عصری آگہی کا مزاج داں۔۔۔۔معین شادابؔ

 

 

 

 

 

 

 

 

اسلم چشتی پونے، انڈیا
چیئرمین ‘صدا ٹوڈے، اُردو نیوز ویب پورٹل
Sadatodaynewsportal@gmail.com
www.sadatoday.com
09422006327

معین شادابؔ سے میرے ذہنی اور قلبی رشتے کی عمر دو دہائیوں سے کم نہیں یہی رشتہ ان کے اشعار سے اب تک جڑا ہے۔ ادھر میں پونے میں اور اُدھر وہ دِلی میں لیکن اس دُوری کو ٹی وی نے قربت میں بدل دیا ہے۔ ای ٹی وی اُردو کے مشاعرے معین شادابؔ کی نظامت میں اکثر میں دیکھتا ہوں اور رُوحانی مسرت محسوس کرتا ہوں۔
بے پناہ ادبی صلاحیتوں کے مالک معین شادابؔ کے ادبی سفر کے ابتدائی دور سے میں صرف آشنا ہی نہیں اُن کا ہم سفر بھی ہوں ۔ مجھے یاد ہے اُستادِ محترم عنوانؔ چشتی کی خانقاہ کی وہ پر نور شعری نشستیں جس میں شعر خوانی بھی ہوتی تھی، شعر فہمی بھی اور شاعر سازی بھی۔ اُستاد کھلے دِل سے ہر با صلاحیت نوجوان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ معین شادابؔ کی شاعری کے لئے یہ نشستیں یقینا کارآمد ثابت ہوئی ہوں گی یہیں سے اُن کی نظامت کے آداب کو تقویت ملی ہوگی ویسے معین شادابؔ اُردو تہذیب کے پروردہ اور قدرتی صلاحیتوں کے مالک تب بھی تھے اور اب بھی ہیں لیکن اب وہ پودا شجر سایہ دار ہوگیا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی فرحت بخش ہوائیں بکھیر رہا ہے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
معین شادابؔ ان دنوں سہارا ٹی وی کے نیوز ریڈر اور ٹی وی اور اسٹیج کے کامیاب اناؤنسر کی حیثیت سے جانے مانے جاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں روزی کا ذریعہ بھی ہیں اور شہرت کا باعث بھی لیکن معین شادابؔ کی اصل پہچان اور ادبی شناخت تو اُن کا کلام ہے جو وقتاً فوقتاً ان کے پیشے کے بھی کام آتا ہے اور رسائل اور اسٹیج پر بھی جادو جگاتا ہے۔
عصری آگہی کے مزاج داں اس شاعر کے اندرون و بیرون کے اظہار کا ذریعہ فقط غزل ہے جو نازک بھی ہے اور مقبول بھی لیکن اس میں نام کمانا آسان نہیں۔ بے انتہا مشق اور بے پناہ سماجی،ا دبی، سیاسی شعور اور آگہی کی ضرورت پیش آتی ہے اور پھر زبان و بیان کی قدرت تو لازمی ہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ معین شادابؔ نے نہ صرف غزل گوئی میں نام کمایا ہے بلکہ آج کی نئی غزل میں ان کا مقام بھی ہے۔
میں نے اُ ن کی غزلیہ شاعری کا مطالعہ خلوص سے کیا ہے ان کے کچھ شعر تو ازبر بھی ہیں ۔ اپنی پسند کے اشعار پر گفتگو کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کیونکہ معین شادابؔ کے اشعار نے مجھے گنگنانے پر مجبور کیا ہے اپنی شاعری کو بھول کر اُن کے اشعار دوستوں کو سنانے پر آمادہ کیا ہے اور میں نے معین شادابؔ کو سننے ، دیکھنے اور پڑھنے کے لئے اپنے دوستوں کی ذہن سازی کی ہے۔ قارئین چاہیں تو مجھے معین شادابؔ کا پی آر او بھی کہہ سکتے ہیں، مجھے خوشی ہوگی کیونکہ میری Mouth Publicityسے اچھے اشعار اہلِ ذوق تک پہونچیں گے اس سے پہلے کہ گفتگو آگے بڑھے میری پسند کے کچھ شعر ملاحظہ فرمائیں

ذرا سی دیر کو تم اپنی آنکھیں دے دو مجھے

یہ دیکھنا ہے کہ میں تم کو کیسا لگتا ہوں

یہ تیز دھوپ ہمیں کیسے سانولا کرتی

ہمارے سر پہ دُعاؤں کا شامیانہ تھا

یہ مرحلہ بھی کسی امتحاں سے کم تو نہیں

وہ شخص مجھ پہ بہت اعتبار کرتا ہے

یہ کِس کا حسن مہکتا ہے میرے شعروں میں

یہ کون ہے جو انہیں خوشگوار کرتا ہے

یہ صرف چار اشعار ہیں لیکن ان اشعار میں معین شادابؔ کے سخن کا لہجہ بولتا ہے اور سخن کے راز کھولتا ہے۔ ایک شعر میں آنکھیں مانگنے کا خیال دیکھئے کتنا نیا ہے کہ آنکھیں اس لئے مانگی جارہی ہیں کہ شاعر دوسرے کی آنکھ سے خود کو دیکھنے کا آرزو مند ہے۔ رِوایتی غزل یا کلاسیکی غزل کے لحاظ سے اس شعر کو سمجھا جائے تو شاعر اپنی محبوب سے اس خیال کا اظہار کررہا ہے تویہ شعر میری نظر میں روایتی غزل کی نئی کلاسک کا نمائندہ شعر بن جاتا ہے۔ دوسرے شعر کا خیال بھی معیاری ہے جس میں ’’دُعاؤں کا شامیانہ‘‘ والی ترکیب مزا دیتی اور مفہوم کو تقویت پہنچاتی ہے۔ تیسرے شعر میں کسی کے اعتبار کرنے کو امتحان کا مرحلہ بتایا گیاہے یہ اخلاقی ذمّہ داری کی غمازی کرتا ہے۔ اور چوتھا شعر بھی نئی کلاسیکل غزل کا معلوم ہوتا ہے جس میں غزل کی روایت کو ذرا آگے بڑھا یا گیا ہے۔
معین شادابؔ کا شعری مطالعہ وسیع اور ذوقِ سخن عمدہ ہے تبھی تو انہوں نے اپنے سخن میں نئے رنگ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ نئے ڈھنگ سے شعر کہے ہیں۔ نئے زمانے کے نئے مسائل کو شعری زبان میں پیش کیا ہے۔ اعلیٰ قدروں کی پامالی اور بزرگوں کی ناقدری پر معین شادابؔ کی شعر گوئی دیکھئے ؎

وہ وقت اور تھے کہ بزرگوں کی قدر تھی

اب ایک بوڑھا باپ بھرے گھر پہ بار ہے

کنبے کا بار اُٹھاتا تھا تنہا جو جان پر

بوڑھا ہوا تو بوجھ بنا خاندان پر

آج کے انسان کا دُکھ درد ماضی کے انسان سے بہت مختلف ہے۔ اعلیٰ ، اوسط، غریب سبھی کچھ عجیب سے کرب میں مبتلا ہیں۔ گو کہ دُکھ درد کی نوعیت الگ ہے لیکن اندرونی کرب مشترک ہے۔ اس کا احساس شاعر کو شدید طور پر ہے۔ اس احساس کے بطن سے ایک شعر کا جنم ہوا ہے۔ محسوس کرنے کی بات ہے ، ملاحظہ فرمائیں ؎

جلا کے آنکھیں اندھیرے کھنگالتے ہیں ہم

شبِ سیاہ سے سورج نکالتے ہیں ہم

کرب کے اظہار میں بھی معین شادابؔ نے اُمید کی کرن قائم رکھی ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ آج کا انسان اپنی کرب زدہ زندگی کے بَاوَجود جِئے جارہا ہے اور اپنے لئے راحتوں کو تلاش کر بھی رہا ہے اور اس میں اپنی اپنی کوششوں سے کامیاب بھی ہورہا ہے۔
انسانی زندگی کی عجیب سِچوئشن کی باتیں بھی معین شادابؔ اکثر کہہ جاتے ہیں۔ سوچنا پڑتا ہے کہ واقعی ایسی سچوئیشن کبھی کبھی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ نفسیاتی الجھن آپ کو اس شعر میں ملے گی۔

عمر بھر کو مِرا ہونا بھی نہیں چاہتا وہ

مجھ کو آسانی سے کھونا بھی نہیں چاہتا وہ

شہروں میں نئی تعمیرات نے روایتی گھر کے تصور کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ اچھا ہے کہ برا اس پر شاعر بات نہیں کرتا بلکہ بدلتی تہذیب میں با شعور رِوایتوں کے پاسدار انسان کے محسوسات کو شعر کے پیکر میں ڈھالتا ہے ۔ دو شعر ملاحظہ فرمائیں ؎

لمحہ بہ لمحہ پاؤں سے لپٹی ہیں ہجرتیں

کیسے لگاتے نام کی تختی مکان پر

نئے طرز کی کالونی میں سب کچھ ایک سا ہے

اپنا گھر بھی ہاتھ بڑی مشکل سے آتا ہے

موجودہ دور میں رِشتوں ناطوں کے شکست و ریخت اور تبدیلی کا احساس بھی معین شادابؔ کو ہے۔ اس تعلق سے اُن کی شاعرانہ سوچ دیکھئے کہ کِس خوبی سے شعر میں ڈھل گئی ہے۔

میرے واپس آنے تک ماں کی آنکھیں

گھر کے دروازے پر رکھی رہتی ہیں

بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے

بہت سے بوجھ اکیلے اُٹھانے پڑتے ہیں

حسب نسب میں کوئی کھوٹ ہے ضرور اُس کے

وہ بات بات میں شجرہ نکال لاتا ہے

سچ کہتا ہوں مان لے بھیا ورثے کو مسمار نہ کر

میرے لیے فٹ پاتھ بہت ہیں آنگن میں دیوار نہ کر

چندن دے یا دودھ پِلا تو ڈسنا اس کی فطرت ہے

سانپ کا بچہ سانپ ہی ٹھہرا اس کو اتنا پیار نہ کر

اپنی اولاد سے تعظیم کی اُمید نہ رکھ

اپنے ماں باپ سے جب تونے بغاوت کی ہے

اس زاویے سے پیڑ لگایا ہے بھائی نے

آتا نہیں ذرا سا بھی سا یہ مری طرف

معین شادابؔ کی غزل زندگی کی بات کرتی ہے، زندگی سے آنکھ ملاتی ہے۔ زندگی کا ساتھ دیتی ہے اور سخن شناسوں کو سخن کی کائنات دیتی ہے۔ ایسی کائنات جو جسم و جاں کی کائنات ہے۔ حال کی کائنات ہے۔ اس کائنات کا شعور بس میں آجائے تو مستقبل اپنے ہاتھ میں رہے اور جب وہ آئے حال بن کر تو خوشحالی نہ سہی ذہنی طور پر بدحالی نہ ہو۔
معین شادابؔ شاعری کے میدان میں اسی Fresh Dictionکے ساتھ مزید کلام کہتے رہیں گے اور شاعری کے شیدائی لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔ ان کے منفرد انداز کو لہجے کی شناخت کے لئے تنقیدی مضامین کی ضرورت میں محسوس کررہا ہوں۔ انشاء اللہ اس ضرورت کو وقت پورا کرے گا۔٭٭٭

Aslam Chishti, Flat No. 404, Shaan Riviera Apartment, Riviera Society,45/2,
Fatima Nagar, Wanorie, Near Jambholkar Garderden, Pune-411040
E-Mail: aslamchishti01@gmail.com Mob: 9422006327

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram