کیا یہ بات سچ ہے، آخر ٹرمپ نے وزیر آعظم مودی کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟؟؟؟؟؟؟

آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی ملک کا وزیرآعظم کسی ملک کے ساتھ دنر کرنے کی خواہش کو ٹھکرادے ؟لیکن مریکہ کے مشہور رائٹر باب ووڈوارڈ نے اپنی نئی کتاب میں دعوی کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ڈنر کرنا چاہتے تھے اور صحیح تال میل بنانا چاہتے تھے ، لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیمپ ڈیوڈ امریکی صدر کا ایک خوبصورت ریزارٹ ہے۔حالانکہ وہائٹ ہائوس نے اس خبر کو بے بنیاد بتایا ہے اور کہا ہے کہ یہ کتاب صرف تصور پر مبنی ہے اس میں ہندوستان اور مودی کے وہائٹ ہاوس کے دورہ کے بارے میں ایک چھوٹا سا سیکشن ہے ۔ مودی 26 جون 2017 کو وہائٹ ہاوس گئےتھے ۔ صدر ٹرمپ نے بھی ـــ’ٹرمپ ان دی وہائٹ ہائوس‘ ـ کو مذاق بتاتے ہوئے خارج کردیکتاب میں اس وقت کے قومی سیکورٹی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر کو ہندوستان کے ساتھ مضبوط رشتوں کی وکالت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ کتاب میں وہائٹ ہاوس کے کام کاج اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سازی کے عمل کو لے کر داخلی ذرائع کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کا بھی دعوی کیا گیا ہے ۔ اعظم مودی کے 26 جون کے دورے سے پہلے میک ماسٹر وہائٹ ہاوس کے اس وقت کے چیف آف اسٹاف رینس پربس سے ملے تھے ۔ ووڈوارڈ نے کتاب میں لکھا ہے کہ “ہندوستان کے وزیر اعظم مودی جن کا اوبامہ نے کافی گرمجوشی سے استقبال کیا تھا ، ٹرمپ سے ملنے کیلئے جون میں امریکہ آرہے تھے ۔ ہندوستان پاکستان کو دیکھتے ہوئے توازن بنائے رکھنے والی طاقت تھی ، پاکستان نئی انتظامیہ کیلئے دقتیں پیدا کررہا تھا ، جیسے وہ پہلے کی انتظامیہ کے ساتھ بھی دہشت گردی کے معاملہ پر کرتا آیا تھا ، مودی کیمپ ڈیوڈ جانا چاہتے تھے اور وہاں ٹرمپ کے ساتھ ڈنر کا لطف لینا چاہتے تھے اور باہمی تال میل بنانا چاہتے تھے “۔کتاب کے مطابق پربس نے اس وقت میک ماسٹر سے کہا کہ “یہ پروگرام کا حصہ نہیں ہے ۔ وہاں ڈنر کا پروگرام نہیں ہوسکتا ۔ صدر ( ٹرمپ ) بھی ایسا ہی چاہتے ہیں “۔ اس سے میک ماسٹر ناراض ہوگئے تھے ۔ ووڈوارڈ نے لکھا ہے کہ بعد میں جو پروگرام ہوا وہ اتنا شاندار نہیں تھا ، ڈنر وہائٹ ہاوس میں ہوا پی ایم او نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *