میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج رنجن دیسائی کی ڈھٹائی

دفاع میں کہا:  انہوں نے سیکولرازم کے خلاف کچھ نہیں کہا ہے

شیلانگ: میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج رنجن دیسائی اب ڈھٹائی پر اترآئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک فیصلے میں ہندوستان کو ’ہندوراشٹر‘بنانے کے حق میں اپنے تبصرہ کا دفاع کرتے ہوئے میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج سدیپ رنجن سین اب ڈھٹائی پر اتر آئے ہیں۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلے میں اس طرح کا تبصرہ سیکولرازم کے خلاف نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ان کافیصلہ کسی بھی سیاسی نظریے سے متاثر نہیں ہے۔ جسٹس سین نے بدھ کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں کہاتھا کہ ’’ہندوستان کو تقسیم ہند کے بعد ہی اپنے ہندوراشٹر ہونے کااعلان کردینا چاہئے تھا۔‘‘وہ ایک فوجی رنگروٹ کی پٹیشن پر فیصلہ سنارہے تھے جسے میگھالیہ حکومت نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کردیاتھا۔ اپنے تحریری فیصلے میں ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی وکالت کرتے ہوئے جسٹس سین نے لکھا تھا کہ ’’میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کسی کو بھی ہندوستان کو ایک اور اسلامی مملکت بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ورنہ یہ ملک اور دنیا کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔‘‘ کئی سینئر وکیلوں اور سبکدوش ججوں نے جسٹس سین کے تبصرےکی مذمت کرتے ہوئے ان کے مواخذہ کا مطالبہ کیا ہے۔ سی پی ایم نے کہا ہے کہ ’’جسٹس سین نے ہندوراشٹر کے تعلق سے اپنے تبصرہ سے ظاہر کردیا ہے کہ ان کے نظریات آر ایس ایس سے ملتے جلتے ہیں۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest