ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو کے سابق صدرپروفیسر صاحب علی کی رحلت

صاحب علی کی رحلت کی وجہ سے اردو دنیا میں صف ماتم 

ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو کے سابق صدر اور موجودہ سنئیر اور فعال معلم ڈاکٹر صاحب علی آج بروز جمعہ شدید دورہ قلب کی وجہ سے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ 57 سالہ صاحب علی کونماز جمعہ کی تیاری کے دوران شدید دورہ قلب پڑا اور انہیں شمال۔مغربی ممبئی کے علاقہ باندرہ کلا نگر کے گرونانک اسپتال پہنچایا گیا ،لیکن اسپتال پہنچنے تک ان کی روح پرواز کر چکی تھی۔

پسماندگان۔میں اہلیہ دولڑکیاں اور لڑکا ہے۔کالینہ یونیورسٹی کیمپس میں رہائش تھی۔ان کے سنئیر اور سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر عبدالستار دلوی نے کہاکہ وہ شدید صدمہ سے دوچار ہیں کہ اردو کا ایک فعال شخص ہمارے درمیان سے چلاگیاہے۔

مرحوم صاحب علی کا تعلق ڈومریا گنج ضلع بستی اترپردیش سے تھا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور ممبئی کے برہانی کالج سے وابستہ ہوگئے ،اور 1996 میں ممبئی یونیورسٹی شعبہ سے ان کی وابستگی ہوئی تھی۔اس موقع پر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبدالستار دلوی،ان کے معاون پروفیسر یونس اگاسکر (سابق انچارج شعبہ اردو) اور سابق صدر محترمہ رفیعہ شبنم عابدی کی شعبہ میں طوطی بولتی تھی۔

مرحوم صاحب علی پہلی بار 2004 ءمیں شعبہ اردو کے صدربنے اور 2014 تک عہدہ پر برقرار رہے۔ وہ پروفیسر معین الدین جنابڑے کے جانشین تھے۔جوکہ جے این یونئی دہلی میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوگئے تھے

مرحوم صاحب علی 2014 کے بعد وقفہ وقفہ سے صدر کے عہدہ پر فائز ر ہے اور حال میں یعنی دسمبر 2019 کو انہوں نے شعبہ کی ذمہ داری خاتون رکن معزہ دلوی کو سونپی تھی ، ان کی کتاب ’ریاض خیرآبادی کی صحافت‘ منظر عام پر آئی تھی،جوکہ ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا۔

سابق صدر پروفیسر عبدالستار دلوی نے ان کے انتقال پرگہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک فعال انسان تھے ،انہیں لکھنے پڑھنے کا شوق تھا اور تقریباً بیس پچیس سال سے تعلقات رہے،چار سال ان کے ماتحت رہے۔جبکہ مراٹھی سے بھی ترجمے کیے۔حال میں ان کی کتاب ریاض خیرآبادی کی صحافت نامی کتاب کا اجراءبھی ہوا۔انہوں نے مراٹھی کتاب ’کوو ¿ں کا اسکول‘ کا اردو ترجمہ کیا۔

شعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی کے ایک اور سابق صدر ڈاکٹر یونس اگاسکر نے ان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہارکیا۔انہوں نے کہا کہ غالباً 1996میں وہ شعبہ اردوسے وابستہ ہوئے ،اس سے قبل وہ برہانی کالج ممبئی میں درس وتدرسی سے وابستہ رہے تھے ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے کے بعد ممبئی آگئے۔ان کے مزاج میں انکساری واحترام تھا،ہمیشہ فعال رہے اور ان کے پڑھنے لکھنے کے شوق نے انہیں ترقی وکامرانی دلائی ۔انہوںنے کئی کورس شروع کیے جن میں جرنلزم کا کورس کافی مقبول ہے جبکہ ڈی ٹی پی اردواور اردو سکھانے کے کئی کورسس کو بہتر بنانے کی کوشش کی ۔ا س درمیان وہ دوسروں کے کام آئے اور دوسروں نے ان کی اچھی عادت کی وجہ سے ان کا ساتھ دیا۔

بھیونڈی کے مشہور وکیل یسین مومن نے کہاکہ گزشتہ اتوار کو ان کی ملاقات ممبئی یونیورسٹی کیمپس میں مرحوم صاحب علی سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوںنے مطلع کیا کہ انہیں اودے پورکی ایک یونیورسٹی سے وائس چانسلر کی پوسٹ کے لیے پیش کش آئی ہے جبکہ کولکتہ کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ میں وائس چانسلر کے عہدہ کے لیے آفر کی گئی۔مرحوم کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ یونیورسٹی میں مختلف موضوعات اور عنوانات پرسمیناراور مذاکرات کے پروگرام منعقد کرتے اور ملک بھر سے اردوکے دانشوروںاور عالموں کو مدعوکرتے تھے،اس بات کا امکان کم ہے کہ مستقبل میں ایسے پروگرام ہوسکیں گے یا نہیں۔کیونکہ ملک کے ہر ایک گوشے سے تشریف لاتے تھے۔ ایڈوکیٹ مومن نے کہا کہ ایک دانشورہمارے درمیان سے چلا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مشہور شخصیات کا اظہار تعزیت

معروف صحافی اور سماجی کارکن سمیع قریشی نے کہا کہ وہ ادبی حلقوںمیں کافی مقبول رہے کیونکہ کافی فعال تھے ،سبپی کو موقعہ دیتے تھے۔انہوںنے عہدہ پر رہ کر اس کا حق ادا کیا تھا۔ورنہ کرسی ملنے کے بعد لوگ اسے بچانے میں لگ جاتے ہیں ،لیکن مرحوم صاحب علی نے اس کا حق ادا کردیا۔جبکہ معروف صحافی جاویدجمال الدین نے بھی ان کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے ان کے کے انتقال پر دکھ کا اظہارکیا اور کہا کہ انہوںنے شعبہ اردوکو عام آدمی یعنی اردوداں طبقہ سے جوڑدیا تھا اور یہی ان کی خوبی یہ تھی کہ اردواور مراٹھی زبان کو قریب لانے کے لیے ان کی کوشش یادرہیگی ،حال میں مراٹھی ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا۔جرنلزم کورس کے لیے ممبئی اور قرب وجوارکے اردواخبارات سے وابستہ صحافی ہر اتوار کو طلباءکو لیکچر دینے آتے تھے۔یہ ان کی کوشش کا نتیجہ تھا۔

گل بوٹے مدیراعلیٰ فاروق سیّد نے کہا پروفیسر صاحب علی کی بے وقت موت نے انہیں جھنجھوڑکردکھ دیا کیونکہ ان کے لیے یہ دوہراصدمہ ہے کیونکہ وہ اور ان کی بیگم بھی ان کی بیٹی کی استاد تھیں ،ہمیشہ تعلق رہا اورہروقت صلح مشورہ کرتے اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کے حامی رہے۔ان کی موت اردوادب کا بھاری نقصان ہے۔

برہانی کالج اور یونیورسٹی میں ان کے ساتھ کام کرچکے پروفیسر قاسم امام نے کہا کہ صاحب علی اپنے مستقبل کو لیکر بہت چاق وچوبند رہتے تھے،ابتدائی دنو ںمیں ہمارے ساتھ برہانی کالج میں کام کیا ،بڑی خاموشی سے مستقبل کو سنوارنے میں لگے، اور ان کی محنت ولگن کے سبب شعبہ اردوممبئی یونیورسٹی کے صدربن گئے ،صحیح معنوی میں انہوںنے ممبئی یونیورسٹی کے شعبے اردوکو مقبول بنایا اور پروگراموں کے ذریعے ہمیشہ خبروں میں رکھا ،دراصل یہ اردوادب کا نقصان ہے۔

روزنامہ راشٹریہ سہاراکے ریزیڈنٹ ایڈیٹر محمدمعراج انورنے کہا کہ وہ اپنے سے کم عمر کے ساتھیوں سے بہتر سلوک کرتے تھے اور یہ کافی صدمہ کا مقام ہے کہ ایسی خوبی رکھنے والا شخص وقت سے پہلے ہم کو چھوڑکر چلا گیا ۔انہوںنے اپنی سینٹریٹی کا کبھی حکم نہیں چلایا اور اچھے اخلاق کے مالک رہے۔ جبکہ اردوزبان کے فروغ اور ترویج کے لیے وہ کافی سرگرم رہے ،وہ ساہتیہ اکادمی میں اردوکی نمائندگی کررہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *