ملک کے موجودہ حالات میں ہمارا لائحہ عمل

کلیم الحفیظ
کنوینرانڈین مسلم انٹیلکچولس فورم
نئی دہلی۔۲۵
9897919786
ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے وہ ناگفتہ بہ ہیں ۔صاحب اقتدار طبقہ کے جو ارادے ہیں وہ مزید خرابی کا پتا دے رہے ہیں۔ملک کے یہ حالات یوں تو تمام باشندگان ملک کے لیے ہی نا موزوں ہیں لیکن مسلمان سب سے زیادہ متأثر ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ان حالات میں عام طور پر قوموں کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں۔ایک راستا مایوسی کا شکار ہوکر خود سپردگی کر دینا،دوسراراستا حالات کے مطابق پالیسی بنا کر حالات کو اپنے موافق بنا لینا،پہلا کام بہت آسان ہے اس کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بس ذلت سہنے کی عادت ڈالنا ہے۔البتہ دوسرا کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیںہے ۔پہلے کام کے نتیجہ کے لیے کسی انتظار کی ضرورت نہیں دوسرے کام کے لیے لمبے انتظاراور صبر کی ضرورت ہے۔میری نظر میں درج ذیل چند نکات ہیں جن پر فوراً عمل شروع کیا جائے تو بیس سے پچیس سال میں مثبت نتائج کی توقع ہے ۔
ایمان و عقائد کا جائزہ لیجیے
سب سے پہلی چیز ایک مسلمان کے لیے اس کا ایمان ہے۔ایک مومن کواسباب کی ضرورت تو ہوتی ہے مگر وہ اسباب کا پابند نہیں ہوتا۔اسلام اور مسلمانوںکی تاریخ اس پر گواہ ہے۔یہاں زنگ زدہ چند تلواروں سے313 افراد1000کو شکست دیتے ہیں۔یہاں دریا پار کرکے کشتیاں جلادی جاتی ہیں ،یہاں دریا میں گھوڑے سمیت پوری فوج کود جاتی ہے۔یہ محض ایمانی قوت ہے جو مومن کو بے تیغ بھی نہ صرف لڑنے کی ہمت دیتی ہے بلکہ فتحیا ب بھی کرتی ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہئے،اللہ پر ایمان کا تقاضا ہے کہ ہماری ساری امیدوں کا وہی مرکز ہو،رسول پر ایمان کا اثر ہمارے اخلاق سے نمایاں ہو،آخرت کی جواب دہی کا تصور ہمیں ایمان کے منافی کام کرنے سے روکنے کے لیے کافی ہو۔جو انسان اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔جو شخص اپنے اخلاق میں نبی کے اسوہ کو سامنے رکھتا ہے وہ محبوب خلائق ہی نہیں محبوب ملائک ہوتا ہے۔
اقراء پر عمل کیجیے
مسلم ملت کا زوال مال و دولت کی کمی سے نہیں بلکہ تعلیم کی کمی اور اخلاقی گراوٹ سے آیا ہے،دور اول کے مسلمان اگرچہ بہت زیادہ کتابی علم نہیں رکھتے تھے مگر وہ مکتب نبوی کے سند یافتہ تھے،وہ وہم و گمان کے درمیان یقین کی شمع تھے،میں نے تعلیم کے لیے اقراء کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کیا ہے،مسلمانوں کے نزدیک تعلیم محض حروف شناسی یا ہندسہ شناسی کا نام نہیں ہے بلکہ خود شناسی و خدا شناسی کا نام تعلیم ہے۔ہماے پاس مدارس،اسکول،کالج،مساجد خاطر خواہ تعداد میں ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکول اور کالج خدا شناسی کے علم کواور مکاتب و مدارس خودشناسی کے علم کو اپنے اپنے نصاب میں شامل کریں۔
بازارپرپکڑبنائیے
روپیہ پیسہ دھن دولت اللہ کی نعمت ہے۔اسے حاصل کرنے میں محنت کیجیے۔اپنے کاروبار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیجیے۔اپنے ڈاکیومینٹیشن کواپڈیٹ رکھیے،کاروبار میں ایک دوسرے کی معاونت کیجیے۔پیسہ خرچ کرنے میں بھی احتیاط سے کام لیجیے۔فضول خرچی پر قابو پائیے،غیر اسلامی رسومات کو ترک کردیجیے،بچت کا مزاج بنائیے،ایسے کاموں پر دل کھول کر خرچ کیجیے جس کا مثبت نتیجہ نکلنے والا ہو،مثلاً بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ مت کیجیے۔اچھی تعلیم دلاکر بچہ کامیاب ہوگا تواس کی پوری تعلیم پر جو پیسہ خرچ کیا گیا ہے وہ ایک سال میں کماکر دے دے گا۔معاشی استحکام بہت ضروری ہے۔ہم میں سے جو لوگ مال دار ہیں وہ اپنے غریب اور کم زور احباب و رشتہ داروں کوسہارا لگائیں البتہ بھیک مانگنے کی حوصلہ شکنی کی جائے،بلاسودی قرض اسکیم یا اجتماعی زکاۃ فنڈ قائم کرکے بھی بے روزگاری دو کر کی جاسکتی ہے۔زکاۃ کو بے اثر ہونے سے بچایے۔
سیاسی قوت کا حصول
آزادی کے بعد سب سے زیادہ نقصان ہمیں سیاسی میدان میں ہوا ہے،گزشتہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں سیکولر پارٹیوں کے رویہ نے امید کے سارے چراغ گل کردیے ہیں۔اب ہمیں نئے سرے سے چراغ جلانا ہوں گے۔میرا خیال ہے مسلمان لوکل باڈیز پر زیادہ توجہ دیں،وہاں سرکاری اسکیموں کو ایمان داری سے نافذ کریں،ملک میں سینکڑوں نگر پالیکائوں اور ہزاروں گرام پنچایتوں کے مکھیا آج بھی مسلمان ہیں مگر وہ بھی بھرشٹا چار کا شکار ہیں ،وہ بھی دولت اکٹھا کرنے کے چکر میں ترقی و خوشحالی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتے،اگر لوکل باڈیز میں ہم خود کو انسانیت کے لیے مفید بنائیں تو آگے کے راستے بھی کھل سکتے ہیں،اسمبلی و پارلیمنٹ کے لیے اپنی قیادت کو کھڑا کرنے اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ہماری سیاسی لیڈر شپ کو بھی اپنا جائزہ لینا چاہیے اور دیکھنا چاہئے کہ انھوں نے ملت کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کیا کام کیے ہیں۔
خواتین کا نظر انداز مت کیجیے
آخر میں ایک گزارش یہ کہ ہماری خواتین جو ہماری آبادی کا نصف حصہ ہیں یعنی ہمارا نصف سرمایہ بھی ہیں اور نصف طاقت بھی ان کو نظر انداز کرکے ہمارا مستقبل کبھی روشن نہیں ہوسکتا۔ہمارے عروج کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر مرحلہ ،ہر منزل اور ہرقدم پر ہماری کامیابی میں خواتین نے اہم رول ادا کیا ہے ۔خواتین کے سرمایہ کی حفاظت بھی کرنا ہے اور کام میں بھی لانا ہے۔تعلیم یافتہ،ڈاکٹرس،ٹیچرس خواتین کی تعداد اگرچہ آبادی کے تناسب سے کم ہے لیکن جو بھی ہے اس کو سلیقہ سے مستقبل کی تعمیر میں لگایا جائے تو کامیابی کے جلد امکانات ہیں ۔
میں نے چند قابل عمل تجاویز آپ کے سامنے رکھی ہیں ۔خلوص،ایمان داری اور ایثار کے جذبہ سے اگر ان تجاویز کی مائکرو پلاننگ کرکے ان پرعمل کیا گیا تو ہماری آنے والی نسلیں نیا ہندوستان دیکھیں گی ورنہ انھیں آج کے میانماراور کل کے ہندوستان میں فرق کرنا مشکل ہوجائے گا۔
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest