مودی کا دورجھوٹے وعدوں اور کرتب بازی میں گزرا،فیصلہ عوام کے ہاتھوں

 

 

 

 

 

 

 

 

جاویدجمال الدین
ہندوستان کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے،ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد سے 70 گزرجانے کے دوران ہماری جمہوریت نے کئی اتار چڑھاؤدیکھے ہیں اور 1951سے 2014تک ہونے والے انتخابات میں کانگریس ،غیر کانگریس اور بی جے پی کی قیادت میں متعدد حکومتوں کی تشکیل اور ان کی اقتدار سے بے دخلی بھی دیکھی ہے ،1947میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی قیادت میں حکومت کی باگ ڈورڈالی گئی ،لیکن 1977میں آنجہانی اندرا گاندھی کی ایمرجنسی اور حکومت کے طریقہ کار سے نالاں عوام نے ان سے اقتدارچھین لیا ،تیس برس ایک غیر کانگریسی حکومت نے اقتدار کی باگ ڈورسنبھالی ،جس نے عام طورپر یہ بات ثابت کردی کہ رائے دہندگان کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے جوحکمرانوں سے خفا ہوجائیں تو تخت وتاج بھی چھین لیتے ہیں۔خیر کوئی بھی ناقابل تسخیر نہیں ہوتا ہے اور گزشتہ پانچ سال سے بی جے پی اور خصوصی طورپر نریندرمودی کو ناقابل تسخیر قراردیا جارہا ہے اوریہ بھی نعرہ دیا جارہا ہے کہ ایک مخصوص سیاسی پارٹی سے سے ملک کو نجات دلانا ہے۔یہ ایک عجیب منطق ہے ،خیر فی الحال بات کرتے ہیں ،2019کے لوک سبھا انتحابات کی اور مودی حکومت کی حصول کی جوکہ کہ وعدوں ا ورکرتب بازی پر منحصررہا ہے۔
گزشتہ ماہ مارچ میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ لوک سبھا کے لیے تقریباً سومہینے طویل انتخابی سرگرمیاں اور شیڈول پیش کیے جانے کے بعد پہلا مرحلہ کی پولنگ 11اپریل کو ہوئی ،ملک میں اور خصوصی طورپر شمالی ،شمال مشرقی اورشمال مغربی ریاستوں میں جس اندازمیں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں ،اس میں کہیں بھی کسی کو نہیں بخشا جارہا ہے ،الیکشن کمیشن کی سخت ترین ہدایات کے باوجود اس وقت سیاستدان صرف انتخابی سرگرمیوں میں ہی مصروف نہیں ہیں ،بلکہ اپنی اور اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے اعلیٰ لیڈران ہرقسم کے ہتھکنڈا استعمال کر رہے ہیںاور اس مہم میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ تک محسوس نہیں ہورہی ہے ۔اس فہرست میں خود وزیراعظم مودی کا نام بھی سرفہرست ہے اور پھر بی جے پی صدرامت شاہ بھی کچھ نہیں ہیں ،جبکہ کانگریس صدرراہل گاندھی کے نعرے اور قابل مذمت الفاظ استعمال کرنا بھی اس انتخابی مہم کی یادگار میں شامل رہیگا۔
حال میں الیکشن کمیشن نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ 2014 میں ہوئے عام انتخابات میں تقریباً1703 منظورشدہ سیاسی جماعتوںمیں سے466 پارٹیوسں نے انتخابات میں حصہ لیاتھا جبکہ آزاد امیدواروں اور نئی پارٹیوں کے امیدواروںکی تعداد لگ تھیاس مرتبہ بھی بڑی تعداد میں پارٹی میدان عمل میں ہیں ،لیکن اس کے باوجود کئی بڑی ریاستوں میں اہم انتخابی رسہ کشی کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی کے درمیان میں طے ہے مگر اس دوڑ میں بھوجن سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی ، کمیونسٹ پارٹی، عام آدمی پارٹی اور شمال مشرقی خطہ اور جنوبی ہند کی علاقائی پارٹیاں کے درمیان ہوگا،کہیں کانگریس ان کے مدمقابل ہے اور کسی ریاست میں بی جے پی مقابلہ پر اتری ہوئی ہے۔ویسے ہندوستان کی انتخابی سرگرمیوں پر نظردوڑائی جائے اور نیوز چینلوں کے جاری بحث ومباحثہ کو مدنظررکھا جائے تو یہی محسوس ہوگا کہ اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہی ہونے والا ہے ،بلکہ مودی اور راہل کے درمیان طے ہے۔حقیقت اس سے کوسوں دورہے ،کیونکہ ملک کی اورشمالی ہند کی اہم ریاست اترپردیش اور بہار میں صورتحال مختلف ہے ،بی جے پی نے ان ریاستوں میں ایڑی چوٹی کا زورلگا دیا ہے ،لیکن بی ایس پی ،ایس پی اور آرایل ڈی اتحاد نے اس کی کمر توڑکررکھ دی ہے جبکہ بی جے پی نے کئی پرانے ممبران پارلیمنٹ کو موقعہ نہیں دیا اور نئے کھیپ سامنے لائی گئی جس کی وجہ سے بھی بھگوا پارٹی کے لیڈروںکو زیادہ ماتھاپچھی کرنا پڑرہی ہے۔
ملک کے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق لوک سبھا کے لیے انتخابی عمل جوکہ 11 اپریل سے شروع ہوچکا ہے ، 19 مئی تک جاری رہیگا اور ملک کے اس سب سے بڑے اتنخابی میلے کے نتائج کے لیے 23 مئی تک انتظار کرنا ہوگا ،اور سات مراحل میں طے کیے جانے والے عمل کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں رائے دہندگان کی تعداد خاصی بڑھ گئی ہے اوران میں نوجوان کا فیصد زیادہ ہے۔اس بار90کروڑ ووٹرز کو ووٹ دینے کا حق ہے ،لیکن پہلے مرحلے میں تمام تر کوشش کے باوجود دوریاستوں کو چھوڑکر 90نشستوں کی پولنگ میں 55-60فیصد ووٹرس نے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔
واضح رہے کہ ملک کی تاریخ میں گزشتہ انتخابات یعنی 2014 کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی تھی کہ تقریباً 30 سال بعد کسی جماعت اتنی واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی ،اس سے قبل 1985میں آنجہانی اندراگاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی کو یہ اکثریت حاصل ہوئی تھی۔اس کے بعد پچھلی بار جب گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی ”سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ ‘ کے نعرے کے ساتھ آگے آئے تو بی جے پی کو ایک ایسی پوزیشن حاصل ہوئی کہ حکومت کی تشکیل کے لیے اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں رہی تھی ،لیکن این ڈی اے کے اتحادیوں کو بی جے پی نے اپنے ساتھ رکھا اور آج بھی تقریباً 40چھوٹی بڑی علاقائی پارٹیاں اس کا دامن تھامے ہوئے ہیں اور کئی جگہ انتخابی سمجھوتہ بھی کیا گیا ،پہلی بار گزشتہ سال مدھیہ پردیش ،راجستھان،اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور تب ہی سے اس کی لیڈرشپ اور ہمنوا تنظیمیں اور جماعتیں طرح طرح کے حربے استعمال کرتی نظرآرہی ہیں۔
ہم اگر مودی کے پانچ سالہ دور پر نظر ڈالیں تو اس دور میں ملک میں اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کو جوکہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ بی جے پی نے پہلے ”سب کاساتھ سب کا وکاس “ کے ساتھ ساتھ اچھے دن آنے والے ہیں اور پھرمودی کا ” میں بھی چوکیدار“ کے نعرے کے ذریعہ بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ کیا گیا ،اس عرصہ میں اقلیتی فرقہ کے خلاف منصوبہ بند طریقہ زہر پھیلا گیا ،یوپی ،بہار،ہریانہ اور راجستھان میں ہجمومی تشدد کے ذریعہ مسلمانوں کو انتہاپسندی کا نشانہ بنایا گیا۔اکثریتی رائے دہندگان کو رچھانے کے لیے کئی شہروں اور علاقوں کے مسلم نام تبدیل کردیئے گئے اور شروعات نئی دہلی میں اورنگ زیب مارگ سے کی گئی ۔شہروںمیں مغل سرائے اور الہ آباد جیسے تاریخی شہر شامل ہیں۔نریندر مودی نے 2014کی انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ معیشت اور ملک کی صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے گا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکےں۔ زراعت اور دیہی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ لیکن 2014میں محض33 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی وعدے پورے کرنے میں ناکام نظرآرہی ہے اور نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو نافذ کرنے کے بعد اس دلدل می ںدھنسی ہوئی نظرآرہی ہے۔اقتصادی سطح پر ناکام مودی حکومت کشمیر کی پالیسی کے سبب بھی ناکام رہی ہے جبکہ پاکستان سے سرحد پر ہوئی جھڑپ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے ،ویسے بی جے پی کی کوشش رہی ہے کہ اسے انتخابی مدعا بنایا جائے ،لیکن رائے دہندگان کافی سمجھ دار ہیں۔اسی طرح بی جے پی نے باربری مسجد /رام مندر قضیہ میں اس بات کے لیے پورا زور لگا دیا کہ عدالتی فیصلہ الیکشن سے قبل آجائے اور اس پر خوب سیاست بپی کی گئی ہے ،لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاہے۔
ایک ناکامی یہ بھی گلے لگی ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران تمام تر کوششوں اور دعوؤں کے باوجود جی ڈی پی 7 فیصد کے اردگرد رہی ہے اور غریب اور امیر کے درمیان حلیج مزید بڑھ جانے سے تشویش اور فکرمندی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ مودی حکومت نے عالمی سطح پر اپنے نئے ہندوستان کو پیش کرنے کے لیے مسلسل دورے کیے اورایک انگریزی جریدے کے مطابق مودی کے ان دوروںپر دوہزار کروڑ سے زائد رقم خرچ کی گئی ہے۔ کسانوں کے لیے بہتر سے بہتر کرنے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی حکومت کے دورمیں ایک رپورٹ کے مطابق2013 کے بعد سے ہر سال 12 ہزار کسانوں نے خودکشی کی ہیں۔اور نومبر2018میں اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ان کے لیے رعایت اور سہولتوں کا اعلان کیا گیا۔ان وعدوں اور 60سال میں کچھ نہ کرنے کہ کانگریس پر عائد الزامات کے درمیان دوسری بڑی پارٹی کانگریس کی انتخابی مہم مودی کی ناکام پالیسیوں اور غریبوں سے کیے جانے بلندوبالا نئے وعدوں کے گرد گھومتی نظرآرہی ہے اور کانگریس ان ناکامیوں کو کس طرح ووٹوں میں بھناتی ہے اور مودی نے کتنے وعدے پورے کیے اور اپنی کرتب بازی میں کتنی کامیاب ہوئے ،اس کا جواب عوام کے پاس ہی ہے ۔اور امید ہے کہ وہ بہتر جواب دیں گے۔اتنا کہا جاسکتا ہے کہ مودی کا دوروعدوں اور کرتب بازی میں ہی صرف ہواہے۔

javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram