پانی میں بھاری دھاتوں کا پتا لگانے والی تجربہ گاہ

سنگا پور: صرف پانچ منٹ میں پانی میں زہریلی بھاری دھاتوں کو موجودگی اور ان کی شدت ظاہر کرنے والا ایک انقلابی دستی آلہ سنگاپور میں تیار کرلیا گیا ہے۔عام طور پر پانی میں زہریلی دھاتوں کی مقدار معلوم کرنے کے لیے پانی کے نمونے تجربہ گاہوں میں بھجوائے جاتے ہیں جس میں بہت وقت لگتا ہے۔ لیکن یہ نیا آلہ اس کام کو تیزرفتار بناتے ہوئے صرف پانچ منٹ میں پانی میں موجود پارے، سیسے، آرسینک (سنکھیا) اور دیگر بھاری دھاتوں کی نشاندہی اور ان کی مقدار کو بھی ظاہر کرسکتا ہے۔ اس کی تیاری میں ماہرین نے عین انسانی جسم کے نظام کو مدِ نظررکھا ہے۔اسے تیار کرنے والی کمپنی کا نام واٹر پلائی ہے اور اگلے مرحلے میں اس آلے کو تجارتی پیمانے پر تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ آپٹیکل فائبر ہی اس سینسر کی جان ہیں جو بھارتی دھاتوں کو اپنے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ آپٹیکل تاروں میں سے لیزر گزرتی ہے اور جیسے ہی اس سے دھات کے سالمات جڑتے ہیں لیزر کی روشنی بدل جاتی ہے جس سے ماہرین پانی میں موجود دھات اور اس کی مقدار کا پتا لگالیتےہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest