آہ مولانا واضح رشید حسنی رح

از ۔۔۔ زین ہاشمی ندوی
مولانا واضح رشید حسنی ندوی خانوادۂ علم اللہی کے اہم فرد تھے ، مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی ؒکے بھانجہ اور استاذ محترم حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی تھے۔
مولانا ایک کثیرالجہات شخصیت کے مالک تھے،انہوں نے اپنی زندگی میں علم و ادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت پر بھی خاصہ دھیان دیا تھا،اسی فکر کے تحت انہوں نے بہت سی کتابیں بھی لکھی تھی، علمی زاویے سے اگر دیکھا جائے تو ان کی کتابیں اکثر اسلامی ادب کو فروغ دیتی ہوئی نظر آتی ہیں، انہوں نے اسلامی ادب کے حوالے سے برصغیر میں ایک غیرمعمولی خدمت انجام دی ہے ،صرف عربی ادب کی ہی بات کریں تو انہوں نے عربی تنقید میں ایک اعلی مقام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ادب اسلامی کو صحیح معنوں میں متعارف کرانےکی اسی کوشش کو آگے بڑھایا ہے جس کی اساس حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی نے ڈالی تھی۔
ان سے پڑھنے کا اتفاق 2012 میں ہوا مولانا کی شخصیت کو صحیح طور سے میں نے اسی وقت پہچانا مولانا کا گھنٹہ کیا تھا ایک ایسا زبردست علمی مذاکرہ تھا ، جس میں ہم تھوڑے سے وقت میں سیکڑوں کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے، مولانا کے مختصر سے لیکچرز نے ہم لوگوں کے اندر مطالعہ کرنے کی ایک مقناطیسی قوت پیدا کردیتی مولانا جب ادیبوں کا تذکرہ کرتے تو صرف ان کی تعریفیں نہیں کرتے بلکہ ان کے انحراف کا تذکرہ بھی کرتے خصوصاً جب کبھی طٰہٰ حسین کا تذکرہ کیا تو اس کی عربی دانی کی قدر بھی کی اور اس کی بہ راہ روی پر تنقید بھی ۔

 

مولانا عربی ادب سے اس قدر واقف تھے محسوس ہوتا تھا گویا مولانا عربی میں ہی جیتے ہیں عربی ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، ایک مرتبہ میں نےرائے بریلی میں مولانا سے ملاقات کی مولانا کو اپنا نام بتایا مولانا شاید مجھے بھول چکے تھے لیکن جب میں نے یہ بتایا کہ میں آپ کا شاگرد ہوں تو مولانا اتنی محبت اور الفت سے ملے کہ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں دوران گفتگو میں نے مولانا سے سوال کیا کہ آپ نے اپنی کتاب “اعلام الادب العربی” میں ڈاکٹر احمد امین کا تذکرہ کیوں نہیں کیا؟حالانکہ وہ بھی ایک بڑے ادیب ہیں ، قربان جائیے ان کی سادگی پر مولانا نے نہ مجھے ڈانٹا اور نہ ہی میرے سوال پر ناراضگی کا اظہار کیا ، بلکہ پیار اور محبت سے اپنی رائے دی اس رائے کے مطابق مولانا احمد امین کو ادیب سے زیادہ مورخ مانتے تھے جس وجہ سے مولانا نے اپنی اس کتاب میں ان کا تذکرہ نہیں کیا بہرحال مولانا ایک نیک انسان تھے اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے،
میں رائے بریلی میں صرف 3 دن رہا ہلکی ہلکی ٹھنڈ تھی میں نے اس کمرے جس کمرے میں مولانا رہا کرتے تھے،تو ایک طالب علم مولانا کے قریب ہی بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کر رہا تھا اور مولانا قرآن کریم سن رہے تھے اور زارو قطار رو رہے صرف یہ ہی واقعہ ان کی للٰہیت اور انکی نیکوکاری کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔۔۔۔۔۔

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest