ایک روشن دماغ تھا ، نہ رہا

(مولانا سید محمد واضح رشیدحسنی ندوی ؒ کے انتقال پر چند تأثرات )
سعید الرحمن اعظمی ندوی
مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ

بڑے افسوس کے ساتھ یہ خبر اندوہ گیں سنی گئی کہ مشہور عالم دین ، عربی زبان کے بے مثال ادیب، ندوۃ العلماء کے معتمد تعلیم ، پندرہ روزہ عربی رسالہ کے چیف ایڈیٹر ، عالمی رابطہ ادب اسلامی کے جنرل سکریٹری ، میرے مخلص اوروفا شعار رفیق جناب مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی ۹؍ ۴؍ ۱۴۴۰؁ھ مطابق۱۶؍ فروری ۲۰۱۹؁ء کو طلوع صبح صادق کے آخری لمحات میں دار آخرت کی طرف روانہ ہو گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
مولانا واضح رشید حسنی ندوی خانوادۂ علم اللہی کے اہم فرد تھے ، میرے مرشد و مربی حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی ؒکے حقیقی بھانجہ اور استاذ گرامی قدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی تھے، ان کی پیدائش ۱۹۳۲؁ء میں ہوئی ، وہ مجھ سے درجہ میں دو سال آگے تھے ، فراغت کے بعد و ہ آل انڈیا دہلی ریڈیو اسٹیشن میں ملازم ہو گئے ، اور ۱۹۷۳؁ء تک وہاں رہے ، اس درمیان بھی ان کی ندوہ آمد و رفت رہتی ، میرے دوست اور مخلص رفیق مولانا محمد الحسنی ان کے برادر نسبتی تھے ، اس لئے دونوں میں بڑی بے تکلفی تھی ، وہ ہم دونوں کی مجلس میں شریک ہوتے ، اورعلمی اور ادبی موضوعات پر اچھی گفتگو ہوتی تھی ،۱۹۷۳؁ء میں وہ دار العلوم ندوۃ العلماء میں تدریس کے لئے آئے اور اسی وقت سے اخیر تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ، پھرعلمی اور ادبی مجالس کا لطف دوبالا ہو گیا ، وہ پندرہ روزہ الرائد کے ایڈیٹر بنائے گئے ، اوراور البعث میں بھی شریک ادارت رہے ،اور حالات حاضرہ پر ان کے مضامین بڑے تجزیاتی اور مدلل ہوتے تھے ،وہ اردو ، انگریزی او رعربی کئی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے ، اس لئے تینوں زبانوں کی صحافت پر گہری نظر تھی ،عالمی حالات پر ان کا مطالعہ بڑا گہرا تھا، وہ درجنوں کتابوں کے مصنف تھے ، فکری موضوعات پر ان کی کئی کتابیں ہیں ، یورپ کے تعلیمی نظریات سے واقف تھے اور اس کے عروج وزوال کی تاریخ کا انہوں نے خوب مطالعہ کیا تھا ،جس کی جھلک ان کی گفتگو میں نمایاں تھی ۔ وہ کسی مسئلہ پر بحث کرتے تو اس کے مالہ وما علیہ کو پیش نظر رکھتے ۔ عام طور پر وہ تقریر نہیں کر تے تھے ، لیکن جب بھی تقریرکی مواد سے بھر پور تقریر کی ۔ وہ اعلی علمی ذوق کے حامل ، یکسوئی کے عادی ،انفرادیت پسند اور گوشہ گیراور بے لوث تھے ۔
مولانا محمد واضح رشید حسنی ندویؒ قلم کے مجاہد تھے ، انہوں نے ایک طویل زمانہ تک قلم سے جہاد کیا ،ا ور ایوان باطل کوللکارا ، مداہنت اور دوہری پالیسی کے قائل نہیں تھے ، بہت صاف دل اور اعلی دماغ کے مالک تھے ، عہدہ و منصب سے دور رہتے تھے ، مال ومنال کی ذرا بھی پرواہ نہ تھی ،ندوۃ العلماء کے معتمد تعلیم کا عہدہ جب سنبھالا تو اپنی تنخواہ سے بھی دستبردار ہوگئے ، اور رضائے الہی کے ساتھ اس خدمت کو انجام دیتے رہے ۔دار العلوم کے تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے میں ان کے مشورہ بڑے قیمتی اور مفید ہوتے ، اساتذہ کو بھی انفرادی ملاقاتوں میں مقصدیت کے ساتھ تدریسی فریضہ انجام دینے تاکیدکی ، ان پر افراد سازی کی فکر غالب تھی ، انہوں نے کئی نسلوں کی تربیت کی ، اور ان کو عربی کا اچھا انشاء پرداز بنایا ، اللہ تعالی نے ان کو اس فن میں کمال عطا فرمایا تھا ، عربی زبان وادب کی تدریس ان کا شروع ہی سے موضوع تھا ، وہ زبان کے رموزسے آشنا تھے ، اور اسی کے مطابق تربیت کر تے تھے ، وہ کم گو تھے ، لیکن ان کی گفتگو میں بڑی معنویت ہوتی تھی ۔
ان کی وفات سے ندوۃ العلماء میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے ،ندوہ اپنے ایک علمی اور تعلیمی محسن سے محروم ہو گیا ، وہ دنیا سے تو چلے گئے لیکن جریدہ ٔ عالم پر اپنے نقوش ثبت کر گئے ، جس پر ان کی تصنیفات گواہ ہیں ۔ انہوں نے اپنے پیچھے علمی و دینی صلاحیتوں سے بھر پور ایک کنبہ چھوڑا ، ان کے صاحبزادے مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی ہیں ، ان کی کئی اولادیں ہیں ، جو ماشاء اللہ بہت ذی استعداد اور باصلاحیت ہیں ۔ ان کے علاوہ شاگردوں کی بڑی تعداد ان کے وفات پر گریہ کنا ں ہے ۔ اللہ تعالی ان کی بال بال مغفرت فرمائیں ، اور ان کو اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائیں اور ان کے درجات بلند فرمائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram