مولانا اسرارالحق قاسمی کی رحلت پر اظہار تعزیت!

مولانا اسرار الحق قاسمی ایک گھنا سایہ دار درخت تھے: شمس الہدی قاسمی

حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری حافظ شمس الہدی قاسمی نے رکن پارلیمنٹ اور معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اب ہمارے درمیان نہیں رہے اور ان کی رحلت ایک ایسا ناقابل تلافی خسارہ ہے جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی۔ معروف عالم دین، ممتاز قومی و ملی رہنما، دار العلوم دیوبند کے رکن شوری اور کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کا صبح ساڑھے تین بجے انتقال ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق حضرت کو رات کو شدید دل کا دورہ پڑا تھا۔ ایک ایسا گھنا سایہ دار درخت تھے جس کے تلے ملت نے کئی مراحل پار کئے اور پریشانی میں اس درخت کی چھاؤں میں سکون حاصل کیا، آج وہ گھنا سایہ سروں سے اٹھ گیا ہے اور پوری ملت اس سے محروم ہو گئی ہے۔ مولانا کمال کی شخصیت کے مالک تھے ان کی شخصیت کے ایک سے ایک نمایا پہلو تھے وہ عالم دین تھے، سیاست داں تھے، دانشور تھے، کالم نگار تھے اور بہترین انسان تھے۔ نرم مزاج، بردبار اور مشکل ترین حالات میں بھی کبھی پریشان نہ ہونا ان کی امتیازی پہچان تھی۔ ان کے بعد ہمارے پاس بس ان کی علمی میراث، ان کے خطبات اور ان کی بلند شخصیت کے نمایا پہلو ہیں جن کی روشنی میں ہمیں اپنا مستقبل کا سفر طے کرنا ہے۔ مولانا اسرار الحق قاسمی کے پسماندگان کے تئیں گہرے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ٹرسٹ کے تمام ممبران ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram