میناؔ خان:سنجیدہ مزاج کی دلکش شاعرہ

ipp

تحریر :۔ افروز عالمؔ ۔( دبئی)
قرّۂ ارض پرانسان کے باشعور ہوتے ہی ایجادات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ آگ اور چاک سے شروع ہونے والے ایجادات کے اس سلسلے سے انسان نے ہر روز ایک نئے ذائقے کا لطف لیا ۔ اسی ذائقے نے انسانی معاشرے کو ہر نئے سورج کے ساتھ ایک زمانے کے نئے رخ سے روشناس کرایا ۔ پہلے غلام بنایا اور بعد میں مشین میں تبدیل کر دیا ۔روز وشب کے جدید ایجادات نے جہاں ایک طرف بنی نوع انسان کو بار‘ود کے ڈھیر پر بیٹھا رکھا ہے تو دوسری طرف آرام و آسائش کی فراوانی سے امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ پھر طبی علم نے نئی نئی ادویات بھی تلاش لئے ہیں ۔ مواصلات و ترسیلات کی برق رفتاری کا سلسلہ بھی حیرت انگیز طور پر دیدنی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ قریب چار صدی قبل مسیح یونان میں ایک بادشاہ تھا جس کے خیال میں آیا کہ دنیا کی ساری ریاستی حدود کو منسوخ کر دی جائے اورایک ہی بادشاہ اس نئی دنیا کا حکمراں ہو لیکن وہ بادشاہ اپنی سوچ کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکااور بھارت کے ایک عظیم بادشاہ کو بھارت میں اپنا گورنر مقرر کر کے یونان کے لئے واپسی کا رخ کیا ، اور راستے میں ہی اس دارِ فانی سے کو‘چ کر گیا۔ بادشاہ تو نہیں رہا لیکن وہ ایک عظیم خیال سے دنیا کو متعارف کراگیا۔ بہت دیر بعد سیاسی مفکروں اور دانشوروں نے اس خیال کو ’’عالم گیریت‘‘ کا نام دیا۔ چشم حیرت میں تغیرات و معجزات کا سلسلہ جاری رہا ‘ جس سے گذرتے ہوئے دنیا نے کئی ادوار دیکھے صدی در صدی شکست کھانے کے بعد سیاسی مفکر اس نتیجے پر پہنچے کہ طاقت کی بنیاد پر اس نظرئیے کی تکمیل ممکن نہیں، پھر طاقت کی جگہ فلسفہ نے لے لیا اور سائنس سے امداد مانگنے لگا۔ اس کے بعد سرحدیں تو اپنی جگہ قائم رہیں لیکن مواصلاتی نظام اور سیاسی سو‘جھ بو‘ جھ کی بدولت ان کی افادیت میں کمی آتی گئی۔ سائنس کے اسی کمالات نے انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کو جنم دیا جوکہ عالم گیریت کے راہ میں آنے والی کچھ رکاوٹوں کو اور کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ واضح رہے کہ انٹر نیٹ کے بغیر سوشل میڈیا کا ا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔ آج ہر ہاتھ میں موبائل اور ہر موبائل میں میڈیا موجود ہے۔ جس کی افادیت اور اہمیت سے ہم سب آشنا ہوچکے ہیں، قریب قریب آج سے ۲۵ سال قبل یہ آلہ اور یہ ذریعہ دونوں ہی ایک عام انسان کے لئے بالکل خواب کی طرح تھے۔ تمہیدی گفتگو قصداََ ذرا طویل ہو گئی ، دراصل اسی بہانے عالم گیریت کا مختصر پس منظر بھی بیان کرنے کا جی چاہ رہا تھا۔ کیونکہ آج کا مضمون جس صاحبِ قلم کے کمالِ فن کو بیان کرنے کے لئے میں رقم کر رہا ہوں ان سے میری ملاقات قریب چار سال قبل سوشل میڈیا کی بدولت ایک ادبی واٹس ایپ گروپ ’’ گلوبل وادیٔ سخن‘‘ کے ذریعہ ہوئی تھی ۔جہاں۱۷ ملک کے اہلِ قلم ہر شام سے دیر شام تک اُرد‘و زبان و ادب کی گفتگوسے سیراب و لطف اندوز ہوتے تھے۔اس واٹس ایپ گروپ میں اکثر آن لائن ادبی تقریبات منعقد ہوتی تھیں۔ جہاں محترمہ میناؔ خان اپنے خیالات کا اظہار کرتی تھیںاور اپنا کلام بھی پیش کرتی تھیں، یہی مشغلہ راقم الحروف کا بھی تھا ۔اس طرح محترمہ میناؔ خان کو سننے اور سمجھنے کا موقع نصیب ہوتا رہا۔ ناظم تقریب کے بیان کردہ مختصر تعارف کی بنا پر یہ پتہ چلا کہ محترمہ ایک قابل خاتون ہیں اور پیشے سے وکیل بھی ہیں، پھر خیال آیا کہ دنیا میں کوئی اتنا بھی شریف نہیں کہ کبھی اس کووکیل کی ضرورت نہ پڑے، اسی خیال سے میں نے دوستی بڑھانے میں عافیت جانا ۔ اچھے اشعار کی پیشکش سے ناظم کی بات بھی قبول کرنی پڑی ۔ پھر یوں ہوا کہ رفتہ رفتہ محترمہ سے ادبی رفاقت بڑھتی گئی۔
محترمہ نسیمہ خان کا ادبی نام میناؔ خان ہے ۔ ایک نام سے وکالت کرتی ہیں اور دوسرے سے شاعری و ادبی معاملات ۔ محترمہ میناؔ خان ایک شائستہ مزاج کی دلکش تخلیق کار ہیں۔ آپ نے اپنی سنجیدہ فکر اور حسنِ کلام سے اردو ادب کے منظر نامے پر اپنی پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کیا ہے ۔ شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ افسانہ بھی لکھتی ہیں۔ تاہم آپ کی تخلیقات میں غزل کا حصہ زیادہ ہے۔اس لئے اس مضمون میں ہماری کوشش ہوگی کہ زیادہ تر گفتگو آپ کی غزلوں کے حوالے سے ہی کی جائے۔ اگر گنجائش ملی تو شخصیت پر ہلکی سی روشنی ڈالی جائے گی ۔
دہلی کے مضافات میں نسبتاََ ایک چھوٹا سا شہر ہے غازی آباد، جہاں محترمہ مینا خان پیدا ہوئیں ، پلیں بڑھیں، پھر اُرد‘و زبان و ادب اور قانون کی ماسٹرڈگری سے سرفراز ہوکر گریٹر نویڈا میں منتقل ہو گئیںجہاں وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں ، فوج داری وکیل ( کرمنل لائر) ہونے کی وجہ سے موصوفہ کی ذہنی چستی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ گریٹر نویڈا اور غازی آباد دونوں ہی شہر دہلی کے مشرقی سرحد (علاقے) سے متصل ہیں ۔ اس لئے محترمہ کو ادبی حوالوں کے لئے، اہلِ دہلی کے خانے میں رکھنا مناسب ہوگا۔ دہلی پچھلی کئی صدی سے بھارت کا دار الحکومت ہے، اور قریب دو صدی سے اُرد‘و زبان و ادب کا اہم مرکز بھی۔ دہلی والے بے شک اس بات پر فخر کرنے کے حق د ار ہیںکہ ان کے پاس میرؔ کی نازکی اور غالب ؔکی شوخی و فلسفہ کے ساتھ ساتھ داغ ؔ کی زبان بھی ہے۔ اُرد‘و زبان و ادب کے حوالے سے دہلی کی اپنی ایک پہچان اور اہمیت کم سے کم اہل ِ اُ رد‘و کو بتانے کی ضرورت نہیں ۔ اسی دہلی کی بو‘د و باس محترمہ مینا ؔخان کی شاعری و شخصیت میں آپ محسوس کریں گے۔ آئیے پہلے ہم شاعرہ کے کچھ اشعار پر توجہ کرتے ہیں۔
زندگی ہم نے ترا ساتھ نبھانے کے لئے
تپتے صحرا میں بھی قدموں کے نشاں چھوڑے ہیں
چند لمحوں کی رفاقت مجھے منظور نہ تھی
عمر بھر اس کا نبھانے کا ا رادہ ہی نہ تھا
ان دو اشعار سے شاعرہ کی تعلیمی لیاقت ، پختہ فکر، مشقِ سخن، اور ذاتی زندگی میں جدو جہد کا اندازہ کچھ حد تک لگایا جا سکتا ہے۔ چار سال کی ادبی رفاقت میں محترمہ مینا خان کو میںنے جو کچھ سمجھا ہے اس تناظر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مذکورہ دونوں اشعار آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ حالانکہ محترمہ نے اپنے ارد گرد احتیاط کی ایک ایسی لکشمن ریکھا کھینچ رکھی ہے جس میں کسی کا داخل ہونا ممکن نہیں ہوسکتا۔ ساحل پر بیٹھ کر پر حول سمندر میں زیر آب اٹھنے والی موجوں کو محسوس تو کیا جا سکتاہے، منظر کا نظارہ بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی اصلیت کا اندازہ لگانا ذرا مشکل مرحلہ ہو تا ہے۔ آج کے اس مضموں میں ، میں خود بھی ساحل پر بیٹھ کر کسی طوفان کی شدد کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، فی زمانہ اس ہنگامہ خیز ادبی دور میں جہاں شاعرات اپنی خوش گلو آواز اور ہلکے پھلکے اشعار سے مشاعرہ لو‘ٹ رہی ہیں اور سامعین کے دل پر حکومت کرنے کا جتن کررہی ہیں، اسی ماحول میں میناؔ خان نے خالص ادبی اشعار رقم کرکے سنجیدہ قارئین کے ذہن و دل میں اپنی علمیت اور شخصیت کا اعتراف کروانے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ آج میناؔ خان ملک اور بیرون ملک کے مشاعروں میں بھی شرکت کرتی ہیں،اور سنجیدگی سے سماعت بھی کی جاتی ہیں۔
کچھ اہلِ قلم عربی اور فارسی کے کرخت الفاظ کا مرکب پیش کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تخلیق سے قارئین اور سامعین پر اپنی علمیت کی چھاپ چھوڑیں گے ، ان کے لئے کچھ عرض کرنے کا دل چاہ رہا ہے۔مستند نثار اور شہرۂ آفاق مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی ؔ نے کسی بشارت نامی خیالی کردار کے مزاحیہ خاکہ میں ایک جگہ رقم طراز ہیںکہ ’’ مولانا آزاد اپنی سن پیدائش اس طرح لکھتے تھے، یہ غریب الدیار ، عہد نا آشنائے عصر، بے گانۂ خیس، نمک پروردۂ ریش، خدائے حسرت کہ موسوم بہ احمد بدو بعدالکلام ۱۸۸۸ بمطابق ۱۳۰۵ ہجری میں ہستیٔ عدم سے اس عدم ہستی میں وارد ہوااور تہمت حیات سے مطہم ’’ مشتاق احمد یوسفیؔ پھر لکھتے ہیں’’ لوگ اب ایسانہیں لکھتے ہیں۔۔۔۔اس طرح پیدا بھی نہیں ہوتے ہیں۔۔‘‘ ( امید ہے اس اقتباس سے آپ ضرور محظوظ ہوئے ہوں گے)۔
مینا ؔ خان کی شاعری ایک سلجھی ہوئی ذہین شاعرہ کی بالکل ہی صاف ستھری شاعری ہے جس کے لئے نہ تو لُغت کی ضرورت ہے نہ کسی تفسیر کی۔ ذہن و دل پر گذرنے والی ہر کیفیت کو، اُرد‘و کی عام بول چال کی زبان میں، نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اشعار کے سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے ۔ یہ آپ بیتی جب جگ بیتی میں ڈھلنے لگتی ہے تو ہر قاری یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کے دل کی آواز ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تخلیق کار اپنے آپ کو کامیاب پاتا ہے۔
پلکوں پہ یہی خواب سجایا ہے کہ تم ہو
یہ سامنے میرے کوئی آیا ہے کہ تم ہو
دستک سی ہوئی جب بھی تو دروازے کو میں نے
ہر بار یہی سوچ کے کھولا ہے کہ تم ہو
عشق کرتے رہے اظہار کی ہمت نہیں کی
ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی زحمت نہیں کی
چشمِ تر میں بھی رہے اور بھرم بھی رکھ لے
ایسا ٹھہرا ہو ا دریا میں کہاں سے لاؤں
دنیا کی آدھی آبادی خواتین کی ہے۔خواتین کے اپنے مسائل ہیں، اپنا نظریہ ہے، سوچنے کا اپنا ایک الگ ڈھنگ ہے۔ چونکہ یہ سماج مردوں نے تشکیل دیا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ اس بات کو مردوں نے منوا لیا ہے کہ اس سماج کا تانا بانا ہم نے بنائے ہیں، اس لئے دنیا کا ہر ضابطہ ہم طے کریں گے۔ اسی ’ہم‘ کے بطن سے عو رتوں کے لئے گھٹن اور حبس کا ماحول بنا ، جہاں بے شمار ذہن اور دماغ خوبصورت پھول اور کلی کی طرح ہمارے اور آپ کے آنگن میں دیکھی جا سکتی ہیں، جو مردوں کی بنائی ہوئی دنیا میں رنگ و نور بھرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ محترم مقام پر فائز ہونے کے باوجود عورت اپنے آپ کو اپنے ہی گھر میں محفوظ محسوس نہیں کر رہی ہے اور ہر وقت اسے ذلیل ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اسی نظریہ اور گھٹن کے بطن سے کبھی اندرا گاندھی کا جنم ہوتا ہے تو کبھی مدر ٹیریسہ تو کبھی تسلیمہ نسرین پیدا ہوتی ہے کبھی پھولن دیوی وجود میں آتی ہے توکبھی کلپنہ چاولہ ۔۔۔۔
آج کا معاشرہ بہت حد تک عورت کو آزادی دے چکا ہے،آج عورتیں مردوں کی صف میںکھڑی ہوکر ہر وہ کام کر رہی ہیں جو سب کچھ مرد کر سکتے ہیں۔ لیکن اب بھی عورتوں کے احساسات و محسوسات مردوں سے ذرا مختلف معلوم ہوتے ہیں۔
ٹوٹے ہیں آئینوں کی طرح بار بار ہم
خود پر ہوئے ہیں جب بھی کبھی آشکار ہم
کہنے کو یوں توآپ سے شکوے ہزار تھے مگر
ہم نے کبھی خلافِ دل کوئی گلہ نہیں کیا
تیری ہنسی کا قرض چکانے کے واسطے
چھپ چھپ کے روتے رہتے ہیںزار و قطار ہم
مینا خان کی شاعری کا قرطاس ٹھیک ٹھاک پھیلا ہوا ہے، جس پر احساسات کے گل بوٹے ہمارے خیالات کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میناؔ خان اسی طرح سنجیدگی سے اپنا ادبی سفر جاری رکھیں گی۔ کچھ پڑھنے اور کچھ سننے کی بنیاد پر جو کچھ میں نے محسوس کیا ہے اس کو رقم کیا ہے ، مجھے امید ہے کہ آپ سب اس تحریر سے محترمہ میناؔ خان کی شاعری و شخصیت کا اندازہ لگانے میں کامیاب ہوں گے۔ مجھے ان کے شعری مجموعہ کا انتظار ہے تاکہ ان کی تخلیقی قوت اور ذہنی آزادی کا اندازہ ہو سکے ۔ ۔۔۔۔ میری طرف سے محترمہ میناؔ خان کے لئے نیک تمناؤں کے ساتھ بے شمار دعائیں ۔۔۔۔۔ اللہ کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مرحلے شوق کے پورے نہ ہوں کبھی ۔
افروز عالمؔ ۔( دبئی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest