غزل

مختصر یہ کہ جس ڈگر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
کیا بتاؤں کہ کس قدر دیکھا
دور گردش کا عمر بھر دیکھا
وہ جو اڑتا تھا آسمانوں پر
وقت بدل تو خاک پر دیکھا
کوئی سورج نکلنے والا ہے
خواب ہم نے یہ رات بھر دیکھا
بادشاہت اسی کو دی رب نے
جس کا کردار معتبر دیکھا

شاعرہ :میت بنارسی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *