مرکزی وزیر ایم جے اکبر وطن واپس، جنسی استحصال کے الزام کی وجہ سے میل کے ذریعہ استعفیٰ بھیجا

نئی دہلی :می ٹو مہم کے تحت جنسی استحصال کے الزامات میں گھرے مرکزی وزیر ایم جے اکبر نائیجیریا کے دورے سے وطن واپسی پر اپنی خاموشی توڑہی دی۔ انہوں نے ای میل پر اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھی کہا کہ صفائی بعد میں دوں گا۔ لیکن میڈیا کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا، کیونکہ یہ معاملہ کافی دنوں سے گرمایا ہوا تھا، بس ایم جے اکبر کے لوٹنے کا انتظار تھا۔ بالآخر میڈیا کے سوالات کا جواب دیا۔ اکبر نے خود پر عائد کئے گئے سارے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے اس طرح کے الزامات لگانا ایجنڈہ ہوسکتا ہے۔ ایم جے اکبر نے کہا کہ وہ می ٹو کے تحت ان پر بے بنیاد الزامات لگانے والی خواتین کے خلاف کارروائی کریں گے۔
ہیش ٹیگ’ می ٹو‘مہم كے تحت ان پر کئی خواتین صحافیوں نے جنسی استحصال کے الزام لگائے ہیں جس سے ان کی کرسی پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ان کے ساتھ بطور انٹرن کام کر چکی ایک ٹیلی ویژن چینل کی صحافی کے الزام کے بعد ان پر دباؤ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے فی الحال اس معاملہ پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔کئی خواتین تنظیموں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ سے مسٹر اکبر کو عہدہ سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ایم جے اکبر نے کہا کہ ثبوت کے بغیر الزام لگانا وائرل فیور کی طرح بڑھ رہا ہے ، جو بھی معاملہ ہو ، اب میں لوٹ آیا ہوں ، میرے وکیل اس بے بنیاد معاملات کی جانچ کررہے ہیں اور میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کروں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest