ملک کی آزادی،ترقی وفروغ میں اردوصحافت کا اہم رول ،اسے درپیش مسائل پر غوروخوض کرنے کی پریس کونسل کی یقین دہانی

ممبئی: پریس کاونسل آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس چندر مولی کمار پرساد نے آج یہاں کہا کہ ملک میں صحافیوں کے تحفظ،ان کی بہتری وفلاح کے لیے پریس کاونسل کے ذریعہ ہر ممکن تعاون جاری رہیگاجبکہ ہماری کوشش ہوکہ کسی بھی زبان کے صحافیوں کے حقوق کی حفاظت کی جاسکے ،جبکہ انہوںنے اس موقع پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اردواخبارات اور صحافیوں کوبھی درپیش مسائل پر غوروخوض کیا جائے گااور اس سلسلہ میں ایک بہتر اور قابل قبول حل نکالنے کی کوشش ہوگی ۔
ممبئی کے دوروزہ دورہ پر صحافیوں کی پٹائی اور ان کے خلاف پولیس کارروائی کے متعدد معاملات کی تحقیقات کے لیے آئے کاونسل کے وفد نے جنوبی ممبئی کے ملبارہل پر واقع سہیادری گیسٹ ہائوس میں نامہ نگاروںسے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین جسٹس پرساد نے کاونسل کے کام کاج میں حکومت یا وزارت اطلاعات ونشریات کے ذریعہ داخل اندازی سے انکارکیا۔اس موقع پر اردوجرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدرخلیل زاہد کی قیادت میں اردواخبارات کے صحافیوں نے انہیں اردومیڈیا کو درپیش مسائل پر ایک میمورنڈم پیش کیا ،اس وفد میں ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اور ہندوستان کے مدیرسرفراز آرزو ،اردوٹائمز کی مالک اور منیجنگ ایڈیٹرقمر سعید احمد،نائب صدرجاوید جمال الدین ،خازن فاروق سیّد ،روزنامہ ہم آپ کے سنیئر رکن جمال سنجراور قاسم اما م نے ان کی گلپوشی کی اور میمورنڈم پیش کیا۔
اس موقع کاونسل کے چیئرمین نے مزید کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین چار سال کے دوران ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے 75فیصد واقعات انفرادی طورپر اور نجی معاملات پر مبنی ہوتے ہیں جبکہ عام طورپر ان تشددکے دوران کتنے صحافی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں ،اس کے کوئی تفصیلی اعدادوشمار نہیں ہیں،لیکن ایسے واقعات کی اکثریت ہوتی ہے ،جس میں نجی معاملات میں وہ تشدد کاشکار بنتے ہیں۔
انہوں نے پالگھر ضلع میں پولیس کے ذریعہ ایک صحافی حسین احمد اور اس کے ساتھی کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے اور اکنامک ٹائمز کے معاملہ میں حکومت کو آج سفارش کی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ تشدد کا شکار بننے والوں کو انصاف مل سکے ۔
چیئرمین نے کہا کہ کاونسل میں کسی صحافی یا فرد کو لینا چیئرمین کے اختیار میں نہیں ہے ،اسے جرنلسٹ پینل کے ذریعے سے نامزد کیا جاتا ہے ،جبکہ حکومت کو بھی اختیارنہیں ہوتا ہے ۔کاونسل ارکان کی خواہش ہے کہ سبھی زبان کے اخبارات کے نمائندے پریس کاونسل میں شامل کیے جائیں تاکہ ہندوستان کے الگ الگ علاقوںکی نمائندگی ہوسکے جبکہ کسی اخباراور اشتہارات کو کس قیمت پر فروخت کیا جائے ،اس سلسلہ میں اس کی انتظامیہ کو اس کا حق ہوگا ۔اردوصحافیوں کے وفد سے انہوںنے فرداً فرداً ملاقات کی جن میں صحافی یونس صدیقی ،ہدی ٹائمز کے مدیر مستقیم مکی ،عوامی رائے کے ڈاکٹر علائوالدین ،صداقت ویکلی کے مدیر قیصراحمد،گگن نامی رسالہ مشیر انصاری ،ہندوستان اخبار کے علیم احمداور دیگر شامل رہے ،
بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز سے کاونسل کے سبھی ارکان سے یہاں پہنچ کر مہاراشٹر اور ممبئی میں صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے تشدد واقعات کا جائزہ لیا اور سنگین معاملات کی تحقیقات کرنے کے بعد ریاستی حکومت کو اپنی سفارشات پیش کی ہے ،تاکہ تشدد کے شکار صحافیوں کو انصاف مل سکے اور قصوروار وںکو کیفرکردار تک پہنچایاجائے ۔اس پینل میں ملک کے کئی سنیئر صحافی موجودتھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest