلی۔
9891929786
ملت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت میں بہت سی کمزوریاں ہیں ۔جن کا شمار مشکل ہے، نمایاں کمزوریوں میں مسلکی ،جماعتی اختلافات،ذات اور برادری کی عصبیتیں،ناخواندگی،اسراف و فضول خرچی،وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن کیا مسلمانوں میں صرف کمزوریاں ہیں؟ کیاان میں کوئی خوبی نہیں ہے؟ایسا نہیں ہے ۔ملت میں بہت سی خوبیاں ہیں ۔لیکن ہم جب خرابیوں پر نظر رکھتے ہیں تو ہمیں صرف خرابیاں ہی نظر آتی ہیں ۔ہر شخص میں اچھائیاں ہیں اگر ہم ان کو دیکھ سکیں۔ہر قوم میں اچھائیاں ہیں اگر ہم جان سکیں۔اسی طرح ہر شخص اور ہرقوم میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں ہیں۔چونکہ ہماری نظر محدود ہے اور ہمارا مطالعہ ناقص ہے اس لیے ہمیں اپنوں میں خرابیاں ہی خربیاں نظر آتی ہیں۔
خلافت کے ختم ہوجانے کے بعد ملت جن نشیب و فراز سے گزری ہے اگر کوئی دوسری قوم ہوتی تو اس کانام و نشان تک مٹ جاتا۔وہ اکثریت میں گم ہوکر رہ جاتی ۔یہ کم بڑی بات نہیں ہے کہ بشمول ہندوستان پوری دنیا میں ملت اپنے تشخص کے ساتھ زندہ ہے ۔مسلکی و جماعتی اختلافات دیکھنے والوں کو کم از کم یہ تو دیکھنا چاہئے کہ ایک مسلک کے لوگ اپنے امام پر متفق ہیں،ذات اور برادری کی عصبیتوں کے باوجود ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑے ہیں،امت میں اختلافات کی فہرست پڑھنے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ یہ واحد قوم ہے جو اپنے بنیادی عقائد میں ایک رائے ہے۔
ملت میں لاکھ کمزوریوں کے باوجود آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں بہی خواہ ملتمیں اتحاد قائم کرنے ،اس کو بلندیوں پر پہچانے اور اس کی جہالت دو رکرنے کے جتن کررہے ہیں۔ان جتن کرنے والوں میںماضی میں اگر شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ،مولانا مودودیؒ،مولانا ابولاکلام آزادؒ،سرسیداحمد خاںؒ،بدرالدین طیب جیؒ،علامہ شبلی نعمانی ؒکا ذکر کیا جا سکتا ہے تو موجودہ دورمیں ڈاکٹر ممتاز احمد خاں(بنگلور)،ڈاکٹر فضل غفور(کیرالہ) ڈاکٹرنورالاسلام( مغربی بنگال) اور جناب پی کے انعام دار(مہاراشٹر)وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔یہ بات کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ ہم خامیوں کا ذکر کریں اور خوبیوں سے صرف نظر کرلیں۔ علامہ اقبالؒ نے اسی امت کے متعلق کہا تھا:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
یہ مٹی بڑی زرخیز ہے، یہاں فصل ہوسکتی ہے۔ بس ایک کسان کی ضرورت ہے جو ذرا سی محنت کرکے وقت پر بیج ڈال دے اور دیکھ بھال کرے پھر لہلہاتی فصل تیار ہے۔ تمام کمزوریوں کے باوجود یہ ملت اللہ پر ایمان رکھتی ہے، اپنے رسولؐ پر جان دینے کو تیار ہے، اپنی گاڑھی کمائی دین کے نام پر خرچ کرتی ہے۔ اس کے مقابلے کونسی قوم ہے جو اس ملک میں اتنی تعداد میں اپنے مذہبی ادارے بغیر سرکاری امداد کے چلا رہی ہو۔ کون سی قوم ہے جو لاکھوں ائمہ کے مشاہروں کا نظم کرتی ہے۔ کون سی قوم ہے جو لاکھوں طلبہ کی کفالت کرتی ہو۔ ہمیں اور آپ کو اپنے گھر اور فیملی کے چند افراد کی کفالت میں پسینہ آجاتا ہے۔ میں جب مدارس میں ہزاروں طلبہ کودیکھتا ہوں اور تینوں وقت ان کے کھانے کا حساب لگاتاہوں، ان کی رہائش، ان کی تعلیم، ان کے دیگر مصارف الگ رہے تو خدا کی رزاقیت پر ایمان پختہ ہوتا ہے۔ ہزار افترا ق وانتشار کے باوجود کم از کم ایک محلہ اور ایک مسلک کے ہزاروں افراد اپنے امام کی اتباع کرتے نظر آتے ہیں تو افتراق وانتشار پیدا کرنے والے اور اسے ہوا دینے والے شیاطین بھاگتے نظر آتے ہیں۔
ہمیں ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ ناامیدی کفر ہے۔ معاف کیجئے گاآج ہمارے رہبر روہنمااکثر اپنی تقاریر میں ملت کی کمزوریوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں ،ان کو لعنت ملامت کرتے ہیں۔کمزوریوں کو بیان کرنے سے تو میں نہیں روکتا لیکن یہ گزارش ضرور کروں گا کہ ذرا اپنی گفتگو کو بیلنس رکھیںاور خامیوں کے ساتھ خوبیوں کا ذکر ضرور کریں،صرف خامیاں اور کمزوریاں بیان کرنے سے مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے اور مایوس قومیں کوئی انقلاب لاناتو دور وہ انقلاب کے تذکرہ سے بھی گھبراتی ہیں۔قوموں پر عرج و زوال آتا رہتا ہے ۔یہی عیسائی قوم جو آج ساری دنیا پر حکمراں ہے بارہ سو سے سولہ سو عیسوی تک اندھیرے غار میں پڑی تھی اور مسلمانوں کا پرچم دوتہائی دنیا پر لہرا رہا تھا ۔یہی امریکہ جو آج خود کو عالم گیر سمجھتا ہے واسکوڈی گاما کی کھوج سے پہلے دنیا اس کے نام تک سے ناواقف تھی۔یہی ہندو قوم جس کا سورج طلوع ہونا شروع ہوا ہے ۔آپ کے احسانات کے باعث آپ کو دیوتا سمجھتی تھی ۔
مستقل حوصلہ شکنی،اور مسائل کے بار بار ذکر سے بے حسی پیدا ہوجاتی ہے۔ہمیں مسائل کے تذکرہ کے ساتھ حل بھی بتانا چاہئے۔نہ صرف حل بتانا چاہئے بلکہ عملاً کرکے بھی دکھاناچاہئے۔میرے نزدیک امت کے مسائل کا واحد حل اس کی تعلیم میں ہے۔تعلیم سے ہی معاشی خوشحالی ہے ،تعلیم سے ہوکرہی اتحاد کی طرف راستا جاتا ہے ۔تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور کردار سازی ضروری ہے ،بے کردار افراد کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔
اے میری قوم کے بہی خواہو! اٹھو اور جہالت کے اندھیروں کے خلاف کمربستہ ہوجاؤ،تم جو کچھ جانتے ہو دوسروں کو سکھلادو۔ تم جو کچھ نہیں جانتے وہ دوسروں سے سیکھ لو۔ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے لیے وقف کردو۔ آؤ جس مسلک سے بھی عقیدت رکھتے ہو رکھو مگر تعلیم کو سینے سے لگا لو، ہر جگہ علم کا پودا لگاؤ، اس کو اپنے خون جگر سے سیراب کرو۔ اے میری قوم کے رہ نماؤ! آگے بڑھو، تعلیم کے میدان میں ہماری رہ نمائی کرو، تعلیم کے ذریعہ تمھاری قیادت اور نمایاں ہوگی، تمھارے معتقدین جب علم کی معراج پر پہنچیں گے تو تمھارے سر پر ہی تاج رکھاجائے گا۔ اے میری قوم کے سیاست دانو! تم کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ رہو مگر اپنی سیاست سے تعلیم کی راہیں آسان کرو، تم صاحب اقتدار ہو تو بہت کچھ کرسکتے ہو۔ آؤ علم کا ایک چراغ روشن کردو تاکہ قوم کو روشنی مل سکے ۔یقین مانو تمہارا اقتدار اس روشنی میں جگمگا اٹھے گا۔
یہ امت بانجھ نہیں ہے ۔آج بھی مایہ ناز سپوتوں سے مالا مال ہے ۔کتنے ہی نایاب ہیرے ہیں جن پر زمانے کی گرد پڑ گئی ہے ۔دراصل ملت کی ایک کمزوری یہ کہ وہ اپنے قابل قدر افراد کی قدر نہیں کرتی ۔اپنے ہم مذہب بھائی کے کاموں کو نہیں سراہتی بلکہ حوصلہ شکنی کرتی ہے لیکن میں ناامید نہیں ہوں۔ہمیں چاہئے کہ ہم بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ذاتی مفادات کو ملت کے مفادات پر ترجیح دیں،آپس میں اعتماد کریں ،کسی کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیںاپنے بھائیوں کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ خوبیوں پر نظر رکھیں ۔دل سے دل اور ہاتھ سے ہاتھ ملاکررات کا سینہ چیرتے ہوئے آگے بڑھیں،صبح روشن آپ کی منتظر ہے۔
اتنا بھی نا امید دل کم نظر نہ ہو
ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest