نئے پرانے چراغ : تیسری محفل شعر وسخن

نئی دہلی:اردواکادمی،دہلی کے زیراہتمام بزرگ وجوان قلم کاروں کے سالانہ پروگرام نئے پرانے چراغ کے تیسرے دن محفل شعر وسخن کی صدارت بزرگ شاعر وقار مانوی نے کی اور نظامت کے فرائض جناب معین شاداب نے انجام دیے۔ مشاعرے میں تقریباً69 شعرانے اپنے کلام پیش کیے۔مشاعرے کے منتخب اشعارقارئین کے لیے پیش ہیں:
یہ حوصلہ سرِ دربار کرنے والے ہیں
کہ ہم غلامی سے انکار کرنے والے ہیں
(راشدجمال فاروقی)
دو سگی بہنوں سے دو گنجوں کی شادی ہوگئی
اور یہ بے زلف بھی ہم زلف کہلانے لگے
(احمد علوی)
زلف بر دوش اِدھر سے جو کبھی تو نکلے
راستے مہکیں بہت دیر سے خوشبو نکلے
(سرفراز احمد فراز دہلوی)
فضائوں میں اب زلزلہ چاہتا ہوں
میں جی بھر کے اب چیخنا چاہتا ہوں
(وفا اعظمی)
وہ سمجھ پائیں گے کیا مقصدِ تخلیق جہاں
جن کی پرواز ہی ناقوس و اذاں تک ہوگی
(قاری فضل الرحمن انجم)
تری تائید میں گونگا ہے انساں
مگر بے جان پتھر بولتا ہے
(ڈاکٹر راحت مظاہری)
پھولوں کے ہار ان کے گلے میں ہی ڈالیے
حق دار جو ہیں اصل میں فصلِ بہار کے
(وفا جھالوی)
تیری تقریر کی صورت تیرا کردار ہوجائے
یہ دریا چیز کیا ہے تو سمندر پار ہوجائے
(ثمر نورپوری)
وہ میرے ساتھ جو رہتا تو گھٹ کے مرجاتا
بچھڑ گیا ہے وہ مجھ سے مری خوشی کے لیے
(خان رضوان)
زاہری رکھ رکھائو اچھا ہے
لوگ ٹوٹے ہوئے ہیں اندر سے
(سلیم کاشف)
اس لیے آپ کو پانے سے میں کرتا ہوں گریز
قیمتی چیز کے کھوجانے کا ڈر رہتا ہے
(راجیو ریاض)
میں خود بے ہوش ہوجاتا ہوں ان کے سامنے آکر
یہ کمزوری تو ہے میری بھلا ان کی خطا کیا ہے
(مشفق بچھرایونی)
جس کی شیریں زبان ہے یارو
اس کا سارا جہان ہے یارو
(فقیرچند ناشاد دہلوی)
زندگی مت دکھا مجھے چہرہ
زخم تونے دیا بہت گہرا
(امبرجوشی)
تیرا فسوں غزل تری باتیں ردیف تھیں
تھی زندگی غزل تری یادیں ردیف تھیں
(نسیم بیگم)
تم نے ہی تو بولا تھا خاموش رہو
ایسے میں کچھ کہتا میں تو کہتا کیا
(رام شیا م حسین)
مسلسل پیار میں ظلم و ستم اچھے نہیں لگتے
نہ ہو غم میں خوشی شامل تو غم اچھے نہیں لگتے
(ابوذر نوید)
آنکھ میں کھلی آنکھوں سے اب دیکھ رہا ہوں
کچھ خواب میری نیند کی زد سے نکل آئے
(خالد اخلاق)
اذان عشق دب کر رہ گئی ہے
محبت کے یہاں مینار کم ہیں
(نورالعین قیصر)
اپنا محبوب دے دیا تونے
یہ ہے احساں ترا زمانے پر
(عاصم کرتپوری)
مری تاریک راتوں کا مقدر بن کے آجائو
مرے احساس کی گہرائیاں آواز دیتی ہیں
(اسما کرتپوری)
ان کے آنسو رکے ہی نہیں
حالِ دل جب سنایا گیا
(قاصر سہسوانی)
ہاتھ سے تلوار چھوٹی عشق آنکھوں سے گرے
دشمنوں کی بھیڑ میں جب دوست پہچانے گئے
(ڈاکٹر زاہد احساس)
ان سے کہہ دو کہ محبت سے جہاں کو جیتیں
اپنے ہاتھوں میں جو شمشیر لیے بیٹھے ہیں
(فخرالدین اشرف)
قضا کے خواب ہمیں اس قدر سہانے لگے
ہم اپنے ہاتھوں ہی اپنا گلا دبانے لگے
(سفیر صدیقی)
جس راہ سے گزرا ہوں یہی دیکھ سکا ہوں
ناداں کو گرانے میں سمجھ دار لگا ہے
(تسلیم دانش)
فاطمہ تم سے زیادہ ہے کسے اس کی خبر
خم جبینوں کا ضروری نہیں سجدہ ہونا
(رئیس فاطمہ)
علم و ہنر کا اس نے بخشا ہے وہ خزانہ
جو لٹ سکے نہ ایسی جاگیر دے گا باپ
(زینت دہلوی)
سیاست خاک میں سب کچھ ملاکے چھوڑ ے گی
یہ میرے دیش کی چولیں ہلا کے چھوڑے گی
(اسلم جاوید)
دھوپ جب گھر کی فصیلوں سے اتر جاتی ہے
وحشتِ شام دریچوں میں بکھر جاتی ہے
(نسیم رزّاق)
اس زمیں کے دامن میں رنگ مختلف سے ہیں
ٹیڑھے میڑھے حرفوں میں ایک ہم الف سے ہیں
(ناصر عزیز)
چار پیسے نہیں جوڑے اب تک
ہو چکی بیٹیاں سیانی بھی
(منوج شاشون)
پرایا شہر یہ سناٹے اجنبی گلیاں
چھڑا کے ہاتھ نہ جائو بڑا اندھیرا ہے
(دلشاد شاہجہاںپوری)

صدر مشاعرہ جناب وقار مانوی شمع مشاعرہ روشن کرتے ہوئے ساتھ میں دیگر شعرائے کرام۔
مشاعرے کے اسٹیج پر موجود شعرائے کرام

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest